• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رائے سازی کا سفر: جبر و قہر سے شعور و آگہی تک

رابعہ فاطمہ

رائے سازی انسانی سماج کا ایک نہایت اہم اور بنیادی عمل ہے، جس کے ذریعے افراد اپنے خیالات، نظریات اور فیصلے تشکیل دیتے ہیں۔ یہ عمل بظاہر ایک آزاد ذہنی سرگرمی محسوس ہوتا ہے، لیکن درحقیقت پسِ پردہ کئی پیچیدہ عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔

یاد رہے، انسان جو کچھ سوچتا ہے، وہ محض اُس کی ذاتی ذہانت یا تجربے کا نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ اس میں اس کے ماحول، تعلیم اور معاشرتی ڈھانچے کا بھی گہرا اثر شامل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے، کسی معاشرے میں ایک ہی معاملے پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں اور اس تنوّع کی بنیاد محض ذاتی سوچ نہیں بلکہ وہ فکری سانچے ہیں،جن میں اذہان کو ڈھالا جاتا ہے۔

سو، ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ رائےسازی کس حد تک ایک خُود مختارانہ عمل ہے، نیز یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ کن عوامل کےباعث انسان اپنی رائے کو خود ساختہ سمجھتا ہے۔ ان سوالات کی گہرائی ہمیں معاشرتی نفسیات کے پیچیدہ پہلوؤں تک لے جاتی ہے اور یہی وہ مقام ہے، جہاں رائے سازی ایک سادہ عمل نہیں رہتی بلکہ ایک منظّم، بااثر نظام بن جاتی ہے اور اس نظام کو سمجھنا آج کے دَور میں ازحد ضروری ہے۔

فلسفیانہ نقطۂ نظر سے رائے سازی کا تعلق شعور و ادراک سے جوڑا جاتا ہے، لیکن یہ شعور خُود بھی مکمل طور پر آزاد نہیں۔ انسان جو کچھ دیکھتا،سمجھتا ہے، وہ اُس کے ذہنی فریم ورک کے مطابق ہوتا ہے اور یہ فریم ورک اُس کی پرورش، تعلیم اور معاشرتی تعاملات کے ذریعے تشکیل پاتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا مشکل ہوتا ہے کہ رائے واقعی فرد کی اپنی ہے یا اس پر بیرونی اثرات غالب ہیں۔ فلسفہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقت سمجھنے کے لیے سوال کرنا ضروری ہے، لیکن عملی طور پر اکثر افراد اپنی رائے کو حتمی سچ سمجھ لیتے ہیں اور یہی وہ مقام ہے، جہاں تنقیدی فکر کی ضرورت شدّت سے محسوس ہوتی ہے۔

اگر انسان اپنی سوچ کے ماخذ پرغور نہ کرے، تو وہ آسانی سے فکری جال میں پھنس سکتا ہے اوراس جال میں پھنس کر وہ اپنی ہی رائے کو حقیقت سمجھ کر دوسروں پر مسلّط کرنے لگتا ہے۔ اس طرح رائے سازی ایک ذاتی عمل سے نکل کر اجتماعی اثرکا ذریعہ بن جاتی ہے اور یہی عمل معاشرے کی سمت متعیّن کرتا ہے۔ معاشرتی علوم کے ماہرین رائے سازی کو ایک ’’اجتماعی مظہر‘‘ قراردیتے ہیں، جو فرد اورمعاشرے کے باہمی تعلق سے پیدا ہوتا ہے۔

فرد اپنی شناخت اورسوچ معاشرتی ڈھانچے کے اندر رہ کر تشکیل دیتا ہے۔ خاندان، اسکول، مذہب اور ثقافت جیسے عناصر فردکی سوچ متاثرکرتے ہیں۔ ان عناصر کے ذریعے ایک مخصوص بیانیہ فرد کے ذہن میں راسخ کیا جاتا ہے اور یہ بیانیہ اتنا طاقت وَر ہوتا ہے کہ فرد اُسے اپنی ذاتی رائے سمجھنے لگتا ہے۔ اسی وجہ سے معاشرتی اقدار نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہیں۔

یہ عمل بہ ظاہر فطری محسوس ہوتا ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک منظّم تربیتی نظام کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس نظام میں سوال کرنے کی حوصلہ افزائی کم اوراطاعت کی ترغیب زیادہ دی جاتی ہے۔ نتیجتاً، فرد کی آزاد سوچ محدود ہوجاتی ہے۔ وہ وہی سوچتا ہے، جو اُسے سکھایا جاتا ہے اور اس طرح رائے سازی ایک خُود کار عمل بن جاتی ہے۔

جدید دَور میں میڈیا نے رائے سازی کےعمل کو ایک نئی جہت دی ہے۔ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کےذریعےمعلومات کا سیلاب سا آ گیا ہے، جس نے انسان کی سوچ تیزی سے متاثر کی ہے۔ اب فردصرف اپنے قریبی ماحول سے نہیں، عالمی سطح پر موجود بیانیوں سےبھی متاثر ہوتا ہےاوران کےاثرات نہایت گہرے ہوتے ہیں۔ میڈیا مخصوص اندازمیں خبریں پیش کرکے ایک خاص زاویۂ نظرپیدا کرتا ہے،جسے عوام لاشعوری طور پر قبول کرلیتے ہیں۔

یہی وجہ ہے، میڈیا کو ’’ریاست کا چوتھا ستون‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ تاہم، اس طاقت و اختیارکے ساتھ ذمّےداری بھی وابستہ ہے، جو ہمیشہ پوری نہیں کی جاتی۔ بعض اوقات میڈیا مخصوص مفادات کے تحت رائےسازی کرتا ہےاور یوں سچ اور رائے کے درمیان موجود حدِ فاصل دُھندلاجاتی ہے۔ فرد یہ سمجھنے سے قاصر رہتا ہے کہ کیا وہ خُود سوچ رہا ہے یا اُسے سوچنے پر مجبورکیا جا رہا ہے؟ اور یہ صورتِ حال رائے سازی کے جال کو مزید پیچیدہ کر دیتی ہے۔

نفسیاتی اعتبار سے دیکھا جائے، تو انسان فطری طور پرسماجی قبولیت کا خواہش مند ہوتا ہے۔ وہ اپنی رائےاِس طرح ڈھالتا ہے کہ وہ معاشرتی اصولوں سے متصادم نہ ہو۔ یہ رجحان بعض اوقات اُسے اپنی اصل سوچ دبانے پر بھی مجبور کردیتا ہے۔ انسان اکثر اپنی حقیقی سوچ کے اظہار کی بجائے وہ بات کہتا ہے، جو دوسروں کو پسند آئے۔ اس عمل کو ’’سماجی ہم آہنگی‘‘ کہا جاتا ہے، لیکن یہ عمل رائے سازی کی آزادی محدود کر دیتا ہے۔

اس کے نتیجے میں ایک ایسا ماحول پیدا ہوتا ہے، جہاں مختلف آراء دب کر رہ جاتی ہیں اور یہی ماحول فکری جمود کو جنم دیتا ہے، لہٰذایہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ رائے سازی ایک پیچیدہ اور کثیرالجہتی عمل ہے،جس میں داخلی وخارجی دونوں عوامل شامل ہوتے ہیں۔ انسان اپنی رائے کو آزاد سمجھتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ مختلف اثرات کے زیرِسایہ تشکیل پاتی ہے اور ان اثرات کو سمجھے بغیر ہم رائے سازی کاعمل مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتے۔

یہاں چند سوالات ذہن میں اُٹھتے ہیں کہ کیا تاریخ، میڈیا، نفسیات اور طاقت رائے سازی کو متاثر کرتے ہیں؟ کیا واقعی آزاد خیالی ممکن ہے؟ اور اگر ممکن ہے، تو اس کے لیے کن شرائط کی ضرورت ہے؟ یہ سوالات نہ صرف علمی بلکہ عملی اہمیت بھی رکھتے ہیں، کیوں کہ اِن سوالات کی روشنی ہی میں ہم اپنے مستقبل میں جھانک سکتے ہیں۔

تاریخی تناظر میں رائے سازی کا مفہوم

انسانی تاریخ کا مطالعہ یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ رائے سازی ہمیشہ طاقت کے مراکز کےساتھ وابستہ رہی، یہ کبھی بھی مکمل طورپرآزادانہ سرگرمی نہیں رہی۔ قدیم تہذیبوں میں حُکم ران طبقہ عوامی سوچ، اپنے مفادات کے مطابق تشکیل دیتا تھا۔ بادشاہوں کے فرامین کو حتمی سچ سمجھا جاتا تھا اورعوام کو اُن پر سوال اُٹھانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ اُس دَور میں نہ صرف علم اور معلومات تک رسائی محدود تھی، بلکہ عوامی شعور بھی محدود تھا۔

نتیجتاً، رائے سازی یک طرفہ عمل بن جاتی، جس میں عوام محض پیروکار ہوتے، جب کہ اس نظام میں اختلاف کو بغاوت سمجھا جاتا تھا، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اُس دَور میں اجتماعی سوچ یک ساں نظر آتی تھی اور یہ یک سانیت دراصل فکری آزادی کی کمی کا نتیجہ تھی۔ اس تناظر میں دیکھا جائے، تو رائے سازی دراصل ایک کنٹرولڈ عمل تھا، جس میں طاقت وَر طبقہ مرکزی کردار ادا کرتا تھا۔

یونانی فلسفہ رائےسازی کا تصوّر سمجھنے میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے،جس میں پہلی بار رائےاور علم کے مابین واضح فرق کیا گیا۔ افلاطون نے رائے کو غیر یقینی اور عارضی قرار دیا، جب کہ علم کو حقیقت کےقریب سمجھا۔ اس فلسفیانہ بحث نے انسان کو اپنی سوچ پر غور کرنے کی ترغیب دی۔ تاہم، عملی سطح پررائےسازی پھر بھی سماجی وسیاسی اثرات سے آزاد نہ ہوسکی۔

سقراط نے سوال اُٹھانے کی روایت کو فروغ دیا، لیکن اس کی قیمت اُسے اپنی جان دے کر چُکانی پڑی۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ آزاد سوچ ہمیشہ خطرات سے خالی نہیں ہوتی۔ یونانی معاشرے میں گرچہ مکالمہ موجود تھا، لیکن اس کے باوجود طاقت کے ڈھانچے رائے سازی پر اثرانداز ہوتے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فکری آزادی کا تصوّر نظری طور پر تو موجود، لیکن عملی طور پر محدود تھا اور یہ تضاد آج بھی مختلف شکلوں میں موجود ہے۔

قرونِ وسطیٰ میں مذہب نے رائے سازی کے عمل پر مکمل گرفت حاصل کرلی تھی اور اُس دَور میں مذہبی ادارے عوامی شعورکی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتے تھے۔ اُس زمانے میں مذہبی بیانیہ ہی واحد سچ سمجھا جاتا تھا اور اس سے اختلاف کوگُم راہی یا کُفر قراردیا جاتا۔ تب تعلیم اورعلم تک رسائی محدود تھی، جس کے باعث عوام زیادہ تروہی سچ مانتے، جو اُنہیں بتایا جاتا۔

اس ماحول میں تنقیدی فکر کی گنجائش نہ ہونے کے برابر تھی۔ مذہبی پیشواعوامی رائے کو ایک خاص سمت لےجاتے، اور یہ سمت اکثر اقتدار کے استحکام کے لیے ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ اُس دَور کو ’’فکری جمود کا دَور‘‘ بھی کہا جاتا ہے اور اس جمود نے انسانی ترقّی کی رفتارسُست تر کردی۔

بعدازاں، نشاۃِ ثانیہ اورروشن خیالی کے ادوار نے رائے سازی کےعمل میں ایک نئی رُوح پھونکی، تو انسان کو سوچنے، سوال کرنے کا حق ملا۔ اُس دَور میں علم کی روشنی پھیلی اور سائنسی و فکری ترقّی نےنئی راہیں کھول دیں۔ گرچہ ان ادوار میں فرد کو اپنی رائے قائم کرنے کی آزادی ملی، لیکن اس کے ساتھ ہی نئے فکری نظام بھی وجود میں آئے۔ ان نظاموں نے اپنی جگہ نئے بیانیے پیدا کیے، جو لوگوں کی سوچ متاثر کرتے تھے۔

