• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ویپنگ سے مراد الیکٹرانک یا ای-سگریٹ کے ذریعے نکوٹین یا دیگر کیمیائی مادّے بخارات کی صُورت سانس کے ذریعے جسم میں داخل کرنا ہے۔ یہ ڈیوائس عام طور پر بیٹری، ہیٹنگ ایلیمنٹ اور ایک کارٹریج یا ٹینک پر مشتمل ہوتی ہے، جس میں ای-لیکویڈ موجود ہوتا ہے۔ جب صارف ڈیوائس استعمال کرتا ہے، تو مائع گرم ہو کر بخارات میں تبدیل ہو جاتا ہے اور پھر براہِ راست پھیپھڑوں تک پہنچتا ہے۔

ابتدا میں ویپنگ کو روایتی سگریٹ نوشی کے نسبتاً کم نقصان دہ متبادل کے طور پر متعارف کروایا گیا تھا اور اس کا بنیادی ہدف ایسے بالغ افراد تھے، جو تمباکو نوشی تَرک کرنا چاہتے تھے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ویپنگ انڈسٹری نے اپنی مارکیٹنگ حکمتِ عملی تبدیل کر دی۔

رنگین ڈیوائسز، میٹھے فلیورز، جدید ڈیزائن، سوشل میڈیا تشہیر اور انفلوئنسر مارکیٹنگ نے اسے نوجوانوں کے لیے ایک پُرکشش پراڈکٹ بنا دیا۔ آج ویپنگ صرف نکوٹین کے استعمال کا ذریعہ نہیں، بلکہ کئی ممالک میں ایک سماجی رجحان اور طرزِ زندگی کی علامت بن چُکی ہے۔ پاکستان میں بھی گزشتہ چند برسوں کے دوران اِس کے استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

دست یابی، استعمال اور پھیلاؤ: پاکستان میں ویپنگ کے ضمن میں جامع قومی سطح کے اعداد و شمار محدود ہیں، تاہم مختلف مطالعات، مارکیٹ رپورٹس اور مشاہدات سے واضح ہوتا ہے کہ اس کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد، راول پنڈی، فیصل آباد اور دیگر بڑے شہری مراکز میں ویپ شاپس کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ، آن لائن مارکیٹ نے بھی اِس رجحان کو تیزی سے فروغ دیا ہے۔

ویپنگ مصنوعات کی آسان دست یابی ایک اہم مسئلہ ہے۔ متعدّد آن لائن پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا پیجز پر عُمر کی مؤثر تصدیق کے بغیر یہ مصنوعات فروخت کی جاتی ہیں۔ کم قیمت ڈسپوزایبل ویپس نے بھی نوجوانوں کے لیے اِس عادت کو مزید قابلِ رسائی بنا دیا ہے۔ کئی نوجوان محض تجسّس یا دوستوں کے اثر و رسوخ کے تحت اس کا استعمال شروع کرتے ہیں، لیکن بعد ازاں نکوٹین کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کی نوجوان آبادی دنیا کی بڑی نوجوان آبادیوں میں شمار ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ویپنگ انڈسٹری کے لیے یہ ایک بڑی مارکیٹ بن سکتی ہے۔

اگر یہ رجحان بروقت نہ روکا گیا، تو آنے والے برسوں میں نکوٹین کی لت اور متعلقہ صحت کے مسائل میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ چند سال پہلے تک ویپنگ مصنوعات صرف مخصوص دکانوں یا درآمدی سامان فروخت کرنے والے مراکز تک محدود تھیں، لیکن اب یہ بڑے شاپنگ مالز، موبائل ایکسیسریز کی دُکانوں، آن لائن مارکیٹ پلیسز اور سوشل میڈیا کے ذریعے آسانی سے دست یاب ہیں۔ کئی نوجوانوں کو پہلی بار ویپنگ کا تعارف اپنے دوستوں، سوشل میڈیا یا آن لائن اشتہارات کے ذریعے ہوتا ہے۔

