• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا بھر میں ہر سال 11جولائی کو اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ’’اقوام متحدہ پاپولیشن فنڈ‘‘ کے زیرِ اہتمام ’’عالمی یومِ آبادی‘‘ منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتی آبادی کے نقصانات، خاندانی منصوبہ بندی کے فقدان، صنفی عدم مساوات، بڑھتی غربت اور انسانی حقوق کی عدم فراہمی جیسے اہم مسائل سے متعلق عوامی بے داری پیدا کرنا ہے۔ بظاہر یہ دن آبادی کے اعداد و شمار اور شماریاتی رجحانات سے متعلق محسوس ہوتا ہے، لیکن درحقیقت اس کا دائرہ کہیں وسیع ہے۔

یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آبادی محض تعداد یا گنتی نہیں، بلکہ انسانی زندگیوں کے لیے موجود کم وسائل، مواقع، حقوق اور امکانات کا مجموعہ ہے۔دنیا بھر ہی میں آبادی میں مسلسل ہوش رُبا اضافے سے بہت دُور رس اثرات مرتّب ہورہے ہیں، جس کے نتیجے میں معاشی ترقی، روزگار، آمدنی کے ذرائع، وسائل کی تقسیم متاثر ہونے کے ساتھ صحت، تعلیم، رہائش، صفائی، پانی، خوراک اور توانائی کی سہولتوں تک عالمی رسائی یقینی بنانے کی کوششوں میں بھی رکاوٹوں کا سامنا ہے، لہٰذا اس ضمن میں فوری ٹھوس منصوبہ بندی، اہم اقدامات ناگزیر ہیں، جن میں شرحِ خواندگی میں اضافہ سرفہرست ہے کہ تعلیم و شعور ہی سے وسائل و مسائل کے مابین فرق کی تمیز ممکن ہے۔ میڈیا اور صحت عامّہ کے اداروں کے ذریعے چھوٹے خاندان کے فوائد اجاگر ہونے چاہئیں۔ معاشرے میں مرد و زن کی برابری یقینی بنائی جائے، تاکہ خواتین کو بھی خاندان کے فیصلوں میں شراکت کا حق حاصل ہو۔

انسانی تاریخ کے بیش تر حصّے میں دنیا کی آبادی بڑھنے کی رفتار اور شرح نسبتاً سست رہی۔ ہزار برسوں میں آبادی ایک ارب تک پہنچی، مگر گزشتہ دو صدیوں میں اس رفتار میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آئی۔ 1804ءمیں عالمی آبادی ایک ارب تک پہنچی۔ اس کے بعد 1927ءمیں دو ارب، 1960ء میں تین ارب، اور 1999ء میں چھے ارب کا ہندسہ عبور کرگئی۔2011ء میں یہ تعداد سات ارب سے بڑھ گئی، جب کہ آج دنیا کی آبادی آٹھ ارب سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر طبی ترقی، بہتر غذائیت کے حصول، بیماریوں پر قابو اور شرحِ اموات میں کمی کا نتیجہ ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ہر سال دنیا کی آبادی میں تقریباً 8کروڑ سے زائد افراد کا اضافہ ہو رہا ہے، لیکن یہ اضافہ دنیا بھر میں یک ساں نہیں۔ جیسا کہ افریقا میں آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے، جب کہ یورپ کے کئی ممالک میں شرحِ پیدائش کم ہونے کے باعث آبادی سکڑ رہی ہے۔ اسی طرح عالمی اوسط عمر بھی گزشتہ دو دہائیوں میں 67برس سے بڑھ کر 72برس ہوچکی ہے، جو انسانی ترقی کا ایک اہم اشاریہ ہے۔ مذکورہ اعدادو شمار اور اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (UNFPA) کی گزشتہ برس کی رپورٹ ’’State of World Population 2025‘‘ کے مطابق، اصل مسئلہ آبادی کی تعدادکا نہیں بلکہ لوگوں کی تولیدی آزادی اور انتخاب کے حق کا فقدان ہے۔

