2اپریل 1996ء ،علی الصباح کا ذکر ہے، ایک شخص ورکر کی وردی میں پولینڈ کے گڈانسک شپ یارڈ میں داخل ہوا اور سپروائزر کو مخاطب کرتے ہوئے بولا۔ ’’آپ کا الیکٹریشن دوبارہ ڈیوٹی پر حاضر ہے۔‘‘ یہ الفاظ کسی عام الیکٹریشن کے نہیں، بلکہ پولینڈ کے سابق صدر لیخ ولیسا کے تھے۔سپروائزر اُس کی طرف متوجّہ ہوا تو چند ساعت کی توقف کے بعداُس نے دوبارہ کہا۔’’مجھے کام کی اشد ضرورت ہے، کیوں کہ میرے پاس گزر بسر کے لیے پیسے نہیں ہیں۔‘‘
پھر تھوڑی بات چیت اور چند رسمی جملوں کے بعد ہی سپروائزر کو بھی اندازہ ہوگیا کہ وہ کوئی عام شخصیت نہیں، بلکہ مُلک کے سابق صدر لیخ ولیسا ہیں۔
شپ یارڈ کے الیکٹریشن سے مسندِ صدارت تک کا سفر طے کرنے والےلیخ ولیسا 1980ء کی دہائی میں کمیونسٹ حکومت کے خلاف اُبھرنے والی مشہورِ زمانہ تحریک ’’سولیڈیریٹی‘‘ (یک جہتی) کے شریک بانی اور رہنما تھے، جنہوں نے پولینڈ میں کمیونزم کے خاتمے اور جمہوریت کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا اور پولینڈ میں فوجی آمریت کے خاتمے کے بعد ملک کے پہلے جمہوری صدر منتخب ہوئے۔
انھوں نے گڈانسک کے شپ یارڈ میں بطور الیکٹریشن کام کرنے کے ساتھ مزدوروں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔ اُن کی قیادت میں بننے والی ’’سولیڈیریٹی‘‘ سوویت بلاک میں پہلی آزاد ٹریڈ یونین تھی۔ مزدوروں کے حقوق، انسانی آزادی اور پُرامن جدوجہد کے اعتراف میں اُنھیں 1983ء میں نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔
اپنے صدارتی دَور میں انہوں نے پولینڈ کی کمیونسٹ معیشت کو آزاد مارکیٹ میں تبدیل کرکے یورپی یونین (EU) اور نیٹو (NATO) میں شمولیت کی راہ ہم وار کی۔ 1995ء میں دَورِ صدارت مکمل ہونے کے بعد، انہوں نے دنیا بھر میں جمہوریت اور سول سوسائٹی کے فروغ کے لیے ’’دی لیخ ولیسا انسٹی ٹیوٹ‘‘ کی بنیاد رکھی۔
میدانِ سیاست میں قدم رکھنے سے قبل وہ لینن شپ یارڈ (اب گڈانسک شپ یارڈ) میں الیکٹریشن کی حیثیت سے ملازم تھے اور اس دوران مزدور یونین کے سرگرم کارکن بن گئے، جس کی وجہ سے فوجی حکومت نے اُن پر بے پناہ مظالم ڈھائے۔ حکومت مخالف سرگرمیوں کی پاداش میں کئی بارقید وبند کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ بالآخر1976ء میں انھیں شپ یارڈ کی نوکری سے برطرف کردیا گیا۔
لیخ ولیسا 29ستمبر 1943ءکو پاپوو، پولینڈ میں پیدا ہوئے، جو اُس وقت نازی جرمن کے قبضے میں تھا۔ اُن کے والد بولیسواف ولیسا ایک بڑھئی تھے۔ لیخ ولیسانے1961ءمیں پرائمری تعلیم کے بعد ایک ٹیکنیکل اسکول سے الیکٹریشن کی سند حاصل کی اور 1962ءسے 1964ءتک بہ طورکار میکینک کام کرتے رہے، اسی دوران دو سالہ لازمی فوجی سروس بھی کی، جہاں کارپورل کےعہدے تک پہنچے۔1967ء میں پولینڈ کے مشہورِ زمانہ لینن شپ یارڈ (اب گڈانسک شپ یارڈ) میں الیکٹریشن کی حیثیت سے ملازمت شروع کی اور 8نومبر1969ء میں میروسواوا دانوتا گولوش نامی خاتون سےرشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے،جن سے اُن کے آٹھ بچّے پیدا ہوئے۔
