• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آڈیٹر جنرل نے مزید 324 ارب روپے کی مالی بے قاعدگیوں کا سراغ لگا لیا

اسلام آباد (قاسم عباسی)آڈیٹر جنرل نے مزید 324ارب روپے کی مالی بے قاعدگیوں کا سراغ لگا لیا ،پیٹرولیم ڈویژن کے حسابات میں بے قاعدگیاں،جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو مجموعی طور پر 82.46 ارب روپے سے زائد کا زبردست نقصان اور عدم وصولی کا سامنا کرنا پڑا ہے، ایف بی ار کے 193 فیلڈ آفسز کی ناقص کارکردگی ،فیلڈ دفاتر میں 242ارب روپے ٹیکس نقصان کا انکشاف ہوا ہے،آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق مالی نقصانات کئی گنا زیادہ ہو سکتے ہیں، ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام کیسز میں قانون کے تحت کارروائی کی گئی ۔ایف بی آر حکام کا کہنا ہے آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے بیشتر معاملات نمٹ چکے، باقی زیرِ کارروائی یا عدالتوں میں ہیں۔ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانیکی آخری تاریخ 31 دسمبر 2024 تھی، سیلز ٹیکس آڈٹ کیلئے ماہانہ گوشواروں کا ڈیٹا استعمال کیا گیا۔ ایف بی آر اور آڈیٹر جنرل محصولات کے تحفظ کیلئے باہمی تعاون اور زیادہ قابلِ قبول آڈٹ فریم ورک کی تشکیل پر کام کر رہے ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ایک عہدیدار نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے آڈیٹر جنرل (اے جی پی) کی جانب سے مالی سال 2024-25 کے حوالے سے ایف بی آر پر ایک رپورٹ موجود ہے۔ زیرِ بحث معاملہ دراصل مالی سال 2024-25 کی سالانہ رپورٹ کے انتظامی خلاصے (ایگزیکٹو سمری) کا محض اعادہ ہے۔ یہ رپورٹ اگست 2025 میں شائع ہوئی تھی اور اس کے بعد ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (ڈی اے سی) اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے متعدد اجلاس منعقد ہو چکے ہیں، جن میں اس رپورٹ سے متعلق بڑی مالیت کے بیشتر معاملات یا تو نمٹا دیے گئے ہیں یا پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔۔ ان بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے ایف بی آر کے آئرس (IRIS) نظام پر موصول ہونے والے ٹیکس دہندگان کے گوشواروں کا آڈٹ کیا۔ انکم ٹیکس کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر 2024 تھی، جبکہ سیلز ٹیکس کے حوالے سے آڈٹ کے لیے ماہانہ گوشواروں کا ڈیٹا استعمال کیا گیا۔ انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس، دونوں کے جمع کرائے گئے گوشوارے قانون میں موجود خود تشخیصی (سیلف اسیسمنٹ) نظام کے تحت قانونی طور پر تشخیص شدہ آمدنی اور فروخت کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ قانون ایف بی آر کو پانچ سال کی مدت فراہم کرتا ہے تاکہ وہ بے ضابطگیوں، غلط بیانات اور ضرورت سے زیادہ ظاہر کیے گئے اخراجات کی بنیاد پر ٹیکس عائد کر سکے۔ یہ ایف بی آر اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے معمول کے فرائض کا حصہ ہے، اور اسے غیر معمولی انداز میں پیش کرنا بظاہر آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور ایف بی آر کی جانب سے کیے گئے مثبت کام کو بدنام کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔ مزید برآں حال ہی میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے میں بھی نجی افراد کی جانب سے جمع کرائے گئے گوشواروں کے آڈیٹر جنرل کے براہِ راست آڈٹ سے متعلق بعض مشاہدات سامنے آئے ہیں، اور ایف بی آر اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان ریاستی محصولات کے تحفظ کے لیے باہمی تعاون اور ہم آہنگی پر مبنی ایک زیادہ قابلِ قبول آڈٹ فریم ورک کی تشکیل پر کام کر رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں 242 ارب روپے کے ٹیکس اور مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا ہے، جو مالی سال 2024-25 کے دوران انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کسٹمز اور اخراجات سے متعلق 193 فیلڈ دفاتر کے مشاہدات میں سامنے آئیں۔