چوں کہ ویپنگ مصنوعات اکثر جدید ٹیکنالوجی یا لائف اسٹائل پراڈکٹ کے طور پر پیش کی جاتی ہیں، اِس لیے نوجوان انہیں روایتی تمباکو مصنوعات کے مقابلے میں کم خطرناک سمجھ لیتے ہیں۔ تشویش ناک امر یہ ہے کہ کم عُمری میں ویپنگ کا آغاز مستقبل میں نکوٹین پر انحصار کے خطرات بڑھا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جس عُمر میں نوجوانوں کی ذہنی، جذباتی اور سماجی نشوونما جاری ہوتی ہے، اُسی عمر میں نکوٹین کا استعمال اُن کے رویّوں اور صحت پر دیرپا اثرات مرتّب کر سکتا ہے۔ اگر اِس رجحان کی مؤثر نگرانی نہ کی گئی، تو یہ مستقبل میں ایک بڑے صحتِ عامّہ کے مسئلے کی صُورت اختیار کر سکتا ہے۔

فیشن، شناخت اور گروہی دباؤ: ویپنگ کی مقبولیت کے پیچھے صرف نکوٹین نہیں، بلکہ اس کے سماجی پہلو بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ نوجوانی کے دَور میں سماجی قبولیت اور گروہی شناخت کی خواہش انتہائی مضبوط ہوتی ہے۔ بہت سے نوجوان اپنے دوستوں کے رویّوں سے متاثر ہو کر نئی عادات اختیار کرتے ہیں اور ویپنگ بھی اِنہی عادات میں شامل ہے۔ بعض تعلیمی اداروں اور شہری حلقوں میں ویپنگ کو جدیدیت، آزادی اور فیشن کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

نوجوان سوشل میڈیا پر ویپنگ سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے ہیں، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے۔ مختلف فلیورز، جدید ڈیوائسز اور دھویں کے بڑے بادل بنانے کے رجحانات نے اِسے ایک تفریحی سرگرمی کی شکل دے دی ہے۔ نیز، گروہی دباؤ بھی ایک اہم عُنصر ہے۔ بہت سے نوجوان ابتدائی طور پر صرف دوستوں کی وجہ سے ویپنگ آزمانے پر آمادہ ہوتے ہیں، پھر وقت کے ساتھ یہ تجرباتی استعمال باقاعدہ عادت میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ماہرین سماجی ماحول کو ویپنگ کے پھیلاؤ کا ایک اہم عامل قرار دیتے ہیں۔ ویپنگ کے پھیلاؤ میں سوشل میڈیا کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر چُکا ہے۔ نوجوان روزانہ کئی گھنٹے مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر گزارتے ہیں، جہاں اُنہیں ویپنگ سے متعلق مواد بار بار دِکھائی دیتا ہے۔ رنگین ڈیوائسز، پُرکشش فلیورز، دھویں کے مختلف انداز اور متاثر کن ویڈیوز نوجوانوں کے ذہنوں کو متاثر کرتی ہیں۔

نتیجتاً ویپنگ کو اکثر ایک جدید اور قابلِ قبول سرگرمی سمجھا جانے لگتا ہے۔مزید برآں، نوجوانی کے دَور میں اپنی شناخت قائم کرنے کی خواہش بہت مضبوط ہوتی ہے۔ بعض نوجوان ویپنگ کو اپنی شخصیت کا حصّہ بنا لیتے ہیں اور اسے خود اعتمادی، جدیدیت یا سماجی حیثیت سے جوڑتے ہیں۔ اگر کسی گروپ میں ویپنگ کو معمول سمجھا جائے، تو نئے افراد بھی خود کو اس ماحول کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اِس طرح ایک فرد کا ذاتی فیصلہ رفتہ رفتہ اجتماعی رویّے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

نوجوان ویپنگ کی طرف کیوں راغب ہوتے ہیں؟ نوجوانی وہ عُمر ہے، جس میں شخصیت سازی، جذباتی تبدیلیاں اور سماجی شناخت کی تشکیل کا عمل جاری ہوتا ہے۔ اس دوران تجسّس، نئی چیزیں آزمانے کی خواہش اور خطرات مول لینے کا رجحان نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ ویپنگ اِن تمام عوامل کو اپنی طرف متوجّہ کرتی ہے۔تعلیمی دباؤ، مستقبل کے خدشات، بے روزگاری کا خوف، خاندانی مسائل اور سماجی دباؤ نوجوانوں کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

