انسان وقت کے دھارے میں بہتا ایک ایسا مسافر ہے، جس کے قدم تو ہمیشہ آگے بڑھتے ہیں، مگر دل اکثر پیچھے رہ جاتا ہے۔ یہی پیچھے رہ جانے والا دل جب ماضی کی گلیوں میں بھٹکتا ہے تو ایک خاص کیفیت جنم لیتی ہے، جسے ہم ’’ناسٹیلجیا‘‘ (Nostalgia) کہتے ہیں۔ یہ محض یاد نہیں، بلکہ ایک ایسا جذباتی تجربہ ہوتا ہے، جس میں خوشی اور اداسی ایک ساتھ سانس لیتی ہے۔ ناسٹیلجیا دراصل ماضی کے اُن لمحوں کی بازگشت ہے، جو گزر تو جاتے ہیں، مگر ختم نہیں ہوتے، ہمارے اندر ہی کہیں محفوظ رہتے ہیں۔
کبھی کسی خُوشبو کی صُورت، کبھی کسی آواز کی شکل میں اور کبھی کسی پرانی تصویر میں اور یہ یادیں ہمیں اُس وقت زیادہ شدت سے گھیرتی ہیں،جب حال میں کوئی خلا محسوس ہو، یا جب زندگی اپنی برق رفتاری میں ہمیں خُود سے بھی دُور لے جائے۔ یہ محض ایک جذباتی کیفیت نہیں، یہ انسانی شعور کی ایک گہری تہہ ہے، جہاں وقت، یاد اور شناخت ایک دوسرے میں تحلیل ہوجاتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے، جہاں انسان ماضی کو صرف یاد نہیں کرتا بلکہ اُسے دوبارہ تخلیق (Reconstruct) کرتاہے۔ اپنی خواہشات، محرومیوں اور حال کی کمیوں کے مطابق۔
ناسٹیلجیا کا ایک نفسیاتی و فکری زاویہ یہ ہے کہ ابتدائی طور پر اِسے ایک بیماری سمجھا جاتا تھا، خاص طور پر اُن لوگوں میں جو اپنے وطن سے دُور ہوتے تھے اور گھرکی یاد (Home sickness) بہت شدّت سے محسوس کرتے تھے۔ یہ لفظ پہلی بار 17ویں صدی میں ایک سوئس ڈاکٹر نے استعمال کیا تاکہ گھر کی یاد سے پیدا ہونے والی ذہنی کیفیت کو بیان کیا جا سکے۔ مگر جدید نفسیات میں یہ ایک Cognitive-emotional process مانا جاتا ہے۔
یہ دراصل یادداشت کا ایک انتخابی عمل ہے، جس میں انسان ماضی کو ویسے یاد نہیں کرتا، جیسا وہ تھا، بلکہ ویسا یاد کرتا ہے، جیسا وہ محسوس کرنا چاہتا ہے۔ اس میں Loss (کھوجانا)اور Longing (تڑپ) مرکزی عناصر ہوتے ہیں۔ گویا ناسٹیلجیا ایک طرح کی Meaning-making activity ہے، جس کے ذریعے انسان اپنی زندگی کو معنویت دیتا ہے۔ اگر ہم اس کی اقسام (Theoretical Insight) کی بات کریں تو ماہرین ناسٹیلجیا کو دو اقسام میں تقسیم کرتے ہیں۔
Restorative Nostalgia : یہ ناسٹیلجیا کی وہ قسم ہے، جس میں انسان ماضی کوصرف یاد نہیں کرتا بلکہ اُسے واپس لانے یا اصل حالت میں بحال کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ انسان سمجھتا ہے، ماضی ایک مثالی دَور تھا، جب کہ موجودہ زمانہ اُسے کم تر یا بُرا محسوس ہوتا ہے۔ وہ چاہتا ہے، پرانی اقدار واپس آئیں، پرانا نظام ’’اصل حالت‘‘ میں بحال ہوجائے۔ اس تصور کو خاص طور پر ثقافتی و سیاسی مباحث میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
کچھ لوگ ماضی کو ایک Golden age اور حال کو اس کے مقابلے میں کم تر تصور کرتے ہیں، نتیجتاً ماضی واپس لانے کے نظریات پیش کرتے ہیں۔ اگر اس خواہش کی جانچ فوائد ونقصانات مدِنظر رکھتے ہوئے کی جائے تو مثبت پہلو یہ نظر آتا ہے کہ یہ ثقافتی شناخت محفوظ رکھنےکی ایک کوشش، روایات سےجُڑنے کاجذبہ ہے اور منفی پہلو حقیقت کو نظرانداز کرنا، حال اور مستقبل بہتر بنانے کے بجائے صرف ماضی میں جینا اور ترقی کی رفتار کا رُک جانا ہے۔
