کراچی (نیوز ڈیسک) واشنگٹن نے امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کا باضابطہ مسودہ جاری کردیا جس میں فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل طورپر جنگ ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے‘ معاہدے کے تحت فریقین ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کریں گے اور اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گےجبکہ 60 روز کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی‘ اس دوران موجودہ صورتحال برقرار رہے گی‘امریکا ایران کا بحری محاصرہ ختم کرے گااور30دنوں کے اندرایران کے قریبی علاقوں سے اپنے فوجی ہٹالے گا‘تجارتی جہازوں کو بغیر کسی فیس کے 60روز تک آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہوگی جس کے بعد تہران عمان کے ساتھ ملکر ہرمز میں مستقبل کے انتظامات پر بات چیت کریگا‘ ایران کی معاشی ترقی اور تعمیر نو کیلئے علاقائی ممالک اور شراکت داروں کے ساتھ 300ارب ڈالر کا منصوبہ بنایاجائیگا‘ تہران پر عائد تمام پابندیاں ختم اور مالیاتی پابندیوں میں نرمی کی جائے گی‘ معاہدے کےتحت ایران جوہری ہتھیار حاصل کریگا نہ بنائے گا‘افزودہ یورینیم کو پتلا (Dilute)کیا جائے گا‘ایران کے منجمداثاثے جاری کئے جائیں گے ‘معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کیلئے ایک میکانزم بنایاجائے گا‘ حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے لی جائے گی ۔تفصیلات کے مطابق بدھ کو اعلیٰ امریکی عہدیدار نے امریکا ایران مفاہمتی یاد داشت کے 14نکات کو صحافیوں کے سامنے پڑھ کر سنایا۔1۔ امریکہ اور ایران، اور ان کے اتحادی اس جاری جنگ میں اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرتے ہوئے تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہیں، جس میں لبنان سمیت تمام محاذ شامل ہیں، اور اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف کوئی جنگ یا فوجی کارروائی شروع نہیں کریں گے، نہ ہی طاقت کے استعمال یا دھمکی سے کام لیں گے، اور لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کو یقینی بنائیں گے۔ 2۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔ 3۔ دونوں فریق زیادہ سے زیادہ ۶۰ دن کے اندر حتمی معاہدہ کرنے پر متفق ہیں، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع ممکن ہوگی۔