اس طرح گرچہ پُرانے جبر کا خاتمہ ہوا، لیکن اس کی جگہ نئے اثرات نے لے لی۔ آزادی کے ساتھ ذمّےداری بھی آئی، لیکن ہرفرد یہ ذمّے داری نبھانے کے قابل نہ تھا۔ نتیجتاً، بہت سے لوگ نئے بیانیوں کے زیرِاثرآگئے۔ یہ بیانیے بعض اوقات ترقّی کےنام پرایک خاص سوچ کو فروغ دیتے تھے اور اس طرح رائے سازی ایک بار پھر اثرات کے دائرے میں آگئی، تاہم اس بار یہ اثرات زیادہ پیچیدہ اور لاشعوری تھے۔

جدید دَور میں جمہوریت کے فروغ نے رائے سازی کو ایک نئی جہت دی ہے کہ جہاں عوامی رائے کو فیصلہ سازی میں بنیادی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ انتخابات، عوامی مباحثے اور میڈیا کے ذریعے رائےسازی کو باقاعدہ منظّم کیا جانے لگا ہے۔ بظاہر یہ ایک آزادعمل دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے پسِ پردہ بھی مختلف مفادات کارفرما ہوتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اور طاقت وَر ادارے عوامی رائے متاثر کرنے کے لیے مختلف حکمت عملیاں اختیار کرتے ہیں۔

اشتہارات، بیانیے اور جذباتی اپیلز کے ذریعے لوگوں کی سوچ ایک خاص سمت کی جانب موڑی جاتی ہے اور اس طرح رائے سازی ایک منظّم مُہم کی صُورت اختیارکرلیتی ہے۔ عوام یہ سمجھتے ہیں، وہ آزادانہ طور پرفیصلےکررہے ہیں، حالاں کہ اُن کی سوچ پہلےہی متاثرہوچُکی ہوتی ہے۔یہ صُورتِ حال جمہوریت کے تصوّر کو چیلنج کرتی ہے، کیوں کہ حقیقی آزادی صرف اُسی وقت ممکن ہے، جب رائے آزاد ہو۔

اِس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ رائےسازی کبھی بھی مکمل طور پر آزادانہ سرگرمی نہیں رہی بلکہ ہردَورمیں مختلف قوّتوں نے اسے متاثر کیا اور یہ حقیقت ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا آج کا انسان واقعی آزاد ہے یا وہ بھی ایک ایسے جدید اور پیچیدہ نظام کا حصّہ ہے کہ جو اُس کی سوچ تشکیل دے رہا ہے۔

اس سوال کا جواب آسان نہیں، لیکن اس کا جائزہ لینا ضروری ہے،کیوں کہ یہی سوال ہماری فکری آزادی کی بنیاد ہے۔ اگرہم اپنی سوچ کا ماخذ ہی نہ سمجھیں، توہم کبھی بھی حقیقی آزادی حاصل نہیں کرسکتے، جب کہ یہی شعور ہمیں ’’رائے سازی کے اَن دیکھے جال‘‘ سے نکلنے میں مدد دے سکتا ہے۔

میڈیا کا کردار

جدید دَورمیں میڈیا رائےسازی کا سب سےطاقت وَرذریعہ بن چُکا ہے اور اس کی رسائی معاشرے کے ہر فرد تک ہے۔ اخبارات، ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا نے معلومات کے بہاؤ کو تیز ترکردیا ہے،جس کے نتیجےمیں انسان ہر لمحہ نِت نئی معلومات میں گِھرا رہتا ہے۔ بظاہر یہ معلومات انسان کے وسعتِ شعور میں اضافہ کرتی ہیں، لیکن حقیقت میں یہ رائےسازی کاعمل بھی متاثر کرتی ہیں۔

میڈیا نہ صرف معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ ان کی ترتیب اور پیش کش کے ذریعے ایک خاص زاویۂ نظر بھی فراہم کرتا ہے اور پھر بتدریج یہ زاویۂ نظر عوامی رائے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ فرد یہ سمجھتا ہے کہ اُس کی سوچ آزاد ہے، حالاں کہ اُس کی سوچ پہلے ہی ترتیب دی جا چُکی ہوتی ہے۔

اس طرح میڈیا ایک خاموش مگر مؤثر طاقت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اس کی اثر پذیری اتنی گہری ہے کہ لوگ اس کے اثرات محسوس بھی نہیں کرتے اور یہی غیر محسوس اثر اسے مزید خطرناک بنا دیتا ہے، تو ایسے میں میڈیا کے کردار کا تنقیدی جائزہ بھی ناگزیر ہوجاتا ہے۔

میڈیا کی طاقت اُس کے ’’انتخابی عمل‘‘ میں پوشیدہ ہے، جہاں وہ یہ طے کرتا ہے کہ کون سی خبر اہم ہے اور کون سی نہیں۔ یہ انتخابی عمل ہی دراصل رائےسازی کی بنیاد بنتا ہے۔ اگر کسی مسئلے کو باربار نمایاں کیا جائے، تو وہ عوامی توجّہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ اس کےبرعکس اگر کسی اہم معاملے کو نظرانداز کردیا جائے، تو وہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ اس طرح میڈیا نہ صرف معلومات دیتا ہے بلکہ ترجیحات بھی طے کرتا ہے۔

یہ ترجیحات عوامی سوچ کوبراہِ راست متاثر کرتی ہیں اور پھرلوگ انہی مسائل کو اہم سمجھنے لگتے ہیں، جو میڈیا دکھاتا ہے۔ اس عمل کو ’’ایجنڈا سیٹنگ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا طریقہ ہے، جس کے ذریعے عوامی رائےکو غیرمحسوس انداز میں کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اس میں جبرنہیں بلکہ نرم اثر ہوتا ہے اور یہی نرمی ہی اس کی اصل طاقت ہے۔

