کراچی(اسٹاف رپورٹر) استاد کی ریٹائرمنٹ کو5سال،جامعہ اردو نے فنڈز نہ دئے،دل کے دورہ،علاج کیلئے رقم نہیں،وفاقی اردو یونیورسٹی کے ریٹائرڈ اساتذہ اور ملازمین کی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس کراچی پریس کلب میں یونیورسٹی کی رکن سینیٹ مہناز رحمان کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں شعبہ عربی کے ریٹائرڈ پروفیسر ڈاکٹر قاری بدرالدین کو درپیش سنگین میڈیکل ایمرجنسی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر توصیف احمد خان، انسانی حقوق کمیشن کے خضر حبیب، کراچی یونین آف جرنلسٹس کے طاہر اے خان، انجمن اساتذہ کے ڈاکٹر عرفان عزیز اور یونیورسٹی کے ریٹائرڈ ملازمین نے شرکت کی۔ شرکاء نے یونیورسٹی کے چانسلر اور صدر پاکستان آصف علی زرداری، پروچانسلر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ قاضی المقتدر سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ پروفیسر ڈاکٹر قاری بدرالدین کے فوری علاج کی ضروریات کے لیے ان کے بعد از ریٹائرمنٹ فنڈز جاری کرنے کے احکامات صادر فرمائیں،تفصیلات کے مطابق پروفیسر ڈاکٹر قاری بدرالدین 4 نومبر 2020 کو چیئرمین شعبہ عربی کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے تھے اور ان کی ریٹائرمنٹ کو 5 سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال بقایاجات ادا نہیں کیے گئے۔ چند روز قبل قاری بدرالدین کو دل کا دورہ پڑا، جس پر معروف ہسپتال میں ہونے والی انجیو گرافی کے دوران ان کے دل کی شریانیں بلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ ڈاکٹرز نے انہیں فوری طور پر دل کا بائی پاس کروانے کی ہدایت کی ہے، جس کے لیے انہیں یونیورسٹی کے پاس موجود اپنے بقایاجات اور فنڈز کی فوری ضرورت ہے۔ کمیٹی ارکان کا کہنا ہے کہ اگر ان کا علاج فوری طور پر نہ کروایا گیا تو ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ریٹائرڈ اساتذہ اور ملازمین کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر توصیف احمد خان نے کہا کہ یونیورسٹی کے پینشن فنڈ میں اس وقت بھی ایک ارب روپے سے زائد کی رقم موجود ہے، لیکن وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شینواری اس فنڈ میں سے پینشن اور ملازمین کے بقایاجات ادا نہ کرکے ایک بڑا انسانی المیہ پیدا کر رہے ہیں۔