آڈٹ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ نتائج ایف بی آر کے فیلڈ دفاتر کے منتخب نمونے کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکس وصولیوں میں نقصانات اور انتظامی کوتاہیوں کی اصل سطح اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹ برائے آڈٹ سال 2025-26، جو مالی سال 2024-25 کا احاطہ کرتی ہے کے مطابق بے ضابطگیوں کی بنیادی وجوہات میں ٹیکس کی عدم وصولی اور کم تخمینہ، ناقابلِ قبول ٹیکس کریڈٹس اور استثنیٰ، کسٹمز میں غلط درجہ بندی اور کم مالیت ظاہر کرنا، کمزور نفاذ، اور داخلی کنٹرول کے نظام میں خامیاں شامل ہیں۔ایک اور مشاہدے میں تین فیلڈ دفاتر نے ناقابلِ قبول فرسودگی (ڈیپریسی ایشن) کے دعوؤں کی اجازت دی، جس کے نتیجے میں 4 ارب روپے کی کم وصولی ہوئی، جبکہ چھ فیلڈ دفاتر نے اخراجات کی مناسب تقسیم نہ کرنے کے باعث 2 ارب روپے کم وصول کیے۔سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے شعبے میں آڈیٹر جنرل نے نشاندہی کی کہ 12 فیلڈ دفاتر کے مشاہدات میں معطل یا بلیک لسٹ کیے گئے ٹیکس دہندگان کی جانب سے جاری کردہ انوائسز پر ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کی ناقابلِ قبول ایڈجسٹمنٹ کی نگرانی نہیں کی گئی، جس میں 159 کیسز کے تحت 42 ارب روپے شامل تھے۔ کسٹمز کے شعبے میں 33 فیلڈ دفاتر کے مشاہدات میں درآمدی اشیا کی غلط درجہ بندی اور کم مالیت ظاہر کیے جانے کے باعث 9 ہزار 831 کیسز میں 3 ارب 563 ملین روپے کی کم وصولی سامنے آئی۔ آڈٹ میں مزید انکشاف ہوا کہ 10 فیلڈ دفاتر کے مشاہدات میں 700 ملین روپے مالیت کی ناقابلِ قبول چھوٹ اور رعایتیں دی گئیں، جبکہ سات فیلڈ دفاتر کے مشاہدات میں گوداموں سے تاخیر سے سامان نکالنے پر عائد 809 ملین روپے سرچارج وصول نہیں کیا گیا۔آڈیٹر جنرل نے ایک اور بڑی خامی کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ 22 فیلڈ دفاتر کے مشاہدات میں 3 ہزار 231 کیسز میں ضبط شدہ سامان اور گاڑیوں، جن کی مالیت 13 ارب روپے تھی، کو ٹھکانے نہیں لگایا گیا، جو نفاذ اور اثاثہ جات کے انتظام میں کمزوریوں کی عکاسی کرتا ہے۔محصولات سے متعلق بے ضابطگیوں کے علاوہ آڈٹ میں 21 ملین روپے کے ناقابلِ قبول اخراجات کا بھی انکشاف ہوا، جہاں چار فیلڈ دفاتر کے مشاہدات میں 14 کیسز میں غیر مجاز نقد انعامات کی ادائیگیاں کی گئیں۔آڈیٹر جنرل نے ان بے ضابطگیوں کی وجہ کمزور داخلی کنٹرول، ناکافی نگرانی، اور ٹیکس قوانین و طریقہ کار پر عملدرآمد نہ ہونے کو قرار دیا۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ داخلی کنٹرول کے نظام کو مسلسل جائزے کے ذریعے مضبوط بنایا جائے، داخلی آڈٹ بروقت مکمل کیے جائیں، ٹیکس کے تخمینوں اور وصولیوں کی نگرانی بہتر بنائی جائے، اور آئندہ ایسی کوتاہیوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ آڈٹ کے یہ نتائج صرف ایف بی آر کے فیلڈ دفاتر کے منتخب نمونے پر مبنی ہیں، اور خبردار کیا گیا ہے کہ ملک بھر کے ٹیکس نظام میں ٹیکس نقصانات اور مالی بے ضابطگیوں کی اصل حد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔دریں اثنا تقریباً تمام معاملات میں ایف بی آرذرائع کا جواب یہ تھا کہ قانون کے تحت کارروائی شروع کی گئی تھی۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی پٹرولیم ڈویژن سے متعلق مالی سال 26-2025 کی رپورٹ نے بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اور ادارہ جاتی ناکامیوں کا پردہ چاک کیا ہے، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو مجموعی طور پر 82.46 ارب روپے سے زائد کا زبردست نقصان اور عدم وصولی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اس جامع رپورٹ میں پٹرولیم ڈویژن کے ماتحت اداروں میں ریکارڈ کی دیکھ بھال، ریونیو (آمدن) کے حصول، قواعد و ضوابط کی پاسداری، معاہدوں پر عمل درآمد اور مجموعی مالیاتی گورننس کے حوالے سے سنگین کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مالیاتی نقصان کی سب سے بڑی وجہ گیس کا ضیاع یا ’’ان اکاؤنٹڈ فار گیس‘‘(یو ایف جی) کے نقصانات رہے۔ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی کو آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی مقرر کردہ مجاز حدود سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جس کا مجموعی مالیاتی اثر 39427.128 ملین روپے رہا۔ رپورٹ میں نمایاں کی جانے والی دیگر بڑی مالیاتی بے ضابطگیاں درج ذیل ہیں: 1) ریونیو (آمدن) کے حصول میں ناکامی: ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پٹرولیم کنسیشنز— ڈی جی (پی سی)— ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیوں سے پٹرولیم کی پیداوار پر ’’ویل ہیڈ ویلیو‘‘ کا 15 فیصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ قدرتی گیس اور خام تیل پر لیٹ پیمنٹ سرچارج (تاخیر سے ادائیگی کا جرمانہ) اور رائلٹی بھی وصول نہیں کی جا سکی، جس کی مجموعی رقم 14058.286 ملین روپے بنتی ہے۔ 2) غیر ٹیکس وصولیوں کی عدم عدمِ بحالی (وصول نہ ہونا): پٹرولیم ڈویژن واجب الادا غیر ٹیکس وصولیاں وصول کرنے میں ناکام رہا، جن کی مجموعی رقم 5043.132 ملین روپے ہے۔ 3) فنڈز کا غیر مجاز اپنے پاس رکھنا (غیر قانونی روک تھام): بڑے توانائی کے اداروں بشمول آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ، ایس این جی پی ایل، ایس ایس جی سی اور پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے بے نظیر ایمپلائز اسٹاک آپشن اسکیم کے فنڈز کو بلاجواز اپنے پاس روکے رکھا اور 3233.015 ملین روپے کے غیر دعویٰ شدہ منافع کو سرکاری خزانے میں جمع کرانے میں ناکام رہے۔ 4) او جی ڈی سی ایل کی جانب سے خلاف ورزیاں: او جی ڈی سی ایل کو متعدد واضح خلاف ورزیوں پر رپورٹ میں نامزد کیا گیا ہے، جس میں ایل پی جی پالیسی 2016 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایل پی جی کی فروخت پر 5193 ملین روپے کے ’’سگنیچر بونس‘‘ کی غیر مجاز وصولی اور ایک کنٹریکٹر کو 3805.499 ملین روپے کے وصول شدہ ہرجانے کی بلاجواز واپسی شامل ہے۔ مزید برآں، او جی ڈی سی ایل نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، اوپن ٹینڈر (کھلے مقابلے) کے بغیر جعلی بینک گارنٹیوں کی بنیاد پر 347.935 ملین روپے کی خریداریاں کیں۔ 5) کوئلے اور بجلی کے شعبوں میں آمدن کا نقصان: پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کو مدت ختم ہو جانے والے اور غیر مسابقتی معاہدوں کے تحت کوئلے کی کانوں کا کام جاری رکھنے کی وجہ سے تقریباً 4663.901 ملین روپے کا نقصان اٹھانا پڑا، کیونکہ ان معاہدوں میں نیٹ مارجن کی شرح محکمہ جاتی منافع کے معیار سے نمایاں طور پر کم تھی۔

اہم خبریں سے مزید