سوشل میڈیا نے رائے سازی کے عمل کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے، کیوں کہ اب ہر صارف خود بھی ایک ذریعۂ ابلاغ بن گیا ہے۔ فیس بُک، ٹوئٹر اور دیگر پلیٹ فارمز پر لوگ اپنی آراء کا اظہار کرتے ہیں اوردوسروں کو متاثرکرتےہیں۔ بظاہر یہ ایک جمہوری عمل ہے، لیکن اس میں بھی الگورتھمز کا کردار اہم ہے۔ یہ الگورتھمز صارف کو وہی مواد دکھاتے ہیں،جو اس کی پسند کے مطابق ہو۔ اس کےنتیجے میں ایک ایسا ماحول پیدا ہوتا ہے،جہاں فرد صرف اپنی ہی سوچ سے ملتی جلتی آراء دیکھتا ہے۔

اُسے مخالف نقطۂ نظر سے آگہی نہیں ہوتی اور یہ صُورتِ حال فکری تنگ نظری کو فروغ دیتی ہے، نیز فرد اپنی رائے کو حتمی سمجھنے لگتا ہے۔ یوں مکالمہ مفقود اور تقسیم بڑھ جاتی ہےاور یہی تقسیم معاشرتی ہم آہنگی متاثر کرتی ہے۔ میڈیا میں سنسنی خیزی اور جذباتی اپیل بھی رائے سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہے، کیوں کہ عمومی طور پر انسان منطقی دلائل سے زیادہ جذباتی پیغامات سے متاثر ہوتا ہے۔ خبروں کو اِس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ وہ ناظرین کے جذبات کو اُبھاریں۔

خوف، غم وغصّے اور ہم دردی جیسے جذبات استعمال کر کے ایک خاص ردِعمل پیدا کیا جاتا ہے اور یہ ردِعمل ہی رائے کی تشکیل کا سبب بنتا ہے۔ اس کے نتیجے میں فرد مکمل معلومات کے بغیر ہی فیصلہ کرلیتا ہے۔ یہ عمل بہت خطرناک ہوسکتا ہے، کیوں کہ اس میں حقیقت کی جگہ تاثر غالب ہوتا ہے اورجب تاثر حقیقت پرحاوی آجائے، تو غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔ یہی غلط فہمیاں معاشرتی تناؤ بڑھاتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہےکہ میڈیا ذمّےداری کا مظاہرہ کرے، لیکن عملی طور پر ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا۔

دوسری جانب کاروباری مفادات بھی میڈیا کا کردار متاثر کرتے ہیں، کیوں کہ زیادہ تر میڈیا آئوٹ لیٹس مالی مفادات کے تحت کام کرتے ہیں۔ اشتہارات اور سرمایہ کاری کے دباؤ کے باعث خبریں غیرجانب دارانہ نہیں رہتیں۔ نیز، میڈیا بعض اوقات مخصوص بیانیوں کو فروغ دیتا ہے تاکہ اپنے مفادات کو تحفّظ دے سکے۔

اس طرح سچّائی پس منظر میں چلی جاتی ہے اور مفاد پرستی غالب آجاتی ہے، جب کہ عوام میڈیا پر اندھا اعتماد کرتے ہیں اور اُن کا یہ اعتماد رائے سازی کے عمل کو مزید آسان بنا دیتا ہے، کیوں کہ جب اعتماد ہو، تو سوالات کم جنم لیتے ہیں اور جب سوالات نہ ہوں، تو اثرات زیادہ ہوتے ہیں۔

سو، یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ میڈیا کا کردارمحض معلومات فراہم کرنے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک فعال فکری قوّت بن چُکا ہے،جو معاشرے کی سوچ تشکیل دیتی ہے اور اس کی طاقت کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ یہی میڈیا شعور بےدار کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے اوراس کا غلط استعمال خطرناک نتائج بھی دےسکتا ہے۔اس لیے ضروری ہےکہ افراد ہرخبربِلاسوچے سمجھے قبول نہ کریں بلکہ مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کریں اوران کا آپس میں موازنہ کریں کہ یہی تنقیدی رویّہ رائےسازی کے جال سےبچنے کا واحد راستہ ہے۔

نفسیاتی عوامل

انسانی ذہن کی ساخت بہ ذاتِ خود رائےسازی کےعمل کو گہرائی سے متاثر کرتی ہے، کیوں کہ سوچ کا ہرعمل نفسیاتی بنیادوں پر قائم ہوتا ہے۔ انسان اپنے تجربات، مشاہدات اور جذبات کی بنیاد پردُنیا کو پرکھتا ہے اور یہ تمام عوامل اُس کی رائےتشکیل دیتے ہیں، لیکن یہ عمل مکمل طور پر شعوری نہیں ہوتا،اکثراوقات انسان غیرشعوری فیصلے بھی کرتا ہے۔

اس کےذہن میں موجود تعصّبات و رجحانات اُس کی سوچ متاثر کرتے ہیں اور یہی تعصّبات اُسے بعض معلومات قبول کرنےاوربعض رد کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس طرح رائے سازی ایک غیرمتوازن عمل بن جاتی ہے۔ فرد یہ سمجھتا ہے کہ وہ منطقی فیصلےکررہا ہے، حالاں کہ ان کی بنیاد جذباتی ہوتی ہے اور یہی نفسیاتی پیچیدگی رائے سازی کو مشکل بناتی ہے، جس کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔

’’تصدیقی تعصّب‘‘ ایک اہم نفسیاتی عُنصر ہے، جو رائے سازی کو براہِ راست متاثر کرتاہے، کیوں کہ عام طور پر انسان وہی معلومات قبول کرتا ہے، جو اُس کی موجودہ رائے کے مطابق ہوں، اُنھیں یک سر نظرانداز کردیتا ہے،جو اس کےخیالات سےمتصادم ہوں۔ یہی رجحان انسان کو اپنی سوچ پر قائم رکھتا ہے، چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو۔

اس کے نتیجے میں سچّائی تک رسائی مشکل ہوجاتی ہےاور فرد اپنی ہی سوچ کےدائرے میں قید ہو کے رہ جاتا ہے اور یہی قید فکری ترقّی روکتی ہے۔ جب انسان صرف اپنی پسند کی بات سُنے، تو اس کی سوچ محدود ہوجاتی ہے،یہی محدودیت معاشرتی تقسیم بڑھاتی ہے۔ اس لیے’’تصدیقی تعصّب‘‘ کو سمجھنا اور اس پر قابو پانا ضروری ہے، ورنہ رائے سازی ایک متعصّب عمل بن کے رہ جاتی ہے۔

