اسلام آباد (قاسم عباسی) آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کو مالی سال 2024-25 میں 20؍ ارب روپے کا بھاری خسارہ برداشت کرنا پڑا، جبکہ ادارے کا خالص خسارے کا تناسب منفی 33.1؍ فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ اس سرکاری ادارے کی مالی بدحالی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 2021ء سے 2025ء کے دوران اس کے مجموعی خسارے بڑھ کر 21.340؍ ارب روپے تک پہنچ گئے، جبکہ مختلف سرکاری اداروں سے 257.128؍ ارب روپے کی رقوم طویل عرصے سے وصول نہیں کی جا سکیں۔ یہ شدید مالی بحران ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 2021ء میں پاسکو کا منافع 3.942؍ ارب روپے تھا، جو 2023ء میں کم ہو کر صرف 419؍ ملین روپے رہ گیا، اور اس کے بعد ادارہ اربوں روپے کے خسارے میں چلا گیا۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق ادارے کے بنیادی مالی اور انتظامی اشاریے شدید بگاڑ کا شکار ہیں۔ مالی سال 2025ء میں خالص خسارہ 20.478؍ ارب روپے رہا، جبکہ خالص خسارے کا تناسب منفی 33.1؍ فیصد ریکارڈ کیا گیا، جس کا مطلب ہے کہ ادارہ ہر 100؍ روپے کی آمدنی پر تقریباً 33؍ روپے کا نقصان کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2021ء سے 2025ء کے دوران مجموعی خسارہ 21.340؍ ارب روپے رہا، جبکہ مختلف سرکاری اداروں سے قابل وصول رقوم 257.128؍ ارب روپے تک پہنچ گئیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پی سی/آر وی لاشاریاں اور تاندلیانوالہ میں گندم میں خردبرد کے ثابت شدہ مقدمات میں 62.055؍ ملین روپے کی رقم تاحال وصول نہیں کی جا سکی۔ ایک مخصوص کیس میں ایک سرکاری اہلکار کو 20.65؍ ملین روپے کی خردبرد کی رقم واپس کرنے کیلئے صرف 36079؍ روپے ماہانہ اقساط کی سہولت دی گئی، جس کے نتیجے میں پوری رقم کی وصولی میں تقریباً 48؍ سال لگ جائیں گے۔