لاہور( این این آئی)لاہور ہائیکورٹ نے ریپ اور مبینہ جعلی شادی کے مقدمے میں ایک اہم اور نظیر ساز فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہصرف ڈی این اے رپورٹ کی بنیاد پر کسی ملزم کو سزا دینا محفوظ قانونی طریقہ نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ڈی این اے شواہد محض تائیدی نوعیت کے ہوتے ہیں اور دیگر مضبوط و قابل اعتماد شواہد کے بغیر انہیں سزا کی واحد بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد امجد رفیق پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ملزم غلام فرید کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے دی گئی 25سال قید اور جرمانے کی سزا کالعدم قرار دے دی اور فوری رہائی کا حکم جاری کر دیا۔