’’سماجی شناخت‘‘بھی رائےسازی میں اہم کرداراداکرتی ہے، کیوں کہ انسان اپنی شناخت کےمطابق سوچتا ہے۔وہ خُود کوکسی گروہ، قوم یا نظریے سے جوڑتا ہے اور اُسی کے مطابق اپنی رائے قائم کرتا ہے۔ یہ وابستگی اس کی سوچ متاثر کرتی ہے۔ وہ اپنے گروہ کے نظریات دُرست سمجھتا ہے اور دوسروں کے غلط۔ اس طرح ’’ہم‘‘ اور ’’وہ‘‘ کی تقسیم پیدا ہوتی ہے۔ یہ تقسیم مکالمے کو مشکل بنا دیتی ہے اوراختلافِ رائے دشمنی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

یہی صُورتِ حال معاشرتی تناؤ بھی بڑھاتی ہے اور فرد اپنی شناخت کےدفاع میں غیرمنطقی دلائل بھی پیش کرتا ہے۔ اس طرح حقیقت پسندی کم اور رائے سازی جذباتی ہوجاتی ہے، جو ایک خطرناک رجحان ہے۔’’خوف اور عدم تحفّظ‘‘ بھی رائےسازی متاثر کرتے ہیں، کیوں کہ انسان غیریقینی صُورتِ حال میں جلدی فیصلے کرتا ہے۔ جب فرد کو خطرہ محسوس ہو، تو وہ سادہ اور فوری جوابات تلاش کرتا ہے۔ اس موقعے پر وہ آسانی سے کسی بھی بیانیے کو قبول کرلیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بُحران کے وقت عوامی رائے تیزی سے بدل جاتی ہے۔ لوگ ایسے رہنماؤں یا نظریات کی طرف مائل ہوتے ہیں، جو اُنہیں تحفّظ کا احساس دیں۔ اس عمل میں منطق پیچھےرہ جاتی ہے اور جذبات غالب آ جاتے ہیں۔ گرچہ یہ جذباتی فیصلے بعض اوقات غلط ثابت ہوتے ہیں، لیکن اُس وقت تک دیر ہو چُکی ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بُحران کے وقت بھی تنقیدی سوچ برقرار رکھی جائے، کیوں کہ یہی فکری توازن قائم رکھتی ہے۔

’’عادت اور تکرار‘‘ بھی رائے سازی پر اثر انداز ہوتی ہے، کیوں کہ بار بار دُہرائی جانے والی بات سچ محسوس ہونے لگتی ہے۔ اگر کوئی خیال مسلسل پیش کیا جائے، تو وہ ذہن میں بیٹھ جاتا ہے اور انسان اسے بغیر سوال کیے قبول کرلیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اشتہارات اور دیگر پروپیگنڈا مشینری بار بار ایک ہی پیغام دُہراتے ہیں۔ یہ تکرار ذہن پر اثر ڈالتی ہے اور فرد کو لگتا ہے کہ یہ بات دُرست ہے، کیوں کہ اس نے اِسے کئی بارسنا ہے۔ گرچہ یہ ایک ’’نفسیاتی فریب‘‘ ہے، لیکن یہ بہت مؤثرہے۔ اس کے ذریعےبڑے پیمانے پر رائےسازی کی جاتی ہے۔

لوگ اس کے زیرِاثر آجاتے ہیں اورانہیں اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ لہٰذا، نفسیاتی عوامل بھی رائےسازی کے عمل میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔ انسان کی سوچ محض منطقی نہیں، جذباتی اور تعصّبات سے بھرپور ہوتی ہے اور یہی عناصر اس کی رائے تشکیل دیتے ہیں۔ اگرہم یہ عوامل نہ سمجھیں، تو اپنی ہی سوچ کے فریب میں مبتلا رہیں گے۔

اس لیے ضروری ہے، انسان اپنے ذہنی رجحانات کا شعور حاصل کرے۔ اپنی کم زوریوں کو پہچانے اور ان پر قابو پانے کی کوشش کرے۔ یہی خود آگہی ہی رائےسازی کے جال سے نکلنے کا پہلا مرحلہ ہے۔ بہ صورتِ دیگرانسان ہمیشہ دوسروں کےاثرمیں رہے گا اور اپنی آزادی کھو دے گا۔ یہی اس بحث کا بنیادی نکتہ ہے۔

طاقت اور سیاست

رائے سازی کے عمل میں طاقت اور سیاست کا کردار مرکزی حیثیت کا حامل ہے، کیوں کہ سیاسی قوّتیں ہمیشہ عوامی سوچ اپنے مفادات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ہر سیاسی نظام میں ’’بیانیہ سازی‘‘ ایک بنیادی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ یہ بیانیہ عوام کو کسی خاص نظریے یا پالیسی کے حق میں قائل کرنے کے لیے ترتیب دیا جاتا ہے۔

بظاہر یہ عوامی مفاد کے نام پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن اس کے پسِ پردہ طاقت کے حصول اوراس کے تحفّظ کا مقصد پوشیدہ ہوتا ہے۔ عوامی رائے کو متاثر کرنے کے لیے زبان، علامات اور تاریخی حوالوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یہ عناصر جذباتی وابستگی پیدا کرتے ہیں۔ اس طرح فرد منطقی تجزیے کی بجائے جذباتی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔ یہ عمل بیانیہ سازی کو مؤثر بناتا اور رائے سازی کے جال کی بنیاد بنتا ہے۔

سیاسی رہنما اپنی تقاریر اور بیانات کے ذریعے ایک خاص تصوّر کو فروغ دیتے ہیں، جسے عوام سچ سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ تصوّر اکثر سادہ اور واضح ہوتا ہےتاکہ عام آدمی آسانی سے اسے سمجھ سکے۔ پیچیدہ مسائل کو سادہ نعروں میں تبدیل کردیا جاتا ہے اور یہ نعرے عوامی ذہن میں جگہ بنا لیتے ہیں،جس کے نتیجے میں لوگ گہرائی میں جانے کی بجائے سطحی سوچ اپناتے ہیں۔ یہی سطحی سوچ سیاسی فائدے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