دنیا بھر میں لاکھوں افراد ایسے ہیں، جو اپنی خواہش کے مطابق بچّوں کی تعداد یا خاندانی منصوبہ بندی نہیں کرتے۔ اس کی وجوہ میں معاشی دباؤ، بے روزگاری، منہگائی، رہائش کے مسائل اور صحت و تعلیم کی ناکافی سہولتیں شامل ہیں۔ یہ صورت ِحال خاص طور پر نوجوانوں کو متاثر کرتی ہے، جو ایک طرف اپنے مستقبل سے متعلق غیر یقینی صورتِ حال کا شکار ہیں، تو دوسری طرف ماحولیاتی و معاشی دباؤ کا سامنا بھی کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام ِمتحدہ نوجوانوں کی شمولیت کو پالیسی سازی میں مرکزی حیثیت دینے پر زور دے رہی ہے۔

اگر اپنے ملک پاکستان کی بات کی جائے تو یہ دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔ اس کی مجموعی آبادی 24سے 25کروڑ کے درمیان ہے اور یہ مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہ صُورتِ حال ایک طرف چیلنج ہے، تو دوسری طرف ایک بڑا موقع بھی۔ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصّہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اگر اس نسل کو معیاری تعلیم، جدید ہنر، صحت، روزگار اور مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تو یہ ملک کی ترقی کا انجن بن سکتی ہے، لیکن اگر ان شعبوں میں تنزلی کا عمل جاری رہا، تو یہی آبادی وسائل پر دباؤ بڑھا سکتی ہے، کیوں کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے بڑے چیلنجزمیں سرِفہرست خوراک کی ضرورت، پانی کی قلت، بے روزگاری، تعلیمی اداروں کی کمی، صحت کا نظام اور شہری مسائل شامل ہیں۔

توانائی اور ماحولیات یعنی بجلی، گیس اور ایندھن کی طلب میں اضافے کے باعث قدرتی وسائل پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے، جب کہ وہ یہ تیزی سے ختم ہوتے جارہے ہیں۔ عالمی درجہ بندی کے لحاظ سے پاکستان کُل عالمی آبادی کے3.12 فی صد حصّے پر مشتمل دنیا کے اُن8 ممالک میں شامل ہے، جن کی آبادی 2050 ء تک سب سے تیزی سے بڑھنے کی توقع ہے۔ نیز، اس آبادی کی ایک بہت بڑی تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

آبادی میں مستقل اضافے کے باعث ملکی وسائل، خوراک، تعلیم اور صحت کی سہولتوں پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، جب کہ دوسری طرف خاندانی منصوبہ بندی کے فقدان کے سبب حاملہ خواتین اور زچّہ و بچہ کی شرحِ اموات میں بھی تشویش ناک حد تک اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

اگرچہ حکومتی سطح پر آبادی پر کنٹرول یقینی بنانے کے لیے مختلف پالیسیز اور ’’اقوامِ متحدہ پاپولیشن فنڈ‘‘ جیسے عالمی اداروں کے ساتھ مل کر آگاہی پروگرام تشکیل دیے جا رہے ہیں۔ تاہم، ملک کو پائے دار ترقی کی راہ پر گام زن کرنے کے لیے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ہنرمند اور کارآمد افرادی قوت میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

یاد رہے، تعمیر و ترقی صرف آبادی کے حجم سے نہیں، انسانی صلاحیتوں کے درست استعمال سے مشروط ہے۔ اگر نوجوانوں کو مواقع، امید اور اختیار دیا جائے تو وہ نہ صرف اپنی زندگیاں بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ ایک مضبوط، خوش حال اور پائے دار معاشرے کی بنیاد بھی رکھ سکتے ہیں کہ ایک روشن مستقبل اعداد و شمار میں نہیں، بہتر انتخاب، مساوی مواقع اور روشن امکانات میں پوشیدہ ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید