• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تعطیلات: بچوں کی تخلیقی صلاحیتیں، اخلاق نکھارنے کا سنہری موقع

افروز عنایت

بچّوں کی موسمِ گرما کی تعطیلات شروع ہوتے ہی بالخصوص ماؤں کی پریشانی بڑھ جاتی ہے اور اکثر ماؤں کے منہ سے یہ جُملے سُننے کو ملتے ہیں کہ ’’اُف اللہ! بچّوں نے سارا گھر سَر پہ اُٹھارکھا ہے… ابھی صفائی کی تھی، پھر سارا گھر گندا کردیا… خدارا! اس موبائل فون کی جان چھوڑو اور کوئی کام نہیں تم لوگوں کے پاس…اسکول کُھلیں، تو جان چُھوٹے۔‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ اکثرمائیں اس غُل غپاڑے سے عاجز آکر بچّوں کو ڈانٹتی، مارتی بھی ہیں، جو کہ بالکل غلط طرزِ عمل ہے، کیوں کہ بچّے اگر شرارت نہ کریں، توپھر تووہ بچّےہی نہیں۔

اُن کی ہلکی پُھلکی، معصومانہ شرارتوں ہی سے تو گھروں کی رونق قائم ہے اور ویسے بھی عام دِنوں میں اسکول آنے جانے کا وقت مِلا کر وہ چھے سے سات گھنٹے گھر سے باہر رہتے ہیں اور پھر اسکول جانے کی تیاری کے لیے اُنہیں علی الصباح بےدار ہونا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے اُن کی نیند بھی پوری نہیں ہو پاتی۔ 

نتیجتاً، گھر آنے کے بعد وہ اس قدر تھک جاتے ہیں کہ اُن میں شرارتوں، کھیل کُود اور دیگر سرگرمیوں کے لیے ہمّت و طاقت ہوتی ہے اور نہ ہی وقت بچتا ہے، جب کہ اس کےبرعکس موسمِ گرما کی تعطیلات کے دوران وہ مکمل طور پر فارغ ہوتے ہیں۔ اُنہیں صبح سویرے بےدار ہونا پڑتا ہے اور نہ ہی ہوم ورک کی کوئی ٹینشن ہوتی ہے۔

لہٰذا، اگر اُنہیں اس عرصے میں والدین کی رہنمائی حاصل نہ ہو، تو وہ اپنا سارا دن کھیل کُود اور شرارتوں ہی میں گزار دیتے ہیں اور ماؤں کو مذکورہ بالا صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سو، موسمِ گرما کی تعطیلات کو مثبت اور مفید بنانے کے ضمن میں والدین کو بچّوں کےلیےکوئی نہ کوئی لائحہ عمل ضرورتیارکرنا چاہیے اوراس ضمن میں کچھ پیشگی انتظامات بھی ضرور کرنے چاہئیں تاکہ اِس عرصےمیں مائیں پُرسکون اور بچّے خوش رہیں۔

عموماً سمجھ دار مائیں گرمیوں کی چُھٹیوں سے قبل ہی ایسی منصوبہ بندی کرلیتی ہیں کہ اِس عرصے میں بچّے کچھ مفید باتیں اور کام ضرور سیکھ سکیں اور اُن کا وقت بھی خوش گوار ماحول میں گزرے۔ گرچہ چُھٹیوں کا آغاز ہوئے مہینہ بھر ہونے کو ہے، تاہم زیرِ نظر مضمون میں چند ایسی تجاویز پیش کی جا رہی ہیں کہ جن پر عمل درآمد کر کے کم ازکم بقیہ تعطیلات کو تو بچّوں کے لیے مفید اور کارآمد بنایا جاسکتا ہے۔

بچّوں کو نماز کے لیے قرآنی سورتیں یا روزمرّہ کی چھوٹی چھوٹی دُعائیں، اذکار یاد کروانے کے لیے موسمِ گرما کی طویل تعطیلات سےزیادہ بہتر موقع اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ ہماری پوتی اور نواسی نے گزشتہ تعطیلات میں کچھ مختصر سورتوں کے علاوہ سورۂ بقرہ اورسورۂ حشرکےآخری رکوع بھی حفظ کرلیےتھے، جب کہ چھوٹے بچّوں کو ان تعطیلات میں نہ صرف نماز پڑھنا سکھائی جاسکتی ہے بلکہ اُنہیں بآسانی نمازکا پابند بھی بنایا جا سکتا ہے، خصوصاً لڑکوں کومسجد جانے کی عادت ڈالیں۔

نیز، سچ بولنے، صفائی رکھنے، بڑوں کا احترام کرنے اور دوسروں کی مددکی عملی تربیت دیں۔چھوٹے بچوں کو اپنے کپڑے تہہ کرنے، جوتے ترتیب دینے اور دسترخوان لگانے جیسے کاموں کا عادی بنائیں،پودوں کو پانی دینا سکھائیں اور بڑی عمر کے بچوں کو کچن میں ہلکی پھلکی کوکنگ یا بیکنگ کی تربیت دیں۔ بچوں کو معلوماتی اور تاریخی مقامات یا میوزیم کی سیر پر لے جائیں تاکہ اُن کے علم میں اضافہ ہو۔

دادا، دادی، نانا، نانی اور دیگر رشتے داروں سے میل ملاقات کا وقت نکالیں تاکہ بچّوں میں خاندان سے محبت و قربت بڑھے۔ دیکھا گیا ہے کہ عموماً بچّے تعطیلات کے دوران ہی بہت سی نئی چیزیں سیکھ جاتے ہیں، تو کیوں نہ ہم بھی اِن لمحات کو بچّوں کے لیے اِسی طرح یادگار اور کارآمد بنائیں۔