پھر عوام کو ایک خاص سمت لےجایا جاتا ہےاورانہیں یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ اُن کی سوچ کو منظّم انداز میں متاثر کیا جا رہا ہے۔ یہ عمل جمہوری نظام میں بھی جاری رہتا ہے، جہاں آزادی کے باوجود اثرانداز ہونے کے طریقے زیادہ نفیس ہوجاتے ہیں۔

’’پروپیگنڈا‘‘ بھی رائے سازی کا ایک اہم ذریعہ ہے، جس کی مدد سے مخصوص معلومات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، جب کہ مخالف معلومات کو چُھپا لیا جاتا ہے۔ اس عمل میں سچ اور جھوٹ کا امتزاج ہوتا ہے، جو حقیقت کو دُھندلا دیتا ہے۔ عوام اس دُھند میں اصل حقیقت پہچاننے سے قاصر رہتے ہیں۔

پروپیگنڈا مختلف ذرائع سے کیا جاتا ہے، جیسے میڈیا، سوشل پلیٹ فارمز اور عوامی اجتماعات۔ اس کا مقصد ایک خاص تاثر پیدا کرنا ہوتا ہے اور یہ تاثر حقیقت سے زیادہ اہم بن جاتا ہے۔ لوگ اسی تاثر کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔ اس طرح حقیقت پس منظر میں چلی جاتی ہے اور رائےایک مصنوعی بنیاد پر کھڑی ہوجاتی ہے۔

سیاسی طاقت کےمراکزاکثرخوف اوراُمید دونوں کااستعمال کرتے ہیں، تاکہ عوامی رائےکنٹرول کی جاسکے۔ ایک طرف خطرات کوبڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ عوام میں خوف پیدا ہو اور دوسری طرف روشن مستقبل کے وعدے کیے جاتے ہیں تاکہ امید پیدا ہو۔ یہ دونوں عناصر مل کر ایک جذباتی فضا پیدا کرتے ہیں اور اس فضا میں لوگ جلد فیصلے کرتے ہیں۔ وہ اُن قوّتوں کی طرف مائل ہوتے ہیں، جو اُنہیں تحفّظ اور اُمید کا یقین دلائیں۔

اس عمل میں تنقیدی سوچ کم زور ہوجاتی ہےاورجذبات غالب آ جاتے ہیں۔ یہی جذباتی فضا رائےسازی کو آسان بناتی ہےاوریہی سیاست کا اصل ہتھیارہے۔ طاقت کے حامل طبقات تعلیمی نظام اور ثقافتی اداروں کوبھی متاثر کرتے ہیں، تاکہ ایک مخصوص سوچ کو فروغ دیاجاسکے۔نصاب میں مخصوص نظریات شامل کیے جاتے ہیں، جو نسل درنسل منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ اس طرح رائے سازی ایک طویل المدّتی عمل بن جاتی ہے۔

فرد بچپن ہی سے ایک خاص زاویۂ نظراپناتا ہے اور اسےوہی سچ لگتا ہے۔ اس نظریے کو بدلنا مشکل ہوتا ہے۔ سو، یہ واضح ہے کہ سیاست اور طاقت رائےسازی کے عمل کو نہایت مہارت سے استعمال کرتے ہیں تاکہ اپنے مفادات کومحفوظ رکھا جا سکے۔ عوامی رائے کو ایک قیمتی سرمایہ سمجھا جاتاہے، جسےحاصل کرنے کے لیے مختلف حکمتِ عملیاں اپنائی جاتی ہیں۔

یہ حکمت عملیاں بظاہر نرم اور غیرمحسوس ہوتی ہیں، لیکن اِن کے اثرات گہرے ہوتے ہیں۔ اس لیےضروری ہے،عوام سیاسی بیانیوں کوتنقیدی نظرسے دیکھیں۔ ہردعوے کو پرکھیں اور اس کاپس منظر سمجھنے کی کوشش کریں۔ یہی شعور رائے سازی کے جال سے بچنے میں مدد دیتا ہے۔ بصورتِ دیگر انسان محض ایک مہرہ بن کر رہ جاتا ہے اور اس کی باگ دوسروں کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے۔

ثقافت اور روایات

ثقافت اور روایات انسانی رائےسازی پرخاموش مگر نہایت گہرے اثرات مرتّب کرتی ہیں، کیوں کہ یہ فرد کی سوچ کو غیرمحسوس انداز میں تشکیل دیتی ہیں۔ ہر معاشرہ اپنی مخصوص اقدار، رسوم و رواج اور روایات رکھتا ہے کہ جو افراد کی زندگی کا حصّہ بن جاتی ہیں۔ یہ عناصر فرد کے ذہن میں اس قدر رچ بس جاتے ہیں کہ وہ انہیں فطری سمجھنے لگتا ہے، حالاں کہ یہ سب سیکھے گئے رویّے ہوتے ہیں۔ ثقافت انسان کو سکھاتی ہے کہ کیا دُرست ہے اور کیا غلط۔

یہی تعلیم اس کی رائے کی بنیاد بنتی ہے۔ اس طرح رائے سازی ایک ثقافتی عمل بھی بن جاتی ہے۔ فرد اپنی سوچ کو اپنی ثقافت کے مطابق ڈھالتا ہے اور اسی کو سچ سمجھتا ہے۔ روایات نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں اور ہر نئی نسل انہیں بغیرسوال کیے قبول کر لیتی ہے۔ یہ قبولیت رائے سازی کے عمل کو متاثر کرتی ہے، کیوں کہ فرد وہی سوچ اپناتا ہے، جو اسے وَرثے میں ملی ہوتی ہے۔ اس عمل میں تنقیدی جائزے کی کمی ہوتی ہے۔

لوگ یہ نہیں سوچتے کہ کوئی روایت دُرست بھی ہے یا نہیں۔ وہ محض اس لیے اُسے مان لیتے ہیں کہ وہ قدیم ہے۔ یہی رجحان فکری جمود کو جنم دیتا ہے، معاشرہ تبدیلی سے کترانے لگتا ہے اور نئی سوچ قبول کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس طرح رائے سازی ایک محدود دائرے میں قید ہوجاتی ہے اور ترقّی کی رفتار سُست پڑ جاتی ہے۔

