ملتان (سٹاف رپورٹر)پنجاب کے میڈیکل کالجز میں فیکلٹی کی قلت تعلیم اور صحت کا نظام خطرے میں، حکومت سے فوری ایکشن کا مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے پنجاب کے سرکاری میڈیکل کالجز اور تدریسی ہسپتالوں میں سینئر رجسٹرار۔اسسٹنٹ پروفیسر اور پروفیسر کی سطح پر خالی اسامیاں ہیں۔ طبی تعلیم اور مریضوں کی دیکھ بھال دونوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ذرائع کے مطابق متعدد میڈیکل کالجز میں پروفیسر اور ایسوسی ایٹ پروفیسر کی سیٹیں برسوں سے خالی پڑی ہیں، جبکہ سینئر رجسٹرارز کی تعیناتیوں میں تاخیر کا عالم یہ ہے کہ ایک سینئر ڈاکٹر کو تین چار شفٹوں میں کام کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کا براہِ راست نقصان طلبہ اور مریضوں دونوں کو ہو رہا ہے۔ایک فائنل ایئر کی طالبہ نے بتایا ہمیں کلینکل راؤنڈز میں کوئی سینئر فیکلٹی نہیں دکھائی دیتی۔ زیادہ تر لیکچر جونیئر ڈاکٹرز یا انٹرنیز دے رہے ہوتے ہیں۔ جواب تک نہیں ملتا کہ ہمیں ریئل لائف ایمرجنسی میں کیسے فیصلہ لینا ہے۔ ہم مستقبل میں ڈاکٹر بن کر نکلیں گے، لیکن عملی طور پر کچھ نہیں جانتے ہوں گے۔ماہرین تعلیم کے مطابق جب تک تجربہ کار فیکلٹی طلبہ کو کیس پر مبنی تربیت نہیں دے گی، تب تک معیاری ڈاکٹر تیار نہیں ہو سکتے۔ موجودہ صورتحال میں پنجاب بھر سے گریجویٹ ہونے والے ڈاکٹرز ʼنیم تعلیم یافتہʼ قرار دیے جا سکتے ہیں۔تدریسی ہسپتالوں میں سینئر رجسٹرار اور اسسٹنٹ پروفیسر کی غیر موجودگی میں مریضوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ ایمرجنسی اور آئی سی یوز میں انتہائی اہم فیصلے جونیئر ڈاکٹرز پر چھوڑ دیے جاتے ہیں، جو اکثر غلطیوں کا باعث بن رہے ہیں۔