اسلام آباد (مہتاب حیدر/تنویر ہاشمی) وفاقی حکومت صارفین سے بجلی کے بلوں کے ذریعے سالانہ 620 ارب روپے سے زائد ٹیکس کما رہی ہے، جبکہ ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان کی نگرانی، آڈٹ اور جانچ پڑتال کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ’’نیشنل فیس لیس ٹیکس سسٹم‘‘ یکم اکتوبر 2026 سے مرحلہ وار نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔80فیصد مہنگی جائیدادیں گوشواروں سے غائب، 750 ارب روپے کے ڈپازٹس رکھنے والے ہزاروں افراد کی آمدن صفرہے۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بدھ کے روز بریفنگ دیتے ہوئے ایف بی آر حکام نے بتایا کہ بجلی کے بلوں پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (GST) اور مخصوص صارفین سے ودہولڈنگ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، جس کی مجموعی سالانہ وصولی تقریباً 620 ارب روپے بنتی ہے۔