ثقافت، زبان کے ذریعے بھی رائےسازی کو متاثر کرتی ہے، کیوں کہ زبان نہ صرف اظہار کا ذریعہ ہے بلکہ سوچ کی تشکیل کا وسیلہ بھی۔ انسان جس زبان میں سوچتا ہے، اُسی کے مطابق اس کے خیالات تشکیل پاتے ہیں۔ الفاظ اور محاورے ایک خاص زاویۂ نظر پیش کرتے ہیں۔ یہ زاویۂ نظر فرد کی رائے متاثر کرتا ہے۔ بعض اوقات زبان میں موجود تعصّبات بھی سوچ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اس طرح رائےسازی غیر محسوس طور پر متاثر ہوتی ہے اور فرد کو اُس کا احساس تک نہیں ہوتا۔

یہی زبان کی طاقت ہے کہ جو خاموشی سے خیالات تشکیل دیتی ہے۔ خاندانی نظام بھی ثقافتی اثرات ہی کا ایک حصّہ ہے، جو رائے سازی میں اہم کردارادا کرتا ہے، کیوں کہ بچپن کی تربیت انسان کی سوچ کی بنیاد رکھتی ہے۔والدین اوربزرگ اپنی اقداربچّوں میں منتقل کرتے ہیں اور بچّے اُنہی اقدار کو سچ سمجھتے ہیں۔

یہی ابتدائی تعلیم اُن کی رائےسازی متاثرکرتی ہے۔ بعد میں حاصل ہونےوالی معلومات بھی اسی بنیاد پر پرکھی جاتی ہیں۔ اگر بنیاد مضبوط اور متوازن ہو، تو رائے بھی متوازن ہوتی ہے، لیکن اگر بنیاد متعصّبانہ ہو، تو رائے بھی متعصّب ہوتی ہے۔

کسی بھی ثقافت میں موجود ہیروز اور مثالی کردار بھی رائے سازی متاثر کرتے ہیں، کیوں کہ لوگ اُن کی تقلید کرتے ہیں۔ یہ کردار فلمز، کہانیوں اور تاریخ میں موجود ہوتے ہیں۔ ان کے اعمال اورخیالات کو مثالی بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ لوگ انہیں اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح ایک خاص سوچ فروغ پاتی ہے۔ یہ سوچ معاشرتی اقدار کے مطابق ہوتی ہے، لیکن بعض اوقات یہ اقدار فرسودہ بھی ہوسکتی ہیں۔

پھر بھی لوگ انہیں اپناتے رہتے ہیں، کیوں کہ انہیں یہی سکھایا گیا ہوتا ہے۔ اس طرح رائے سازی ایک مسلسل عمل بن جاتی ہے، لہٰذاثقافت اورروایات رائے سازی میں ایک بنیادی مگر غیرمحسوس کردار ادا کرتی ہیں، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ عناصرفرد کی سوچ کو اس طرح متاثر کرتے ہیں کہ وہ اُنہیں اپنی فطری رائے سمجھنے لگتا ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی ثقافتی اقدار کا تنقیدی جائزہ لے۔ یہ سمجھنے کی کوشش کرے کہ کون سی روایات فائدہ مند ہیں اورکون سی نقصان دہ۔ یہی شعور معاشرتی ترقّی کا باعث بنتا ہے۔ اگرہم اندھی تقلید سےنکل آئیں،توآزادانہ طور پر بھی سوچ سکتے ہیں اور اپنی رائے بہتر بنا سکتے ہیں کہ یہی فکری آزادی کا اصل راستہ ہے۔

اے آئی اور الگورتھمز کا زمانہ

موجودہ ڈیجیٹل دَورمیں رائےسازی کاعمل ایک نئی سطح پر پہنچ چُکا ہے، جہاں الگورتھمز اور مصنوعی ذہانت انسان کی سوچ کو غیرمحسوس انداز میں متاثر کررہے ہیں۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمزصارف کے رویّوں کو مسلسل مانیٹرکرتے ہیں۔ ان کی پسند و ناپسند اور دِل چسپیوں کا ڈیٹا جمع کیا جاتا ہے اور اس ڈیٹا کی بنیاد پر اُنہیں مخصوص مواد دکھایا جاتا ہے۔ یہ مواد ان کی سوچ کو تقویت دیتا ہے اوراس طرح ایک ایسا ماحول بنتا ہے کہ جہاں فرد کو صرف وہی معلومات ملتی ہیں، جو اُس کے خیالات سے مطابقت رکھتی ہیں۔

اس عمل کو ’’فلٹر ببل‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ببل فرد کو مختلف النوع آراء سے دُور رکھتا اور اس کی سوچ محدودکردیتا ہے۔ الگورتھمز کا بنیادی مقصد صارف کی توجّہ برقرار رکھنا ہوتا ہے، لیکن اس کےنتیجےمیں رائے سازی متاثر ہوتی ہے، کیوں کہ زیادہ تر وہی مواد دکھایا جاتا ہے،جو جذباتی یا متنازع ہو۔ یہ مواد زیادہ توجّہ حاصل کرتا ہے اور اس طرح سنجیدہ اور متوازن معلومات پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ نتیجتاً، صارف ایک خاص قسم کے مواد کا عادی ہوجاتا ہے اور اس کی سوچ اُسی کے مطابق ڈھلنے لگتی ہے۔

وہ سمجھتا ہے،یہی حقیقت ہے، حالاں کہ وہ ایک محدود دُنیا میں رہ رہا ہوتا ہے۔ یہی محدودیت فکری تنوّع ختم کرتی اور رائےسازی کو یک طرفہ بنا دیتی ہے۔ مصنوعی ذہانت بھی رائے سازی میں کردار ادا کر رہی ہے، کیوں کہ یہ مواد کی تخلیق اور تقسیم میں استعمال ہو رہی ہے۔ خُودکار نظام خبریں، مضامین اور ویڈیوز تیار کرتے ہیں۔

یہ موادمخصوص مقاصد کے تحت بنایاجاسکتا ہے اور اس میں تعصّب بھی شامل ہوسکتا ہے، جب کہ عام صارف اس فرق کو پہچان نہیں پاتا کہ کون سا مواد حقیقی ہے اور کون سا جعلی۔ اس طرح غلط معلومات بھی تیزی سے پھیلتی ہیں اور یہ صُورتِ حال بھی رائےسازی کاعمل متاثر کرتی ہے، کیوں کہ لوگ غلط بنیادوں پر اپنی رائے قائم کرلیتے ہیں، جو ایک بڑا چیلنج ہے۔

مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمزپروائرل ہونےوالا موادبھی رائےسازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے، کیوں کہ لوگ وہی بات زیادہ اہم سمجھتے ہیں، جو زیادہ دیکھی یا شیئرکی جائے۔ وائرل مواد اکثر سنسنی خیز ہوتا ہے۔ اس میں سادگی اور جذباتیت ہوتی ہے اور یہی خصوصیات اُسے مقبول بناتی ہیں، لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ دُرست بھی ہو۔ اس طرح مقبولیت کو سچّائی سمجھ لیا جاتا ہے اوریہی غلط فہمی رائےسازی متاثر کرتی ہے۔

فرد تحقیق کی بجائے مقبولیت پر اعتماد کرتا ہے اور یہی رویّہ فکری کم زوری ظاہر کرتاہے۔ ڈیجیٹل دُنیا میں معلومات کی رفتار خاصی تیز ہے، جس کے باعث انسان کے پاس غوروفکر کے لیےوقت کم رہ جاتا ہے۔ وہ جلد بازی میں فیصلے کرتا ہے۔ سرسری مطالعہ اس کی عادت بن جاتا ہے اور گہرائی میں جانے کا رجحان کم ہوجاتا ہے۔ یہی سطحی سوچ رائے سازی متاثر کرتی ہے، کیوں کہ مکمل معلومات کے بغیر بنائی گئی رائے اکثر غلط ثابت ہوتی ہے اور یہ غلطیاں معاشرتی سطح پر بھی اثرانداز ہوتی ہیں۔

اس لیے ضروری ہے کہ رفتار کے ساتھ گہرائی و گیرائی کو بھی اہمیت دی جائے۔ ڈیجیٹل عہد نے رائےسازی کے عمل کو آسان بھی بنایا ہے اورپیچیدہ بھی۔ اس کے نتیجے میں جہاں معلومات تک رسائی بڑھی ہے، وہیں اثرانداز ہونے کے نئے طور طریقے بھی سامنے آئےہیں۔ الگورتھمز اور مصنوعی ذہانت انسان کی سوچ کو خاموشی سے تشکیل دے رہی ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ صارف اس عمل کو سمجھے۔ اپنی معلومات کےذرائع متنوّع بنائے اور ہر بات کوتحقیق کے بعد قبول کرے۔ یہی شعور ’’ڈیجیٹل جال‘‘ سے بچنے کا واحد راستہ ہے، بہ صُورتِ دیگر انسان ایک ’’مصنوعی حقیقت‘‘ میں جینے لگتا ہے۔

یاد رہے، رائے سازی کا یہ اَن دیکھا جال ہمیشہ منفی نہیں ہوتا، لیکن اس کے خطرات نظرانداز نہیں کیےجا سکتے۔ اگر انسان ان اثرات سے آگاہ نہ ہو، تو وہ آسانی سے گُم راہ ہو سکتا ہے، جب کہ آزادانہ سوچ کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر چیز رد کردے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر بات کو پرکھے اور سمجھ کر قبول کرے۔ تنقیدی فکراس عمل کا بنیادی ستون ہے۔ یہ انسان کو اندھی تقلید سے بچاتی ہے۔ سوال کرنے کی عادت پیدا کرتی ہے اور حقیقت تک پہنچنے میں مدد دیتی ہے۔ یہی عادت رائے سازی کو متوازن بناتی ہیں۔

اس کے بغیرانسان دوسروں کی سوچ کا تابع بن جاتا ہے۔ اس لیے تنقیدی شعور کی تربیت نہایت ضروری ہے۔اس ضمن میں ہمارا تعلیمی نظام اہم کردار ادا کر سکتا ہے، کیوں کہ یہ نئی نسل کی سوچ تشکیل دیتا ہے۔ اگر تعلیم صرف معلومات تک محدود ہو، تو وہ رائے سازی کو بہترنہیں بناسکتی، لیکن اگر اس میں تنقیدی سوچ اور تجزیاتی مہارت شامل ہو، تو یہ افراد کو آزادانہ طور پر سوچنے کے قابل بنا دیتی ہے۔ اس طرح ایک باشعور معاشرہ تشکیل پاتا ہے، جو خود فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہی ترقّی کی بنیاد ہے۔

علاوہ ازیں،معاشرتی سطح پرمکالمےکا فروغ بھی ضروری ہے، کیوں کہ مختلف آراء کا تبادلہ سوچ کو وسعت دیتا ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کی بات سُنتے ہیں، تو ان کے فہم میں اضافہ ہوتا ہے۔ وہ اختلافِ رائے برداشت کرنا سیکھتے ہیں اور یہی برداشت معاشرتی ہم آہنگی مضبوط و مستحکم کرتی ہے۔ اس کے برعکس اگر مکالمہ ختم ہوجائے، تو تقسیم بڑھتی ہے اور رائےسازی محدود ہوجاتی ہے۔

اس لیےمکالمہ ایک صحت مند معاشرے کے لیے ازحد ضروری ہے۔ دوسری جانب فرد کو بھی اپنی ذمّےداری کا احساس کرنا چاہیے، کیوں کہ رائےسازی صرف بیرونی عمل نہیں بلکہ ایک ذاتی ذمّےداری بھی ہے۔ ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی معلومات کے ذرائع پرکھے، جذبات کی بجائےمنطق کو اہمیت دے اور جلد بازی سے گریز کرے۔

یہی رویّہ اُسے بہتر فیصلے کرنے میں مدد دیتا ہے اور فکری آزادی کے قریب لاتا ہے۔ مکمل طور پر آزاد رائے شاید ممکن نہ ہو، لیکن شعور اور کوشش کے ذریعے اسے زیادہ آزاد بنایا جا سکتا ہے۔ یہی کوشش انسانی ترقّی کا اصل محرّک ہے۔ اگر ہم اپنی سوچ کاعمل کو سمجھ لیں، تو ہم اسے بہتر بناسکتے ہیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں کہ جہاں رائے واقعتاً سوچ کا نتیجہ ہو، نہ کہ کسی اورکی تحریک کا۔

سنڈے میگزین سے مزید