• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مرتب: محمّد ہمایوں ظفر

ہمارے والد، لعل خان، محکمۂ پولیس میں ایک باکردار، اصول پسند اور فرض شناس آفیسر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ اُنھوں نے اپنے اعلیٰ کردار و اخلاق سے معاشرے میں اَن مول نقوش چھوڑے، پوری زندگی محنت، ایمان داری اور خدمت کے جذبے سے سرشار گزاری، دوسروں کے لیے مشعلِ راہ تھے۔ وہ نہ صرف ایک فرض شناس پولیس آفیسر، بلکہ ایک مثالی باپ بھی تھے۔ اُن کی یادداشت کمال کی تھی۔ تاریخ، جغرافیہ اور ریاضی میں اُنھیں ملکہ حاصل تھا۔

ہم سب پیار سے اُنھیں ابّا جان کہتے تھے۔ ابّا جان 25جولائی 1928ء کو کشمیر کے ضلع میرپور تحصیل ڈڈیال کے ایک گاؤں کھرڑی بلتھی میں پیدا ہوئے۔ انھیں تعلیم حاصل کرنے کا بے حد شوق تھا، تاہم گاؤں میں اسکول نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے دادا محمد اسحاق نے اُنھیں گاؤں سے آٹھ کلومیٹر دُور ایک اسکول میں داخل کروا دیا۔ پس ماندہ قصبہ ہونے کی وجہ سے گاڑیوں یا بسوں کا کوئی تصوّر نہیں تھا، لہٰذا روزانہ دشوار گزار راستوں سے پیدل اسکول جاتے، مگر روز کے اس طویل اور کٹھن سفر نے اُن کے عزم و استقلال اور حوصلے کو کبھی ماند نہیں کیا۔

یہی ابتدائی جدوجہد اُن کی شخصیت میں مسلسل محنت، مستقل مزاجی اور صبر کے اصول راسخ کرگئی۔ ہمارے دادا کی سخاوت جموں کشمیر کے دُور دراز علاقوں تک مشہور تھی۔ اُن کا گزر بسر مال مویشیوں کی تجارت اور پہاڑی علاقے کی بارانی زرعی زمین پر تھا۔ اُس پار کشمیر سے آنے والے سکھوں، ہندوؤں، مسلمانوں کےقافلے اِسی گزرگاہ سے دریا پار کرکے پنجاب میں داخل ہوتے، جہاں رات کو ڈاکوؤں اور لٹیروں کا خطرہ رہتا تھا، تو اکثر یہاں سے گزرنے والے قافلے سورج ڈھلنے کے بعد ہمارے دادا کے یہاں قیام کرتے۔

وہ مہمانوں کے لیے بکرے ذبح کرتے اور بغیر کسی معاوضے کے خوب خاطر مدارات کرتے۔ دادا کے بعدخدمت کا یہ سلسلہ ہمارے ابّا جان نے بھی بہت عرصے تک جاری رکھا، پھر وہ خود سے کچھ کرنے کا جذبہ لے کر1946ء میں حیدرآباد سندھ چلے آئے اور محکمۂ پولیس میں کانسٹیبل بھرتی ہوگئے، جہاں اپنی محنت، لگن اور دیانت داری کے سبب جلد ہی انسپکٹر کے عہدے پر فائز ہوگئے۔ میرے ابّا جان نمایاں خصوصیات کے حامل تھے، اُن میں عوامی خدمت کا جذبہ کُوٹ کُوٹ کر بھرا تھا۔ لوگوں کے پیچیدہ مسائل اور خاندانی جھگڑے سُلجھانے کی خداداد صلاحیت رکھتے تھے۔

جرائم پیشہ افراد کے لیے ایک سخت گیر آفیسر کے طور پر مشہور تھے، مگر عام لوگوں کے ساتھ اُن کا رویّہ ہمیشہ ہم دردانہ اور دوستانہ تھا۔ ضرورت مندوں کی بڑھ چڑھ کر مدد کرتے، بے روزگاروں کو روزگار دلوانے میں تعاون کرتے اور بچّوں کی تعلیم و تربیت پر خاص توجّہ دیتے۔ محکمۂ پولیس میں اُن کی ایمان داری اور جرأت کے قصّے عام تھے، وہ کبھی خطرات سے نہیں گھبراتے تھے، جب بھی کسی علاقے میں جرائم پیشہ عناصر، خصوصاً خطرناک ڈاکوؤں کی سرکوبی کی ضرورت پیش آتی، توحسّاس اور خطرناک مقامات پر اُنھیں ہی تعینات کیا جاتا۔