Reflective Nostalgia : یہ ناسٹیلجیا کی وہ قسم ہے، جس میں انسان ماضی واپس لانےکی کوشش نہیں کرتا، بس اُسے سوچتا، محسوس کرتا اوراُس پر غور کرتا ہے۔ ایک نرم، اداس اور شعوری کیفیت کےساتھ۔ یعنی ماضی کوبدلنے کی خواہش کے بغیر صرف اس پر غور کرتا ہے۔ اس میں انسان جانتا ہے کہ ماضی واپس نہیں آسکتا۔
وہ ماضی کو ایک یاد، تجربے یا احساس کے طور پر قبول کرتا ہے۔ اِس میں قبولیت، اداسی اور فکری گہرائی پائی جاتی ہے۔ جیسے اپنے پرانے اسکول، بچپن کے دوستوں کو یاد کرنا، مگر یہ بھی ذہن میں رکھنا کہ وقت بہت بدل چُکا ہے۔ کسی پرانے شہر کی تصاویردیکھ کرصرف جذباتی ہونا،اسےواپس لانےکی کوشش نہ کرنا وغیرہ وغیرہ۔ ادب زیادہ تر Reflective Nostalgia پرمبنی ہوتا ہے۔
عالمی ادب میں مارسل پروست کا شاہ کار In Search of Lost Time ناسٹیلجیا کی سب سےبڑی مثال ہے، جس میں ایک معمولی سی خوشبو(چائے میں ڈوبا کیک) پورا ماضی زندہ کردیتی ہے۔ یہ Involuntary memory (غیرارادی یاد)کا تصور ہے۔ ولادیمیر نابوکوف کے ہاں ناسٹیلجیا جلاوطنی (Exile) کا درد اور کھوئے ہوئے وطن کی خُوب صُورت مگر دھندلی تصویر ہے۔ گیبریل گارسیا مارکیز کے ہاں ناسٹیلجیا جادوئی حقیقت نگاری کےساتھ جُڑ جاتا ہےکہ ماضی کبھی مکمل ختم نہیں ہوتا بلکہ وہ حال میں مداخلت کرتا رہتا ہے۔
اُردو ادب میں انتظارحسین کا شمار سب سے بڑے بیانیہ کاروں میں ہوتا ہے۔ اُن کے ہاں ماضی ایک مہاجرت کا دُکھ ہے۔ پرانا شہر، داستانیں، اور تہذیب، سب ایک کھوئی ہوئی جنّت بن جاتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں۔’’آدمی جہاں بھی جاتا ہے، اپنا ماضی ساتھ لے جاتا ہے۔‘‘ یہ جملہ ناسٹیلجیا کی اصل رُوح کو ظاہر کرتا ہے۔
اُن کا بیانیہ دراصل یہ سوال اُٹھاتا ہے کہ کیا ہم کبھی واقعی اپنے ماضی سے نکل پاتے ہیں؟ قراۃ العین حیدرکے ہاں ناسٹیلجیا تاریخ اور ذات کے ملاپ سے بنتا ہے، جیسا کہ وہ ’’آگ کا دریا‘‘ میں لکھتی ہیں۔ ’’وقت ایک دریا ہے اور ہم سب اس میں بہتے ہوئے اپنے اپنے کنارے تلاش کرتےرہتے ہیں۔‘‘
یہاں ماضی صرف یاد نہیں بلکہ ایک مسلسل بہاؤ ہے، جو انسان کو اپنی جڑوں سے جوڑتا بھی ہے اور جُدا بھی کرتا ہے۔ سعادت حسن منٹو ناسٹیلجیا کو رومانی نہیں بناتے بلکہ اُسے ایک زخم کی صُورت پیش کرتے ہیں۔ تقسیمِ ہند کے بعد کا ماضی، ٹوٹے ہوئے رشتےاور بکھری ہوئی شناخت اُن کےہاں ناسٹیلجیا، ایک طرح کا Trauma ہے، جیسے وہ ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ میں لکھتے ہیں۔ ’’وہ زمین کہاں ہے، جہاں میرا گاؤں تھا؟‘‘یہاں ماضی ایک ایسی جگہ بن جاتا ہے، جو اب نقشے پرموجود نہیں۔
یہ ناسٹیلجیا کا سب سے کرب ناک پہلو ہے۔ اشفاق احمد کے افسانوں میں ناسٹیلجیا ایک نرم،روحانی کیفیت ہے، جیسے ’’گڈریا‘‘ میں لکھا۔ ’’سادگی میں ایک عجیب سکون تھا، جواب کہیں نہیں ملتا۔‘‘ یہ ماضی کی طرف ایک روحانی واپسی ہے، جہاں انسان خودکومکمل محسوس کرتا تھا۔
اِسی طرح ناسٹیلجیا اور شاعری کا تعلق بھی بہت گہرا اور فطری ہے۔ شاعری دراصل جذبات، تجربات اوریادوں کوالفاظ میں ڈھالنے کا فن اور ناسٹیلجیا وہ کیفیت ہے، جو ماضی کو دوبارہ زندہ کردیتی ہے۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ ناسٹیلجیا شاعری کی رُوح میں شامل ایک خاموش لہر ہے۔ جب شاعرماضی کی کوئی محبّت یاد کرتا ہے۔