ہم اپنے بچپن پر نظر ڈالتے ہیں، تو یاد آتا ہےکہ ہمارے اماں ابّا توموسمِ گرما کی تعطیلات سے قبل ہی سیر و تفریح کے مختلف پروگرامز بنا لیتے تھے۔ عموماً پندرہ بیس روز تک پاکستان کے خُوب صُورت،پُرفضا مقامات کی سیر سےسال بَھر کی تھکن دُور ہوجاتی تھی۔ پھر ہمارے والدین کو کُتب بینی کا بھی شوق تھا، لہٰذا چھٹیوں کا آغاز ہوتے ہی گھر میں بچّوں کی کہانیوں کی کُتب کا ڈھیرلگ جاتا۔

اُن میں سے بیش ترکتب دینی واصلاحی کہانیوں پرمشتمل ہوتیں، جو فرصت کے لمحات میں بہترین ساتھی ثابت ہوتیں۔ یہ کُتب نہ صرف ہماری معلومات میں اضافے کا سبب بنتیں بلکہ کردارسازی کے لیے بھی بہت مفید ثابت ہوتیں۔ علاوہ ازیں، ہمیں روزانہ رات دیر تک پیارے نبیٔ کریم حضرت محمّدﷺ اور صحابہ کرامؓ کی زندگی کے واقعات سُنائے جاتے تھے۔

چوں کہ ہمیں اپنے والدین کا یہ انداز بہت پسند تھا، لہٰذا ہم نے بھی اپنے بچّوں کے لیے یہی طریقہ اپنایا اور الحمدُللہ اس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہمارے گھرانے میں یہ حسین روایت آج بھی قائم ہے۔ تعطیلات کے دوران جب پوتے، پوتیاں، نواسے، نواسیاں جمع ہوتے ہیں، تو ہم خُود یا ان کی مائیں کھیل ہی کھیل میں اُنہیں مضمون نویسی، جملے بنانا اور اسلامی واقعات سُنانے کے ساتھ کسوٹی جیسے ذہنی آزمائش کے کھیلوں میں شامل کرتی ہیں۔

آپ اپنے بچّوںپر روزانہ کم سے کم ایک گھنٹے کے لیے اُردو یا انگریزی زبان میں دینی و عمومی کہانیاں پڑھنا لازم کردیں تاکہ اُن کی زبان اور ذخیرۂ الفاظ بہتر ہو یا چھوٹے بچّوں کو خُود پڑھ کرسُنائیں۔ ہمارا ذاتی تجربہ ہےکہ اِس قسم کی سرگرمیوں میں بچّے نہ صرف دِل چسپی بلکہ بڑھ چڑھ کےحصّہ لیتےہیں اوراِس طرح اُن کی معلومات میں خاطرخواہ اضافہ ہوتا ہے، تو کردار سازی کا عمل میں بھی بخوبی انجام پاتا ہے۔

علاوہ ازیں، موسمِ گرما کی تعطیلات کے دوران اکثر بچیوں کی مائیں اُنہیں کھانا پکانا، سلائی کڑھائی اور گھر گرہستی کے دیگر امور بھی سکھاسکتی ہیں۔ جن بچّوں کوآرٹ اینڈ کرافٹ کا شوق ہو، اُن کے والدین کو چاہیے کہ وہ اُن کے لیے ڈرائنگ، پینٹنگ وغیرہ کے سامان کا انتظام کریں۔

اِس طور ایک تو اُن کی تخلیقی صلاحیتیں اجاگرہوں گی۔ وقت کا مثبت استعمال ہوگا، تو ساتھ آپ کو یہ جاننے میں بھی خاصی مدد ملےگی کہ آپ کے بچّے درحقیقت کیا سوچتے، سمجھتے ہیں۔ پھر بچّوں کو اُن کی دل چسپی کے مطابق انگلش لینگویج، کمپیوٹر کوڈنگ یا آرٹ اینڈ کرافٹ کے کورسز بھی کروائے جا سکتے ہیں۔

بچوں کا اسکرین ٹائم بالکل محدود کردیں، اُنھیں بلاگنگ، ڈرائنگ یا کہانیاں لکھنے جیسے تخلیقی کاموں کی طرف راغب کریں۔ شدید گرمی کے اوقات میں گھر کے اندر لڈو یا کیرم بورڈ کھیلیں اور شام کو پارک میں کرکٹ، فٹ بال یا سائیکلنگ کے لیے بھیجیں۔ اگر ممکن ہو تو بچوں کو تیراکی، مارشل آرٹس یا ٹینس کلبزوغیرہ میں بھی داخل کروایا جا سکتا ہے۔

مذکورہ بالا غیر نصابی سرگرمیوں کے ساتھ موسمِ گرما کی تعطیلات میں بچّوں کو نصابی کُتب سے جوڑے رکھنا بھی نہایت ضروری ہے۔ اس ضمن میں والدین دن میں صرف ایک گھنٹہ بچّوں کے ساتھ بیٹھ کر اُن کی درسی کُتب کا مطالعہ کریں۔ 

یقیناً اُن کی صحبت میں بچّے پڑھائی میں دِل چسپی لیں گے اور جب کلاسز دوبارہ شروع ہوں گی، تو بچّوں کو کسی مشکل یا پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اور یوں بچّے اور بڑے دونوں ہی یہ تعطیلات سکون و آرام سے گزار سکتے ہیں۔