انہوں نے کئی خطرناک مقابلوں میں حصّہ لیا، زخمی بھی ہوئے، مگر فرض سے کبھی پیچھے نہ ہٹے۔ ہمیشہ قانون کی پاس داری کے ساتھ انسانیت کی خدمت کو اپنا فرض اوّلین سمجھتے۔ ابّاجان نے اپنی زندگی میں چیلنجز کا سامنا ہمیشہ شجاعت و بہادری اور حوصلے سے کیا۔ دُور دراز علاقوں میں تبادلے، مشکل اور خطرناک کیسز میں تعیناتی، اور محکمے کے اندر دیگر چیلنجز نے ان کے مضبوط ارادوں اور اصول پسندی کو کبھی کم نہیں کیا۔

جہاں بھی گئے، اپنے فرائض ایمان داری سے انجام دیئے اور عوام کے دلوں میں جگہ بنائی۔ دادو، حیدرآباد، میرپورخاص، تھر پارکر، ننگرپارکر، عمرکوٹ، سانگھڑ، نواب شاہ، سعیدآباد، جام شورو، بدین، ٹھٹھہ اور کچّے کے علاقوں میں بڑی جواں مردی سے خدمات انجام دیں۔ متعدد خطرناک مجرموں اور ڈاکوؤں کا قلع قمع کیا، کئی ایسے کیسز میں نمایاں کردار ادا کیا، جہاں دیگر افسران ناکام ہوچکے تھے۔

ساٹھ اور ستّر کی دہائی کے بدنام زمانہ ڈاکوؤں سمیت متعدد جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری میں اہم کردار ادا کیا، کئی تھانوں میں ایس ایچ او مقرر ہوئے۔ حیدرآباد سٹی تھانہ پر ایس ایچ او تعینات ہوئے، تو تاجر برادری اور شہریوں نے اُن کی تقرری پر خوشی و اطمینان کا اظہار کیا۔ جرائم کی روک تھام اور جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری اور مختلف تھانوں میں نمایاں کارکردگی کے مظاہرے پر انھیں میڈلز، تعریفی سرٹیفیکیٹس اور ایوارڈز سے نوازا گیا۔

ابّا جان، مظلوموں کی داد رسی کرنے، ضرورت مندوں کی مدد کرنے اور ہر سائل کی بات توجّہ سے سننے والے انسان تھے۔ اُن کے دروازے سے کبھی کوئی خالی ہاتھ نہ جاتا۔ یہی وجہ تھی کہ لوگوں کی ہم دردیاں اور دُعائیں ہمیشہ اُن کے ساتھ رہیں۔ ہمارے لیے ابّا جان ایک مثالی باپ تھے۔ انھوں نے گھر میں نظم و ضبط کی مثالی فضا قائم کر رکھی تھی۔ اہلِ خانہ کو نماز، روزہ اور دینی اقدارپر کاربند رہنے کی تلقین کرتے۔

اُن کے رعب و دبدبے میں بھی محبّت، شفقت اور خیر خواہی شامل تھی۔ ابّا جان نے نہایت سادہ زندگی گزاری۔ اُن کی زندگی کا روشن ترین پہلو اولاد کی بہتر تعلیم و تربیت تھی۔ انہوں نے ہم سات بھائیوں کو نہ صرف اچھی تعلیم دلوائی بلکہ بہترین تربیت کے ساتھ اعلیٰ کردار اور اخلاق کا حامل بھی بنایا۔ آج ابّاجان کی اولاد، بیٹے اور پوتے، پوتیاں ملک و بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ اہم عہدوں، ملازمتوں اور کاروبار سے منسلک ہیں۔

تمام عُمر دوسروں کی بھلائی و خیرخواہی کے لیے سرگرمِ عمل رہنے والے ہمارے پیارے ابّا جان، یکم مارچ 2010ء کو خالق ِحقیقی سے جا ملے۔ اُن کی کمی آج بھی شدّت سے محسوس کی جاتی ہے۔ انھیں اگر ’’گدڑی کا لعل‘‘ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ابّا جان کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین۔

( ڈاکٹر پرویز اقبال راجپوت بھٹی، حیدرآباد)