1946 ءمیں قائم ہونے والے گڈانسک شپ یارڈ کا شمار پولینڈ کے بڑے شپ یارڈز میں کیا جاتا ہے۔ یہاں17 ستمبر1980ءکو پولینڈ کی مقبول ومعروف ٹریڈ یونین ’’یک جہتی‘‘ تحریک کا قیام عمل میں آیا، جس نے آگے چل کر عالمی شہرت حاصل کی۔ الیکٹریشن کے طور پر کام کرنے والے لیخ ولیسا نےحزبِ اختلاف کی مقبول ترین ٹریڈ یونین ’’یک جہتی‘‘ کے تحت پولینڈ کی کمیونسٹ حکومت کے خلاف ایک کام یاب جمہوریت نواز تحریک کی مدبّرانہ قیادت کی، جس کے نتیجے میں1989ءمیں پولینڈ میں نہ صرف کمیونسٹ حکم رانی کا خاتمہ ہوا، بلکہ دنیا میں سرد جنگ سے نجات کی راہ بھی ہم وار ہوئی۔
لیخ ولیسا اپنے کیریئر کے آغاز ہی سے گڈانسک شپ یارڈ کے کارکنوں کو درپیش مسائل کے حل میں بے حد دل چسپی رکھتے تھے۔ انہوں نے پہلی بار1968ء میں شپ یارڈ کے ساتھی کارکنوں کو سرکاری جلسوں کے بائیکاٹ پر اُکسایا۔ وہ پولینڈ کے کارکنوں کے لیے ایک پُرکشش اور کرشماتی رہنماکی حیثیت رکھتے تھے۔ انہوں نے1970ء میں گڈانسک شپ یارڈ میں ہونے والے کارکنوں کے اُس احتجاج کی رہنمائی کی، جس میں اُنھوں نے حکومت کی جانب سے اشیائے صرف کی قیمتیں بڑھانے کے حکم نامے کے خلاف بھرپور مظاہرہ کیا۔
ان ہڑتالوں کے نتیجے میں پولیس کے تشدّد سے 30 سے زیادہ مزدور مارے گئے، تو اس خونچکاں واقعے نے لیخ ولیسا کی اس فکر کو مضبوط کیا کہ اب مُلک میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ کارکنوں کے حقوق کے تحفّظ کے لیے پُرامن جدوجہدکی پاداش میں لیخ ولیسا کو جون1976ء میں گڈانسک شپ یارڈ کی ملازمت سے برطرف کردیا گیا، جس کے بعد وہ اپنےگزر بسر کے لیے دیگر کمپنیز میں الیکٹریشن کی حیثیت سے کام کرتے رہے، لیکن حکومت کے خلاف باغیانہ سرگرمیوں کی وجہ سے انھیں باربار ملازمت سے برطرف کیا جاتا رہا، جس کے نتیجے میں وہ طویل عرصے تک بے روزگاری کے بھی شکار رہے۔ اس دوران لیخ ولیسا اور اُن کے خاندان پر پولینڈکی خفیہ پولیس کی کڑی نگرانی رہتی، پولیس ہمہ وقت اُن کے گھر اور کام کی جگہ پر اُن کی سرگرمیوں کی سُن گن لیتی رہتی۔
پولش کی خفیہ پولیس انہیں بار بار تفتیش کے لیے طلب کرتی۔ جب پولیس اہل کار لیخ ولیسا کو گرفتار کرنے آتے تو کئی مواقع پر اُن کی اہلیہ دانوتا، جو اپنے شوہر سے بھی زیادہ کمیونزم مخالف تھیں، کُھلے عام خفیہ پولیس اہل کاروں کا مذاق اُڑاتیں۔ اس دوران لیخ ولیسا حکومت مخالف سرگرمیوں میں حصّہ لینے پر کئی بار گرفتار ہوئے، لیکن اس کے باوجود اُن کے پایۂ استقامت میں ذرّہ برابرلغزش نہیں آئی۔
14 اگست1980ءکو جب پولینڈ میں ایک بار پھر اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، تو گڈانسک شپ یارڈ میں کارکنوں نے ہڑتال شروع کردی، جس کے محرکین میں لیخ ولیسا بھی شامل تھے۔ ملازمت سے برطرفی کے باوجودلیخ ولیسا شپ یارڈ کی باڑ پھلانگ کر اندر داخل ہوکر ہڑتالی رہنماؤں میں شامل ہوگئے۔ جلد ہی گڈانسک شپ یارڈکے کارکنوںکی ہڑتال کا دائرہ پورے پولینڈ میں پھیل گیا۔ اس دوران لیخ ولیسانے خفیہ طور پر یک جہتی تنظیم کی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
اس وقت زیرِ زمین شائع ہونے والے ہفتہ وار جریدے کے ہر شمارےپر اُن کا یہ نعرہ درج ہوتا۔ ’’یک جہتی کو تقسیم کیا جائے گا، نہ تباہ۔‘‘ بالآخر31اگست کو پولینڈ کی حکومت نے مجبور ہوکر ہڑتال کمیٹی کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے، جسے ’’گڈانسک معاہدہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ ولیسانے اس تاریخی معاہدے پر ایک قدرے بڑے سائز کے قلم سے دستخط کیے، جسے دنیا بھر کے ٹی وی چینلز نے براہِ راست دکھایا۔ اس معاہدے کے تحت لینن شپ یارڈ کے کارکنوں کو ہڑتال کا قانونی حق میسّر آیا اور انہیں آزاد ٹریڈ یونین قائم کرنے کی اجازت دی گئی۔
ہڑتال کمیٹی نے لیخ ولیسا کو کمیٹی کا چیئرمین منتخب کیا، جس کے بعد ’’سولیڈیریٹری ٹریڈ یونین موومنٹ‘‘ تیزی سے پولینڈ کے طول وعرض میں پھیلتی چلی گئی اور تحریک کے ارکان کی تعداد بڑھتے بڑھتے ایک کروڑ سے تجاوز کر گئی۔ پولینڈ میں آمرانہ حکومت کے خلاف کارکنوں کی منظّم ہڑتال، حکومت سے اپنی شرائط پر کام یاب مذاکرات کرنے اور ملک میں ایک آزاد ٹریڈ یونین کے قیام کے بعد لیخ ولیسا نے عالمی سطح پر زبردست شہرت حاصل کرلی۔
10 مارچ 1981ء کو لیخ ولیسا نےمزدور رہنما کی حیثیت سے پہلی مرتبہ پولینڈ کے وزیرِاعظم، جنرل ووئچیخ یاروزیلسکی( General Wojciech Jaruzelski) کی دعوت پر ان سے تین گھنٹے طویل ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران یاروزیلسکی اور ولیسا اس بات پر متفق ہوگئے کہ پولینڈ کے کارکنوں کے مسائل کے حل کے لیے باہمی اعتماد ضروری ہے۔ اس موقعے پر لیخ ولیسا نے اپنے بیان میں سوشل ازم کے نظریاتی مقاصد (برابری اور سماجی انصاف)، عملی ناکامیوں اور آمرانہ پالیسیوں کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے بیان دیا کہ ’’ سوشلسٹ کا نام بُرا نہیں ہے، بس کچھ لوگوں نے سوشل ازم کے نام کو خراب کردیا ہے۔‘‘
انہوں نے اس ملاقات کے دوران حکومت پر سخت تنقید بھی کی۔ ملاقات کے دوران وزیر اعظم یاروزیلسکی نے لیخ ولیسا کو باور کروایا کہ ان کی تنظیم ’’سولیڈیریٹی‘‘ نے احتجاج کے لیے غیر ملکی فنڈز استعمال کیے ہیں۔ اس پر ولیسا نے ازراہِ تفنّن کہا۔ ’’ہمیں صرف ڈالرز ہی نہیں لینے چاہئیں، ہم مکئی، کھاد کچھ بھی لے سکتے ہیں۔ مَیں نے پہلے ہی کہا تھا کہ مَیں دشمن سے سب کچھ لوں گا۔ جتنا زیادہ ملے گا، اُتنا بہتر ہے، تاکہ دشمن کم زور ہوجائے۔‘‘
ملاقات کے نوماہ بعد جنرل یاروزیلسکی نے13دسمبر1981ءکوملک میں اچانک مارشل لا نافذ کر دیا۔ جس کے بعد سولیڈیریٹی موومنٹ پر باضابطہ پابندی لگاکر لیخ ولیساسمیت مزدورتحریک کے دیگر رہنماؤں اور سیکڑوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا۔