گزرے وقت کو محسوس کرتا یا کھوئی ہوئی دنیادیکھتا ہےتو اس کے اندر ایک کیفیت جنم لیتی ہے، جس میں خوشی بھی ہوتی ہے اور اداسی بھی اوریہی کیفیت ناسٹیلجیا ہے۔ میر تقی میر کے ہاں یہ ’’یاد اور ماضی کی کسک‘‘ کی صُورت بہت گہرے اندازمیں ملتا ہے۔ ؎ ’’پتّا پتّا، بُوٹا بُوٹا حال ہمارا جانے ہے… جانے نہ جانے گُل ہی نہ جانے، باغ تو ساراجانے ہے۔‘‘ اس شعر میں میر نے اپنے درد، بکھری ہوئی حالت اورماضی کی کیفیت کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ پوری کائنات اُس کی حالت کی گواہ بن جاتی ہے۔ یہ ناسٹیلجیا کی ایک بہت لطیف شکل ہے۔
جہاں یاد صرف ذہن میں نہیں، پوری فضا میں پھیل جاتی ہے۔ مرزا غالب کے ہاں یہ کیفیت ؎ ’’وہ فراق اور وہ وصال کہاں… وہ شب و روز و ماہ و سال کہاں۔‘‘ کی صُورت نظر آتی ہے،جس میں گزرے لمحات کی واپسی کی ناممکن خواہش جھلکتی ہے۔ پھر مومن خان مومن کا یہ شعر دیکھیے۔؎ ’’وہ جو ہم میں ،تم میں قرار تھا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو…وہی یعنی وعدہ نباہ کا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔‘‘ یہاں ماضی کی محبت ایک نرم مگر گہری یاد بن کر لوٹتی ہے۔
ایسا ناسٹیلجیا، جوشکوہ بھی ہے اور خاموش محبّت بھی۔ جون کہتے ہیں۔ ؎ ’’اب نہیں کوئی بات خطرے کی… اب سبھی کوسبھی سے خطرہ ہے۔‘‘ جون کے ہاں ناسٹیلجیا ماضی کی نسبت، حال کابگاڑ نمایاں کرتا ہے۔ ایک ایسا احساس کہ ’’پہلے سب کچھ بہتر تھا‘‘۔ غرض، ناسٹیلجیا شاعری میں صرف ماضی کی یاد نہیں، بلکہ یاد کا درد، وقت کا زوال، اور کھوئی ہوئی دنیا کی جمالیاتی بازگشت ہے۔
ناسٹیلجیا صرف ادب تک محدود نہیں، یہ ایک گہری نفسیاتی کیفیت بھی ہے۔ ماہرین کے مطابق جب انسان حال میں کسی کمی، تنہائی یا عدم تحفظ کا شکار ہوتاہے، تو وہ ماضی کی طرف رجوع کرتا ہے اور ماضی اُسے ایک ایسی دنیا فراہم کرتا ہے، جہاں سب کچھ زیادہ سادہ، زیادہ محفوظ اور زیادہ خُوب صُورت محسوس ہوتا ہے۔ لیکن یہ ہمیشہ سچ نہیں ہوتا۔ اکثر ہم ماضی کوویسا یاد نہیں کرتے، جیسا وہ تھا، بلکہ ویسا یاد کرتے ہیں، جیسا ہم اُسے دیکھنا چاہتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ناسٹیلجیا میں ایک طرح کا وہم بھی شامل ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہےکہ ناسٹیلجیا ایک نعمت ہے یا زحمت؟ تو اس کا سیدھا سادہ جواب ہے۔ ’’ناسٹیلجیا ایک خُوب صُورت احساس بھی ہے اور ایک خطرہ بھی۔‘‘اگریہ حد میں رہے تو انسان کواپنی جڑوں سے جوڑتا، سکون دیتا، شناخت مضبوط بناتا ہے، لیکن اگر یہ حد سےبڑھ جائے تو انسان کوحال سےکاٹ کے ماضی میں قید کرتا، زندگی کی روانی سُست ترکر دیتا ہے۔
ہم کہہ سکتے ہیں، انسان کی وقت کوروک لینے یا کم از کم اُسے دوبارہ محسوس کرنے کی خواہش کانام ’’ناسٹیلجیا‘‘ ہے۔ مگر وقت کا دھارا کبھی نہیں رُکتا، سدا بہتا رہتا ہے، یہاں تک کہ انسان کو بھی اپنے ساتھ بہا لےجاتا ہے۔ شاید اِسی لیے ناسٹیلجیا ہمیشہ ادھورا رہتا ہے۔
یاد رکھیں، ہم کسی طور ماضی میں واپس نہیں جاسکتے، ہم صرف اُسے محسوس کر سکتے ہیں۔ تواگلی بارجب کوئی یاد آپ کے دل میں ہلکی سی چُبھے، تو اُسے ہرگز روکنے کی کوشش نہ کریں کہ ناسٹیلجیا وہ مرمریں کسک ہے، جو ہمیں یہ یاد دلاتی ہےکہ ہم نےبھی کبھی بہت خُوب صُورت لمحے جیے تھے۔