• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

HEC کی 24 رکنی قومی ٹاسک فورس کے قیام پر سنگین سوالات

کراچی (سید محمد عسکری) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے صنعتی انقلاب 5.0کے تقاضوں سے ہم آہنگ اعلیٰ تعلیم کے ڈگری پروگراموں اور نصاب کی تشکیلِ نو کے لئے24رکنی قومی ٹاسک فورس (نیشنل ٹاسک فورس) قائم کر دی ہے، جو ملک بھر کی جامعات میں رائج انڈرگریجویٹ اور گریجویٹ پروگراموں کا جامع جائزہ لے کر مستقبل کی ضروریات کے مطابق اصلاحات کی سفارشات مرتب کرے گی تاہم اس 24 رکنی قومی ٹاسک فورس کے قیام نے کئی سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں کیونکہ 14 اراکین کا تعلق اسلام آباد اور 5 کا تعلق لاہور سے ہے جبکہ ملک کے سب سے بڑے صنعتی مرکز اور 3 کروڑ سے زائد آبادی والے شہر سے کراچی سے کسی کو اس ٹاسک فورس میں شامل ہی نہیں کیا گیا اس کے علاوہ اس ٹاسک فورس میں صنعت، کاروباری اداروں، آئی ٹی سیکٹر، مینوفیکچرنگ، چیمبرز آف کامرس، برآمدی صنعت، اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم اور لیبر مارکیٹ کے نمائندوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ دی نیوز/ جنگ سے گفتگو میں ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا کہ ٹاسک فورس کے ارکان متعلقہ NCRC کے چیئرمین ہیں،کو نیا فردشامل نہیں ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کے کنوینر چیئرمین ایچ ای سی پروفیسر نیاز احمد اختر ہیں جبکہ پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق، پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن اور پروفیسر ڈاکٹر سید حبیب بخاری سمیت ایچ ای سی کی اعلیٰ قیادت بھی کمیٹی کا حصہ ہے۔ دیگر اراکین میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) انجینئر معظم اعجاز (ریکٹر، نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی)، پروفیسر ڈاکٹر عربیلا بھٹو (وائس چانسلر، سبز یونیورسٹی آف آرٹ، ڈیزائن اینڈ ہیریٹیجز)، پروفیسر میریٹوریئس ڈاکٹر جاوید اقبال (ڈین، منہاج یونیورسٹی)، پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود (وائس چانسلر، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی)، پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان (ڈین، یونیورسٹی آف ساؤتھ ایشیا)، پروفیسر ڈاکٹر رئیسہ گل (شفا تعمیر ملت یونیورسٹی)، پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد (دی یونیورسٹی آف لاہور)، انجینئر ڈاکٹر اشفاق احمد شیخ (پاکستان انجینئرنگ کونسل)، پروفیسر ڈاکٹر عبد الخالق (یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد)، پروفیسر ڈاکٹر ظلی ہما (خیبر میڈیکل یونیورسٹی)، پروفیسر ڈاکٹر انور عالم (یونیورسٹی آف پشاور)، پروفیسر ڈاکٹر عزیز الرحمٰن (قائداعظم یونیورسٹی)، پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن (پنجاب یونیورسٹی)، پروفیسر ڈاکٹر محمد انصار (قائداعظم یونیورسٹی)، پروفیسر ڈاکٹر نوخیز سرور (نسٹ بزنس اسکول)، پروفیسر ڈاکٹر شریف اللہ خان (پی اے ایف۔آئی اے ایس ٹی)، پروفیسر ڈاکٹر سمیرا جاوید (پنجاب یونیورسٹی)، ناصر شاہ (ڈائریکٹر جنرل، کوالٹی ایشورنس، ایچ ای سی)، انجینئر وحید احمد منگی (ڈائریکٹر جنرل، اکیڈمکس، ایچ ای سی) جبکہ محمد علی بیگ کو کمیٹی کا سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کو انڈرگریجویٹ اور گریجویٹ پروگراموں کے لئے قومی آڈٹ فریم ورک تیار کرنے، پرانے پروگراموں کی تنظیمِ نو، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مہارتوں اور مستقبل کی صلاحیتوں کو نصاب میں شامل کرنے، اعلیٰ تعلیم کو قومی ترقیاتی ترجیحات اور مستقبل کی لیبر مارکیٹ سے ہم آہنگ کرنے، نیشنل فیوچر اسکلز آبزرویٹری کے قیام اور مستقل نصابی جائزے کا نظام وضع کرنے کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ دی نیوز/ جنگ نے ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سے سوال کیا گیا کہ اگر نصاب کو صنعت کی ضروریات کے مطابق تشکیل دینا مقصود ہے تو ٹاسک فورس میں صنعت، چیمبرز آف کامرس، آئی ٹی کمپنیوں، مینوفیکچرنگ سیکٹر، ٹیکنالوجی اداروں یا بڑے آجر کی نمائندگی کیوں شامل نہیں کی گئی۔ اسی کے ساتھ کمیٹی میں خصوصاً اسلام آباد اور لاہور، کو زیادہ نمائندگی دی گئی ہے جب کہ کراچی کو نظر انداز کیا گیا ہے اور سندھ سے صرف ایک نمائندگی کیوں دی گئی ہے؟ اس سوال کے جواب میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا کہ ٹاسک فورس کے تمام ارکان متعلقہ National Curriculum Review Committees (NCRC) کے چیئرمین ہیں اور کسی نئے فرد کو شامل نہیں کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق کمیٹی کی ساخت سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ اس میں زیادہ تر نمائندگی جامعات، وائس چانسلرز، ڈینز اور ایچ ای سی حکام کی ہے، جبکہ وہ شعبے جو براہ راست گریجویٹس کو روزگار فراہم کرتے ہیں، ان کی نمائندگی دکھائی نہیں دیتی۔ ان کے مطابق اگر مقصد مستقبل کی معیشت کے مطابق نصاب تشکیل دینا ہے تو وفاقی و صوبائی صنعتی تنظیموں، آئی ٹی کمپنیوں، برآمدی صنعت، چیمبرز آف کامرس، ہیومن ریسورس ماہرین اور نجی شعبے کے بڑے آجرین کو بھی اس عمل کا حصہ بنایا جانا چاہئے تھا۔ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان میں ہر سال ہزاروں گریجویٹس ڈگریاں حاصل کرنے کے باوجود روزگار کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں اور صنعت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ جامعات سے فارغ التحصیل طلبہ کی مہارتیں مارکیٹ کی ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ ایسے حالات میں نصاب کی تشکیل نو کے عمل میں صنعتی شعبے کی عدم شمولیت مستقبل میں بھی اسی خلا کو برقرار رکھ سکتی ہے تاہم بعض ماہرین نے اس مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ نصاب اور اس کی تشکیل کا نظام ہی اس مقام تک پہنچا ہے جہاں خود ایچ ای سی کو اسے Industry 5.0، مصنوعی ذہانت، مستقبل کی مہارتوں اور لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے تو پھر انہی ڈھانچوں اور نمائندوں کے ذریعے مطلوبہ اصلاحات کس حد تک ممکن ہوں گی۔

اہم خبریں سے مزید