بعض نوجوان وقتی سکون حاصل کرنے کے لیے نکوٹین کی طرف مائل ہوتے ہیں، جو دماغ میں ڈوپامائن کے اخراج کو متاثر کرتی ہے، جس سے وقتی خوشی یا سکون کا احساس پیدا ہو سکتا ہے، لیکن یہی عمل بعد میں انحصار اور لت کی بنیاد بن جاتا ہے۔اس کے علاوہ بہت سے نوجوان ویپنگ کو خودمختاری اور انفرادیت کے اظہار کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ یہ ان کی ذاتی پسند اور آزادی کی علامت ہے۔

درحقیقت، یہ تصوّر بڑی حد تک مارکیٹنگ اور سماجی اثرات کے ذریعے تشکیل پاتا ہے۔ بعض نوجوان امتحانات، تعلیمی مقابلے، خاندانی تنازعات یا سماجی دباؤ کی وجہ سے ذہنی تناؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر مناسب رہنمائی یا نفسیاتی معاونت دست یاب نہ ہو، تو وہ ویپنگ جیسے رویّوں کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ وقتی سکون کے حصول کی یہ کوشش بعد میں ایک مستقل عادت میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس سے نکلنا آسان نہیں ہوتا۔

طالبات میں ویپنگ، ایک خاموش مگر تشویش ناک رجحان: پاکستان میں خواتین میں روایتی تمباکو نوشی کی شرح نسبتاً کم رہی ہے، لیکن ویپنگ نے اِس صُورتِ حال کو تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ جدید ڈیزائن، خُوش بُودار فلیورز اور نسبتاً کم نمایاں استعمال نے اسے بعض طالبات کے لیے زیادہ قابلِ قبول بنا دیا ہے۔ کئی طالبات ویپنگ کو ذہنی دباؤ کم کرنے، سماجی میل جول بڑھانے یا فیشن کا حصّہ سمجھتی ہیں۔

بعض حلقوں میں یہ غلط تصوّر بھی پایا جاتا ہے کہ ویپنگ سگریٹ کے مقابلے میں تقریباً بے ضرر ہے، جس کی وجہ سے اس کے استعمال میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ چوں کہ خواتین میں اِس موضوع پر کُھل کر بات کرنے کا رجحان کم ہے، اِس لیے اس کے حقیقی پھیلاؤ کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا، تو مستقبل میں خواتین کی مجموعی صحت، تولیدی صحت اور خاندانوں پر اس کے اثرات مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔ اِسی لیے طالبات اور نوجوان خواتین کے لیے مخصوص آگاہی پروگرامز کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔

محفوظ ہونے کا غلط تصوّر: ویپنگ کو اکثر روایتی سگریٹ کے مقابلے میں کم نقصان دہ قرار دیا جاتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ محفوظ ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں کے لیے نکوٹین کا استعمال کئی جسمانی اور ذہنی خطرات سے وابستہ ہے۔ نکوٹین، دماغ کی نشوونما کو متاثر کر سکتی ہے، خاص طور پر اُن افراد میں جن کی عُمر25 سال سے کم ہو۔ یادداشت، توجّہ، سیکھنے کی صلاحیت اور جذباتی توازن پر اس کے منفی اثرات مرتّب ہو سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ نکوٹین پر انحصار مستقبل میں دیگر نشہ آور اشیاء کے استعمال کے خطرات بھی بڑھا سکتا ہے۔ پھیپھڑوں کے ضمن میں بھی متعدّد خدشات موجود ہیں۔ ویپنگ سے پیدا ہونے والے بخارات میں مختلف کیمیائی اجزاء شامل ہوتے ہیں، جو نظامِ تنفس کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مسلسل استعمال کھانسی، سانس پُھولنے اور دیگر تنفسی مسائل سے منسلک ہو سکتا ہے۔ اِسی طرح دل اور خون کی نالیوں پر بھی اس کے منفی اثرات رپورٹ کیے گئے ہیں۔ ذہنی صحت کے تناظر میں بھی ویپنگ ایک اہم مسئلہ ہے۔