گیارہ ماہ تک قیدِ تنہائی سے رہائی کے بعد لیخ ولیسا نے اپریل1983ء میں گڈانسک شپ یارڈ میں الیکٹریشن کی ملازمت کے لیے درخواست دی۔ اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ مزدوروں کی یک جہتی پولینڈ میں جہاں ایک زبردست سیاسی قوت بن کر ابھری، وہیں مارشل لا کے نفاذ اور مخالفین پر زبردست ظلم و ستم کے نتیجے میں حکم راں، پولش یونائیٹڈ ورکرز پارٹی کی بالادستی کم زور ہوتی چلی گئی۔
اس دوران لیخ ولیسا نے ایک کام یاب جمہوریت نواز تحریک کی قیادت کی، جس نے 1989ء میں پولینڈ میں کمیونسٹ حکم رانی کے خاتمے کے بعد سرد جنگ سے نجات کی رہ ہم وار کی۔کارکنوں کی اس عظیم جدوجہد کے نتیجے میں 4جون 1989ء کو پولینڈ میں جنگِ عظیم دوم کے بعد پہلی بارآزاد اور جمہوری پارلیمانی انتخابات منعقد ہوئے اور مزدور رہنما اور یک جہتی تحریک کے امیدوار، لیخ ولیسا عوامی ووٹ کے ذریعے پولینڈ کے پہلے جمہوری صدر منتخب ہوئے،جس کے بعد ہی سے یورپ میں کمیونسٹ حکومتوں اورجماعتوں کا زوال شروع ہوا۔
لیخ ولیسا نے1990ءسے 1995ء تک پولینڈ کے پہلے جمہوری صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔انھیں پولینڈ میں کمیونسٹ حکومت کے خاتمہ ، بحالی جمہوریت، آزاد ٹریڈ یونینز کے قیام اور انسانی حقوق کے لیے پُرامن جدوجہد کے اعتراف میں امن کا نوبیل انعام دیا گیا۔1995کے صدارتی انتخابات میں شکست کے بعد لیخ ولیسانے سیاست کو خیرباد کہہ دیا اور اعلان کیا کہ وہ دوبارہ گڈانسک شپ یارڈ میں الیکٹریشن کے طور پر کام کریں گے۔
لیکن کچھ ہی عرصے بعد انہوں نے اپنا ارادہ بدل دیا اور دنیا کی معروف یونی ورسٹیز اور عوامی اجتماعات میں لیکچر دینے کی غرض سے مختلف ممالک کے دوروں کا فیصلہ کیا۔ اپنی صدارت کے آخری روز انھوں نے گڈانسک شہرمیں ایک غیر منافع بخش ادارے ’’لیخ ولیسا انسٹی ٹیوٹ‘‘ کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد پولش یک جہتی تحریک کی کام یابیوں کو عام کرنا، نوجوان نسل کو تعلیم اور جمہوریت کو فروغ دینا، جب کہ پولینڈ اور دنیا بھر میں سول سوسائٹی کی تعمیر کرنا ہے۔
اپنی صدارت کے خاتمے کے ٹھیک ایک روز بعد لیخ ولیسا، گڈانسک شپ یارڈ میں دوبارہ اپنے الیکٹریشن کےپرانے پیشے پر لوٹ آئے، جہاں انہوں نے 29 سال قبل الیکٹریشن کی حیثیت سے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا تھا۔ اُنہوں نے شپ یارڈ پہنچنے کے بعد کہا کہ ’’میرے پاس گزر بسر کے لیے پیسے نہیں ہیں ،اس لیے میرا کام کرنا ضروری ہے۔ چھے سال بعد پہلی مرتبہ گڈانسک شپ یارڈ میں رپورٹ کرنے پہنچے، تو انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ ’’مَیں نے ہمیشہ خود کو شپ یارڈ کا مزدور سمجھا ہے، چاہے مَیں کسی بھی مقام پر رہا ہوں۔‘‘
پولینڈ کےسابق صدرولیسا کی صبح سویرے گڈانسک شپ یارڈ میں اپنی 250 ڈالر ماہانہ کی ملازمت پرواپسی جتنی عجیب تھی، اُتنی ہی معنی خیز بھی۔ اُن کی علی الصباح گڈانسک شپ یارڈ میں اچانک آمد نے انتظامیہ کو اس وقت حیرت زدہ کردیا، جب وہ ایک سرکاری مرسڈیز بینز کی پچھلی نشست پر بیٹھ کردو باڈی گارڈز کے ساتھ شپ یارڈ کے دروازے پر پہنچے، وہ سلیقے سے بنائے ہوئے بالوں، سوٹ اور ٹائی میں ملبوس تھے۔
پولش قانون کے تحت صدارتی محل میں پانچ سال گزارنے کے بعد اُنہیں یہی واحد سہولت حاصل تھی، یعنی ایک گاڑی اور دو سرکاری محافظ۔پرانی ملازمت دوبارہ اختیار کرنے پر شپ یارڈ میںسولیڈیریٹی موومنٹ کے ایک حامی نے کہا۔ ’’یہ ہمارے اور پولینڈ کے عوام کے لیے شرمندگی کا لمحہ ہونا چاہیے۔‘‘ اس موقعے پر ایک کارکن نے پیچ کسوں کا ایک پیکٹ پیش کیا، تو انھوں نے کہا۔ ’’مَیں یہاں اس لیے آیا ہوں، کیوں کہ میں اُن کا دوست ہوں... اور آج مَیں اپنی دوستی کا اظہار کرسکتا ہوں۔‘‘ اس موقعے پر گڈانسک شپ یارڈ کے صدر، ریشارد گولوخ نے سابق صدر لیخ ولیسا کا خیرمقدم کیا کہ وہ پانچ برس پولینڈ کے سربراہِ مملکت رہ چکے ہیں اور ہمارے لیے لائق احترام ہیں۔ ولیسا سے چائے پر ملاقات کے بعد انہوں نے کہا۔ ’’لیکن میرا نہیں خیال کہ آپ کے لیے شپ یارڈ میں دوبارہ الیکٹریشن کی حیثیت سےکام کرنا کسی صُورت ممکن ہوگا۔‘‘
لیخ ولیسا کوکارکنوں کی یک جہتی تحریک کی بدولت پولینڈ میں کمیونسٹ حکومت کے خاتمے کے اعتراف میں دنیا کے مختلف ممالک اور اداروں کی جانب سے30 سے زائد سرکاری اعزازات اور ایوارڈ دیئے جاچکے ہیں۔ وہ1981ء میں ’’ٹائم پرسن آف دی ایئر‘‘ قرار پائے اور امریکی ٹائم میگزین کے مطابق، 20ویں صدی کی 100اہم ترین شخصیات میں شامل ہوئے۔ لیخ ولیسا کو دنیا کی مختلف یونی ورسٹیز کی جانب سے چالیس سے زائد اعزازی ڈگریز بھی عطا کی گئیں، جن میں ہارورڈ، فورڈھم اور کولمبیا یونیورسٹیز شامل ہیں۔
انہیں درجنوں اعلیٰ ریاستی اعزازات سے بھی نوازا گیا، جن میں پریزیڈینشل میڈل آف فریڈم، نائٹ گرانڈ کراس آف دی آرڈر آف دی باتھ اور فرانسیسی گرانڈ کراس آف لیجن آف آنر شامل ہیں۔نیز، وہ دنیا کے30سے زائد شہروں کے اعزازی شہریت بھی رکھتے ہیں۔ لیخ ولیسا، پہلے غیرملکی ہیں، جنہوں نے1989ء میں ملک کا سربراہِ مملکت نہ ہونے کے باوجود امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔
انھوں نے2024ءکے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کام یابی کو ’’امریکا اور دنیا دونوں کے لیے ایک بدقسمتی‘‘ قرار دیا تھا۔ان کی عظیم خدمات کے اعتراف میں 2004ءمیں پولینڈ کے گڈانسک انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا نام بدل کر ’’گڈانسک لیخ ولیسا ایئرپورٹ‘‘ رکھ دیا گیا اور شکاگو کے نارتھ ایسٹرن الینوائے یونی ورسٹی کے ایک ہال، چھے شاہ راہوں اور کینیڈا، فرانس، سویڈن اور پولینڈ کے پانچ اسکولز بھی ان کے نام سے منسوب کیے گئے، جب کہ انہیں انٹرنیشنل ٹریڈیشنل کراٹے فیڈریشن کی طرف سے اعزازی بلیک بیلٹ بھی دی گئی۔
(مضمون نگار، سابق افسرِ تعلقات عامہ، ای او بی آئی، ڈائریکٹر سوشل سیفٹی نیٹ، پاکستان ہیں)