ٹوکیو (عرفان صدیقی)پی آئی اے کی نئی اڑان کی تیاری، گراؤنڈ طیارے بحال اور عالمی روٹس کی واپسی ترجیح ۔ عارف حبیب نے جنگ سے گفتگو میں کہا کہتین سے چھ ماہ کے دوران مزید نئے طیارے بھی بیڑے میں شامل کئے جائیں گے۔ معروف کاروباری شخصیت اور پی آئی اے کو خریدنے والے کنسورشیم کے سربراہ عارف حبیب نے اعلان کیا ہے کہ وہ 15جون سے قومی ایئرلائن کا انتظام سنبھالنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ان کی پہلی ترجیح پی آئی اے کو دوبارہ ایک فعال، مضبوط اور منافع بخش ایئرلائن بنانا ہوگی۔جنگ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عارف حبیب نے کہا کہ قومی ایئرلائن کے متعدد طیارے مختلف وجوہات کی بنا پر گراؤنڈ ہیں جنہیں فوری بنیادوں پر مرمت اور تکنیکی بحالی کے عمل سے گزار کر دوبارہ آپریشنل کیا جائے گا۔ پی آئی اے کے موجودہ بیڑے کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ آئندہ تین سے چھ ماہ کے دوران مزید نئے طیارے بھی بیڑے میں شامل کئے جائیں گے تاکہ پروازوں کی تعداد اور آپریشنل صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پی آئی اے ماضی میں دنیا کے مختلف اہم شہروں تک پروازیں چلاتی تھی، تاہم مالی مشکلات، آپریشنل مسائل اور دیگر وجوہات کے باعث متعدد بین الاقوامی روٹس بند یا محدود ہو گئے۔ نئی انتظامیہ کی کوشش ہوگی کہ قومی ایئرلائن کو دوبارہ خطے اور دنیا کی اہم فضائی منڈیوں میں فعال بنایا جائے۔عارف حبیب نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مسافروں کو بہتر سہولیات، بروقت پروازوں اور عالمی معیار کی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ پی آئی اے کی ساکھ کی بحالی اور ادارے کو مالی طور پر مستحکم کرنا مستقبل کے منصوبے کا بنیادی حصہ ہوگا۔ ماضی میں بند کئے گئے تمام اہم بین الاقوامی روٹس کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور جہاں تجارتی و آپریشنل بنیادیں موجود ہوں گی وہاں پروازیں دوبارہ شروع کی جائیں گی۔ اس ضمن میں جاپان، جنوبی کوریا اور فلپائن جیسے اہم ایشیائی روٹس خصوصی توجہ کا مرکز ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ممالک میں پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد موجود ہے جبکہ کاروباری، تجارتی اور سیاحتی سرگرمیوں کے باعث ان روٹس کی بحالی کی گنجائش بھی موجود ہے۔