اگرچہ بعض نوجوان اسے ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، لیکن طویل مدّت میں نکوٹین کا انحصار اضطراب، بے چینی اور مُوڈ کی خرابیوں سے بھی منسلک پایا گیا ہے۔صحتِ عامہ کے ماہرین اِس امر پر زور دیتے ہیں کہ ویپنگ کے طویل المدّتی اثرات سے متعلق تحقیق جاری ہے، تاہم موجودہ شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ اسے مکمل طور پر محفوظ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ویپنگ مائعات میں شامل مختلف کیمیائی مادّے حرارت کے زیرِ اثر نئے مرکبات تشکیل دے سکتے ہیں، جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

نوجوانوں میں نکوٹین پر انحصار ایک خاص تشویش کا باعث ہے کہ اِس عُمر میں دماغ ابھی نشوونما کے مراحل سے گزر رہا ہوتا ہے۔ مسلسل نکوٹین استعمال کرنے والے نوجوانوں میں توجّہ، تعلیمی کارکردگی، فیصلہ سازی اور جذباتی توازن متاثر ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اِسی لیے ماہرین ویپنگ کو صرف ایک انفرادی عادت نہیں، بلکہ صحتِ عامّہ کے مسئلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

قانونی خلا، پالیسی کی کم زوریاں: پاکستان میں ویپنگ کے ضمن میں واضح اور جامع قانون سازی کا فقدان ہے۔ تمباکو کنٹرول قوانین بنیادی طور پر روایتی تمباکو مصنوعات پر مرکوز ہیں، جب کہ ویپنگ ایک نسبتاً نیا شعبہ ہے۔ عُمر کی پابندیوں کے نفاذ، آن لائن فروخت کی نگرانی، مصنوعات کے معیار کی جانچ اور اشتہارات کے ضابطوں میں کئی کم زوریاں موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کے لیے ان مصنوعات تک رسائی آسان ہے۔

متعدّد غیر معیاری یا نان رجسٹرڈ مصنوعات بھی مارکیٹ میں دست یاب ہیں، جن کے اجزاء اور معیار سے متعلق صارفین کو مکمل معلومات نہیں ہوتیں۔ مؤثر قانون سازی، سخت نگرانی اور عوامی آگاہی مہمّات ویپنگ کے پھیلاؤ کو محدود کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں اور پاکستان میں بھی اِس حوالے سے مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔

پھر قانون سازی کے ساتھ، نفاذ کا مسئلہ بھی انتہائی اہم ہے۔ تعلیمی اداروں کے قریب ویپنگ مصنوعات کی فروخت، سوشل میڈیا پر غیر منظّم تشہیر اور کم عُمر افراد تک رسائی اِس امر کی نشان دہی ہے کہ نگرانی کے موجودہ نظام میں بہتری کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو ویپنگ سے متعلق ایک واضح قومی پالیسی کی ضرورت ہے، جس میں مصنوعات کے معیار، لیبلنگ، اشتہارات، آن لائن فروخت اور عُمر کی حد سے متعلق واضح قوانین شامل ہوں۔

انفرادی خرچ سے قومی بوجھ تک: ویپنگ کو بعض اوقات نسبتاً کم خرچ عادت سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کے معاشی اثرات وسیع ہیں۔ نوجوان باقاعدگی سے ویپنگ مصنوعات پر خرچ کرتے ہیں، جو مجموعی طور پر ایک قابلِ ذکر رقم بنتی ہے۔ یہ اخراجات اکثر جیب خرچ، تعلیمی ضروریات یا دیگر مفید سرگرمیوں کے لیے مختص وسائل کو متاثر کرتے ہیں۔

