• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خیبر پختونخوا رورل ایکسی سیبلٹی پراجیکٹ میں مبینہ بے قاعدگیاں، 10 ارب کا نقصان

پشاور (ارشد عزیز ملک) خیبر پختونخوا رورل ایکسی سبیلٹی پراجیکٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں، غیر قانونی ٹھیکوں کی الاٹمنٹ، زائد نرخوں اور جعلی دستاویزات کے ذریعے قومی خزانے کو مبینہ طور پر 10 ارب روپے کے نقصان کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق منصوبے کا ابتدائی پی سی ون 69 ارب روپے میں منظور کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں اس کی لاگت بڑھا کر 112ارب روپے کر دی گئی۔قومی احتساب بیورو (نیب) خیبر پختونخوا کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ منصوبے کی ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے، جس میں بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں کے سراغ ملے ہیں۔خیبر پختونخوا رورل ایکسیسبیلٹی پراجیکٹ محکمہ سی اینڈڈبلیو کے تحت عالمی بینک کے مالی تعاون سے چلایا جا رہا ہے۔نیب ذرائع کے مطابق ادارہ اس وقت این آئی ٹی ون اور این آئی ٹی ٹو کے تحت دیے گئے ٹھیکوں کا جائزہ لے رہا ہے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 50 ارب روپے بتائی گئی ہے۔ ان منصوبوں پر تعمیراتی کام جاری ہے اور کئی منصوبے تکمیل کے قریب ہیں جبکہ این آئی ٹی تھری بھی حال ہی میں ایوارڈ کیا گیاہے۔ نیب ان الزامات کی بھی تحقیقات کر رہا ہے کہ بعض ایسے ٹھیکیداروں کو منصوبے دیے گئے جو مطلوبہ اہلیت پر پورا نہیں اترتے تھے۔ذمہ دار ذرائع کے مطابق بولیاں ایم آر ایس 2022 کے مقابلے میں انتہائی زیادہ نرخوں پر منظور کی گئیں، جس سے قومی خزانے کو 10 ارب روپے سے زائد نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید