انصار عباسی
اسلام آباد:…وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان اختلافات سے متعلق قیاس آرائیوں کو راولپنڈی اور اسلام آباد میں موجود دونوں جانب کے ذرائع نے سختی سے مسترد کر دیا ہے، جبکہ دونوں طرف کے اہم افراد کا کہنا ہے کہ دونوں شخصیات کے درمیان تعلقات مضبوط اور حالیہ مہینوں میں مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ سویلین اور عسکری قیادت کے درمیان مبینہ اختلافات کی افواہیں گزشتہ چند روز سے سیاسی اور میڈیا حلقوں میں گردش کر رہی تھیں۔ ان قیاس آرائیوں کو ایک ایسے حکومتی سینیٹر کے بیانات سے تقویت ملی جنہیں پنڈی اور آبپارہ میں اپنے قریبی روابط کے باعث پہچانا جاتا ہے۔ بعض اخباری کالموں میں ’’سب کچھ ٹھیک نہیں‘‘ جیسے تبصرے سامنے آئے، جبکہ میڈیا مباحثوں میں ایسی معلومات کا بھی ذکر سامنے آیا جو بعض صحافیوں کے مطابق منگل کو سینئر سکیورٹی حکام کی بیک گراؤنڈ بریفنگ سے حاصل کی گئیں۔ ان خبروں کے بعد یہ بحث بھی شروع ہو گئی کہ آیا اسٹیبلشمنٹ حکومت کی کارکردگی سے ناخوش ہو گئی ہے۔ ایک وفاقی وزیر، جنہیں عموماً اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھا جاتا ہے، نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام کے ذریعے ان تاثرات کو زائل کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کرے گی، تاہم افواہیں برقرار رہیں۔ دی نیوز نے دونوں جانب کے اہم افراد سے رابطہ کر کے ان دعووں کی تصدیق کی۔ کسی بھی جانب سے وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل کے درمیان اختلافات کی کوئی براہِ راست یا بالواسطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ راولپنڈی کے ذرائع نے اس نمائندے کو سینیٹر کے بیانات کو نظر انداز کرنے کا مشورہ دیا اور اِن خبروں کو بے بنیاد قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں جانب کے تعلقات بدستور خوشگوار اور مربوط ہیں۔ ایک ذریعے نے کہا کہ تعلقات پہلے کی طرح بالکل شاندار (پرفیکٹ) ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سویلین اور عسکری قیادت کے درمیان قریبی ہم آہنگی کا ثبوت ایک مرتبہ پھر جلد سامنے آئے گا جب وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر جنیوا میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے پر دستخط کی تقریب کی میزبانی کیلئے جائیں گے۔ اسلام آباد میں سویلین قیادت کے سینئر افراد نے بھی ان خبروں کو دوٹوک انداز میں مسترد کیا اور کہا کہ وزیرِ اعظم اور آرمی چیف کے درمیان اختلافات کی قیاس آرائیوں میں کوئی صداقت نہیں۔ ذرائع کے مطابق، شہباز شریف اور عاصم منیر کے درمیان تعلقات حالیہ مہینوں میں اہم قومی، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر قریبی تعاون کے باعث مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ ایک سینئر سرکاری ذریعے نے کہا کہ ان خبروں میں کوئی حقیقت نہیں، دونوں رہنماؤں کے درمیان تعلقات پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں۔