قومی سطح پر دیکھا جائے، تو نکوٹین سے پیدا ہونے والے مسائل نظامِ صحت پر اضافی بوجھ ہے۔ اگر ویپنگ سے منسلک بیماریوں میں اضافہ ہوتا ہے، تو علاج، ادویہ اور طبّی سہولتوں پر مزید وسائل خرچ کرنے پڑیں گے۔ اِس طرح ایک بظاہر ذاتی عادت، وسیع معاشی اثرات کا باعث بن سکتی ہے۔

والدین، اساتذہ اور معاشرے کا کردار: ویپنگ کا حل صرف قانون سازی سے ممکن نہیں۔ والدین، اساتذہ، ماہرینِ صحت، میڈیا اور سماجی رہنماؤں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچّوں کے ساتھ اعتماد پر مبنی تعلق قائم کریں اور کُھلے انداز میں نکوٹین اور ویپنگ کے خطرات پر گفتگو کریں۔

تعلیمی اداروں میں آگاہی پروگرامز، ذہنی صحت کی معاونت اور مثبت سرگرمیوں کا فروغ نوجوانوں کو صحت مند متبادل فراہم کر سکتا ہے۔ اساتذہ صرف معلومات فراہم کرنے تک محدود نہ رہیں، بلکہ طلبہ کی رہنمائی اور معاونت میں بھی فعال کردار ادا کریں۔ میڈیا، بالخصوص سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی اِس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

روک تھام کی حکمتِ عملی: ویپنگ کا پھیلاؤ روکنے کے لیے جامع حکمتِ عملی درکار ہے۔ اس میں تعلیم، قانون سازی، نگرانی، آگاہی اور نوجوانوں کی شمولیت سب شامل ہیں۔ عُمر کی پابندیوں پر سختی سے عمل درآمد، آن لائن فروخت کی مؤثر نگرانی، اشتہارات پر ضابطے اور غیر معیاری مصنوعات کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔ اِسی طرح کمیونٹی سطح پر آگاہی مہمّات اور نوجوانوں کے لیے مثبت سرگرمیوں کا فروغ بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ نوجوانوں کو صرف مسئلے کا حصّہ نہیں، بلکہ اس کے حل کا حصّہ بھی بنایا جانا چاہیے۔ جب نوجوان خود آگاہی مہمّات میں شامل ہوتے ہیں، تو ان کا پیغام اپنے ہم عُمر افراد پر زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

پاکستان میں ویپنگ کا بڑھتا رجحان درحقیقت صحتِ عامّہ، تعلیم، معیشت، سماجی استحکام اور قومی ترقّی سے وابستہ ایک کثیرالجہتی چیلنج بن چُکا ہے۔ نوجوانوں کو ہدف بنا کر کی جانے والی مارکیٹنگ، سوشل میڈیا کا اثر، آسان دست یابی، آگاہی کی کمی اور کم زور ضابطہ کاری نے اِسے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اگرچہ ویپنگ کو بعض حلقوں میں نسبتاً کم نقصان دہ متبادل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن نوجوانوں میں نکوٹین کی لت، ذہنی و جسمانی صحت پر منفی اثرات، مستقبل میں دیگر نشہ آور اشیاء کے استعمال کے بڑھتے امکانات اور نظامِ صحت پر پڑنے والا اضافی بوجھ ایسے حقائق ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اِس مسئلے کا مؤثر حل صرف ایک ادارے یا ایک شعبے کے بس کی بات نہیں، بلکہ حکومت، تعلیمی اداروں، ماہرینِ صحت، والدین، میڈیا، مذہبی و سماجی رہنماؤں اور خود نوجوانوں کی مشترکہ اور مسلسل کوششیں درکار ہیں۔ آج اٹھایا جانے والا ہر مؤثر قدم آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، صحت مند اور باصلاحیت مستقبل فراہم کر سکتا ہے، جب کہ غفلت کی قیمت پورے معاشرے کو کئی دہائیوں تک چُکانا پڑ سکتی ہے۔

(مضمون نگار، پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ اور چیف میڈیکل آفیسر، محکمۂ صحت، سندھ ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید