پشاور(ارشد عزیز ملک ) غیر قانونی فاسفیٹ کان کنی سےخزانے کو 74کروڑروپے کا نقصان، زرگل کے خلاف الزامات درست ، نیب کی تحقیقات کاآغاز،ملزم 8 سال تک غیرقانونی کام کرتا رہا،نیب نے انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت ریفرنس دائر کر دیا ،مقدمے کی سماعت جلد شروع ہونے کا امکان، قومی احتساب بیورو (نیب) خیبر پختونخوا کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ایبٹ آباد کے علاقے کاکول میں مبینہ غیر قانونی فاسفیٹ کان کنی کے نتیجے میں قومی خزانے کو 74 کروڑ سے 84 کروڑ 80 لاکھ روپے تک کا نقصان پہنچا ہے، جبکہ قیمتی جنگلات کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑا۔نیب ذرائع کے مطابق کاکول کے رہائشی زر گل خان کے خلاف مقامی افراد نے شکایت درج کرائی تھی کہ وہ جنگلاتی اراضی سے غیر قانونی طور پر فاسفیٹ نکال کر مختلف کھاد ساز کارخانوں کو فروخت کر رہے ہیں۔ شکایت کی ابتدائی جانچ کے بعد الزامات درست پائے گئے جس پر نیب نے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کیا۔تحقیقات میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ 2010 سے 2018 تک محکمہ معدنیات کے بعض اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے جنگلاتی علاقے سے لاکھوں روپے مالیت کا فاسفیٹ نکالا گیا۔