• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری: کربلا کا درس

پروفیسر ڈاکٹر محمود غزنوی

کربلا کا المیہ محض چودہ سو سال پرانی (واقعۂ کربلا 10 محرم 61 ہجری، بمطابق 10 اکتوبر 680 عیسوی کو پیش آیا۔ سو، عیسوی کیلنڈر کے مطابق واقعۂ کربلا کو1346 سال اور اسلامی (ہجری) کیلنڈر کے مطابق1386 سے1387 سال ہوچُکے ہیں) کسی جنگ کا احوال نہیں اور نہ ہی یہ تاریخ کے کسی تہہ خانے میں دبا ہوا وہ قصّہ ہے، جسے سال میں ایک بار نکال کر اُس کی گرد جھاڑی جائے اور پھر مصلحتوں کی الماری میں بند کر دیا جائے۔

کربلا تو انسانی شعور کے سفر میں حق و باطل کا وہ آفاقی معیار ہے، جو وقت کے ساتھ پرانا ہونے کے بجائے مزید نکھرتا چلا جاتا ہے۔ کسی بھی زندہ معاشرے کے لیے یہ سوال ہمیشہ اہم رہتا ہے کہ ایک نظام کے طور پر معاشرے کی اقدار کیا ہیں اور جب ان اقدار پر سمجھوتا ہونے لگے، تو فرد کا ردِعمل کیا ہونا چاہیے۔

کسی بھی واقعے کی گہرائی تک پہنچنے کے لیے اس کے عمرانی ارتقاء (Sociological Evolution) کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس مدنی معاشرے کی بنیاد رکھی تھی، اُس کا اصل حُسن یہ تھا کہ وہاں اقتدار کسی خاندان کی جاگیر نہیں تھا، بلکہ فیصلے ’’شوریٰ‘‘ اور اہلیت کی بنیاد پر ہوتے تھے۔

وہ ایک ایسا سماج تھا، جہاں کا عام شہری بھی وقت کے حاکم سے اُس کے کُرتے کے کپڑے کا حساب مانگنے کا حوصلہ رکھتا تھا۔ لیکن خلافتِ راشدہ کے بعد مسلم سوسائٹی میں ایک فکری اور ساختیاتی تبدیلی (Structural Shift) آنے لگی۔ آہستہ آہستہ وہ قبائلی عصبیتیں اور ملوکیت (Monarchy) کے جراثیم دوبارہ بےدار ہونے لگے، جنہیں اسلام نے کچل دیا تھا۔

یزید کا تخت نشین ہونا محض ایک فرد کی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ یہ اس نظریاتی انحراف (Ideological Deviation) کا نقطۂ کمال تھا جہاں ’’طاقت ہی حق ہے‘‘ (Might is Right) کے فلسفے کو دین کا لبادہ اوڑھانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ ایسے میں حصرت امام حسینؓ کا موقف کسی ذاتی عناد یا سیاسی اقتدار کی خواہش کا نتیجہ نہیں تھا۔

آپؓ دیکھ رہے تھے کہ اگر اس موڑ پر خاموشی اختیار کر لی گئی، تو آنے والی نسلیں جبر، آمریت اور اخلاقی پستی کو بھی اسلامی نظام کا حصّہ سمجھنے لگیں گی۔ چناں چہ مدینہ چھوڑتے وقت آپ کا یہ اعلان کہ ’’میرا مقصد اپنے نانا کی اُمّت کی اصلاح اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے۔‘‘ دراصل اس بیانیے کی بنیاد تھا، جس نے ملوکیت کے سامنے بیعت کا انکار کر کے ’’حق ہی طاقت ہے‘‘ کے آفاقی اصول کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔

اگر ہم ماضی کے ان صفحات سے نظریں ہٹا کر موجودہ معاصر عالمی حالات کا جائزہ لیں، تو محسوس ہوتا ہے کہ انسانیت کا یہ سفر آج بھی وہیں رُکا ہوا ہے۔ آج کا جدید عالمی نظام (Modern World Order) اُسی پرانی یزیدی فکر کا ایک نیا، کارپوریٹ اور مہذّب ایڈیشن ہے۔ طاقت وَر ممالک کا کم زور قوموں پر معاشی اور فوجی تسلّط، اور اپنے مفادات کے لیے عالمی قوانین کو موم کی ناک بنا دینا اِسی ملوکیت کا تسلسل ہے۔

آج جب ہم فلسطین کے محصور عوام کو دیکھتے ہیں، جو دنیا کی جدید ترین جنگی مشینری اور عالمی بےحسی کے سامنے تنِ تنہا اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، تو ہمیں کربلا کا منظرنامہ بالکل واضح دکھائی دیتا ہے۔ غزہ کی وہ مائیں، جو اپنے بچّوں کے جنازے اُٹھا کر بھی صبر اور استقامت کا دامن نہیں چھوڑتیں، وہ دراصل ثانیِ زہرا سلام اللہ علیہا کی اس انقلابی روایت کی امین ہیں، جس نے ظلم کے دربار میں بھی حق کا پرچم سرنگوں ہونے نہیں دیا تھا۔

بالکل اسی طرح کشمیر ہو یا دنیا کا کوئی بھی دوسرا مظلوم خطّہ، جہاں انسانوں کی آزادی سلب کی جا رہی ہے، وہاں کربلا کا پس منظر عملاً موجود ہے۔ بقول اقبال ؒ؎ نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری… کہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دل گیری۔

اس پورے منظرنامے میں سب سے تکلیف دہ پہلو مسلم اُمّہ کا اپنا معاصر کردار ہے۔ دو ارب کے قریب آبادی اور بے پناہ قدرتی وسائل کے باوجود عالمی فیصلوں میں مسلمانوں کا وزن نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ وہی مصلحت پسندی اور ’’کوفی ذہنیت‘‘ ہے، جس نے تاریخ کے اہم ترین موڑ پر خطوط لکھ کر بلانے کے بعد بھی نواسہِ رسولؐ کو تنہا چھوڑ دیا تھا۔ آج کے مسلمان حُکم ران اپنے اقتدار کے تحفّظ اور معاشی مفادات کی خاطر مظلوموں کی نسل کُشی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، اور یہ مجرمانہ خاموشی دراصل باطل کی بالواسطہ تائید ہے۔

ہمارے اپنے سماجی اور مُلکی حالات بھی اس فکری زوال سے الگ نہیں ہیں۔ معاشروں میں بڑھتی ہوئی ناانصافی، قانون کی پامالی، اور عام آدمی کا بے بس ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم مجموعی طور پر یزیدی رویوں کو قبول کر چُکے ہیں۔ جب سچ بولنے کی قیمت چُکانی پڑے اور مصلحت کو حکمت کا نام دے کر ضمیروں کا سودا کیا جانے لگے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ کربلا ہمارے گھروں تک پہنچ چُکی ہے۔

واقعۂ کربلا ہمیں صرف اشک بہانے اور ماضی کا مرثیہ پڑھنے کادرس نہیں دیتا، بلکہ یہ تو ایک عملی متبادل بیانیہ (Alternative Narrative) فراہم کرتا ہے۔ اس کا سب سے پہلا درس باطل کے سامنے ’’لا‘‘ (انکار) کہنے کی جرات ہے۔ جب پورا معاشرہ خوف یا فائدے کے تحت خاموش ہو، تو وہاں اصولوں پر کھڑے ہو کر انکار کرنا ہی حقیقی بےداری کی بنیاد بنتا ہے۔

دوسرا درس یہ ہے کہ فتح کا معیار تیر و تفنگ اور عددی برتری نہیں، بلکہ کردار کی بلندی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ سو سال بعد بھی یزید ایک عبرت کا نشان ہے اور حسینؑ انسانیت کے ماتھے کا جھومر ہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید