تہران (اے ایف پی، جنگ نیوز) امریکا نے ایران میں فوجی تنصیبات پر فضائی حملے کردیئے، تہران نے اپنے میزائل، ڈرون اور ریڈار کی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاسداران انقلاب نے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات پر جوابی وار کئے ہیں ، ایران نے ان اہداف کا نام نہیں لیا جہاں حملے کئے گئے ہیں تاہم بحرین نے اپنی حدود میں ایرانی ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں ، امریکا او ر ایران کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد آبنائے ہرمز کے کھلا رہنے پر خدشات پیدا ہوگئے ہیں، امریکی سینٹ کام کا کہنا ہے کہ فضائی حملے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز پر حملے کا جواب تھا ، پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہدوبارہ جارحیت ہوئی تو ہمارا رد عمل اس سے بھی زیادہ وسیع ہوگا،حزب اللہ سربراہ نے اسرائیل لبنان معاہدہ مسترد کردیا،لبنان اسرائیل جنگ بندی معاہدے کے باوجود لبنان پر اسرائیلی بمباری جاری رہی ، حزب اللہ کا اسرائیلی فوجی انخلا کا مطالبہ، صیہونی فوج کا انخلا انکار ۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک ٹینکر پر میزائل حملہ بھی ہوا ہے ، برطانوی میری ٹائم سیکورٹی کے ادارے نے بتایا ہے کہ حملے میں ٹینکر کو نقصان پہنچا ہے تاہم عملہ محفوظ رہا،ایران نے ان رپورٹس کی تصدیق نہیں کی ہے تاہم ایرانی سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب نے نامعلوم جہازوں پر اس وقت حملہ کیا جب وہ ایران کی اجازت کے بغیر گزرنے کی کوشش کررہے تھے، اسرائیل نے لبنان کیساتھ جنگ بندی معاہدے کے باوجود لبنان پر حملے کئے ہیں، اسرائیل اور لبنان نے واشنگٹن میں کئی روز سے جاری مذاکرات کے بعد جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں ، فریقین نے اس معاہدے کو ابتدائی اقدام قرار دیا ہے تاہم حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی معاہدے کو مسترد کر دیا ہے جس سے وسیع تر امریکی- ایرانی امن کوششوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔امریکی سنٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ حالیہ امریکی حملے، جن میں ایران کے میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے والے مقامات اور ساحلی ریڈار پوزیشنوں کو نشانہ بنایا گیا، "ایرانی افواج کی جانب سے تجارتی جہاز رانی کے خلاف بلاجواز جارحیت" کا جواب تھے جس نے "واضح طور پر جنگ بندی کی خلاف ورزی" کی تھی۔