تہران/واشنگٹن (اے ایف پی /نیوزڈیسک )لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر اسرائیلی بمباری جاری ‘2افرادشہید‘چار بچوں سمیت 20زخمی ‘ایران کا صبر ختم ‘جنگ بندی کے بعد پہلی بار اسرائیل پر میزائل برسادیئے ‘حیفہ کے قریب واقع رامت ڈیوڈ ایئر بیس کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا‘ اسرائیل بھرمیں سائرن بج اٹھے ‘ آج اسکول بند رکھنے کا اعلان ‘ عراق اور شام کی فضائی حدود بند‘ایران نے بھی ملک کے مغربی حصے کی فضائی حدود بند کر دیں‘ادھر صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ میں ایران کو یہی مشورہ دوں گاکہ آپ نے میزائل داغ دیئے ہیں ‘اب بس بہت ہو گیا۔ واپس میز پر آئیں اور معاہدہ کریں‘ میں نہیں چاہتاسفارتی عمل تباہ ہوجائے ۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکی صدر اوراسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہوکے درمیان ٹیلی فونک گفتگو ہوئی ہےجس میں ٹرمپ نے انہیں ایران کے خلاف جوابی کارروائی نہ کرنے کا مشورہ دیا ۔ پاسداران نے متنبہ کیاکہ یہ ایکشن محض وارننگ تھا ‘اگر جارحیت کا اعادہ کیا گیا تو وسیع تر جوابی کارروائی ہوگی اور خطے میں امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایاجائےگا۔ایرانی فوجی مرکزی کمان نے اتوار کے روز کہا ہے کہ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر اسرائیل کے حالیہ حملے نے تمام سرخ لکیریں عبور کر دی ہیں‘اسرائیل لبنان میں فوجی مہم روکے ۔دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران نے میزائل داغ کر سنگین غلطی کی ہے ‘لبنان میں فوجی مہم جاری اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں تیز کی جائیں گی ۔ ایک سینئر ایرانی ذریعے کے مطابق ایران کسی بھی اسرائیلی حملے کا جواب دگنی طاقت سے دے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کی جانب سے لبنان میں جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں پر ایران کے جواب کے بعدفرانس ‘قطر ‘برطانیہ ‘ترکیہ کے وزرائے خارجہ اورپاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی بات کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق لبنان کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں میں تیزی اور بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں بمباری کے بعد ایران نے بھی اسرائیل پر میزائلوں کی بوچھاڑ کردی ۔پاسداران انقلاب کے مطابق حیفہ کے قریب واقع رامت ڈیوڈ ایئر بیس کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے‘یہ اسرائیلی فضائی اڈہ جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کے خلاف کی جانے والی جارحیت کا منبع تھا۔ادھر اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے اب تک ایران کی طرف سے داغے گئے تمام میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا ہے جبکہ ساتھ ہی یہ انتباہ بھی جاری کیا ہے کہ تہران نے میزائلوں کی ایک اورلہر داغ دی ہے۔اسرائیلی فوج کی ہوم فرنٹ کمانڈ نے کہا ہے کہ میزائل داغے جانے کے بعد آج پیر کے روز ملک بھر میں اسکول بند رہیں گے۔پاسداران انقلاب نے خبردارکیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملے جاری رہنے کی صورت وسیع تر جوابی کارروائی ہوگی ۔آئی آرجی سی کے مطابق اس نے امریکا کے ساتھ اس شرط پر جنگ بندی قبول کی تھی کہ یہ تمام محاذوں پر جنگ بندی ہوگی لیکن اس کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل لبنان میں حملے کر کے اور ہرمز، بحیرہ عمان اور بحر ہند میں ایرانی ساحلوں اور بحری جہازوں پر بار بار حملے کر کے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے عزم کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی برقرار رکھی ہے اور جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے کی طرف جاری مذاکرات کے باوجود حالیہ دنوں میں ایران کے ساتھ یکے بعد دیگرے جوابی حملے کیے ہیں۔ادھر فاکس نیوز کو انٹرویو میں صدرٹرمپ کا کہنا تھاکہ میں ایران کو یہی مشورہ دوں گاکہ آپ نے اپنے میزائل داغ دیے ہیں‘اب بس بہت ہو گیا۔ واپس میز پر آئیں اور معاہدہ کریں۔میں تو یہ کہہ رہا تھا کہ پیر، منگل یا بدھ تک معاہدہ دستخط ہو جائے گا اور اب یہ واقعہ ہو گیا ہے۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ بیروت پر ہونے والے اسرائیلی حملوں سے خوش نہیں تھے۔علاوہ ازیں ٹرمپ نے امریکی نیوز ویب سائٹ Axios سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ایرانی حملوں سے کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔ امید ہے کہ اسرائیل جوابی کارروائی نہیں کرے گا۔اگرنتن یاہونے ان پر دوبارہ جوابی حملہ کیا تو یہ سلسلہ بالکل اسی طرح چلتا رہے گا جیسے پچھلے 47 سالوں سے یا پچھلے 3000 سالوں سے چل رہا ہے۔ٹرمپ نے بتایاکہ وہ ابھی نتن یاہو کو کال کرنے جا رہے ہیں اور انہیں جوابی حملہ نہ کرنے کا کہیں گے۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے ایران کے ساتھ معاہدہ طے کرنے کے بہت قریب تھے اور انہوں نے مزید کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ اسرائیل پر ایران کے حملے کی وجہ سے یہ سفارتی عمل تباہ ہو جائے۔