• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نیب کا کرپشن کیسز بند ہونے سے بچانے کیلئے قانون کی نئی تشریح پر غور، مہنگائی کا فارمولا ملزم ہی نہیں متاثرہ فریق پر بھی لاگو کرنے کی تجویز

انصار عباسی

اسلام آباد :…قومی احتساب بیورو قانون کی ایک منفرد تشریح پر غور کر رہا ہے جس کا مقصد بڑی تعداد میں بدعنوانی کے کیسز کو بند ہونے سے بچانا ہے جو بیورو کے فنانشل تھریش ہولڈ (مالی حد میں) میں مہنگائی میں اضافے کے تناسب کے پیش نظر نیب کے دائرہ اختیار سے باہر ہو سکتے ہیں۔ باخبر ذرائع نے دی نیوز کو بتایا کہ اس حوالے سے ایک تجویز نیب میں زیر غور ہے، جسے پالیسی فیصلے کے لیے جلد ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ (ای بی ایم) میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ تجویز کے مطابق، جس طرح مہنگائی کی شرح کو مد نظر رکھتے ہوئے نیب کی مالیاتی حد (فنانشل تھریش ہولڈ) پانچ سو ملین روپے سے بڑھ کر آٹھ سو ملین روپے ہوگئی ہے، اسی اصول کا اطلاق متاثر فریق کو ہونے والے مبینہ مالی نقصان پر بھی کیا جائے۔ یہ متاثرہ فریق کوئی فرد، سرکاری ادارہ یا پھر قومی خزانہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس قانونی تشریح کے تحت اگر کوئی ملزم یہ موقف اختیار کرتا ہے کہ ترمیم شدہ قانون کے بعد مبینہ کرپشن کی رقم نئی مالیاتی حد سے کم ہونے کی وجہ سے نیب کے دائرۂ اختیار سے باہر آ گئی ہے، تو دوسری جانب مبینہ طور پر خوردبرد یا غبن کی گئی رقم کی موجودہ مالیت بھی اسی مہنگائی کے فارمولے کے مطابق دوبارہ متعین کی جائے گی۔ اس صورت میں مبینہ مالی نقصان کی موجودہ قدر نمایاں طور پر بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں متعلقہ مقدمہ دوبارہ نیب کے دائرۂ اختیار میں آ سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تجویز اس اصول پر مبنی ہے کہ مہنگائی سے متعلق قانون میں کی گئی ترمیم کا فائدہ صرف ملزم کو نہیں ملنا چاہئے، بلکہ مہنگائی کے باعث متاثرہ فریق کو ہونے والے مالی نقصان کی حقیقی قدر کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہئے۔ اگر ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ اس تجویز کی منظوری دے دیتی ہے اور بعد ازاں نیب اسے اختیار کر لیتا ہے تو ترمیم شدہ مالیاتی حد کی وجہ سے بند ہونے والے کرپشن کیسز کی تعداد میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ جیسا کہ دی نیوز میں پہلے بھی یہ خبر شائع ہو چکی ہے کہ نیب آرڈیننس میں آخری ترمیم کے ذریعے پانچ سو ملین روپے کی کم از کم مالیاتی حد کو محکمہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ مہنگائی کے اشاریوں سے یکم جولائی ۲۰۲۲ء سے منسلک کر دیا گیا تھا۔ نیب ذرائع کے مطابق، اس عرصہ کے دوران مجموعی مہنگائی کے باعث یہ حد بڑھ کر آٹھ سو ملین روپے تک جا پہنچی ہے۔ اس ترمیم کے بعد احتساب کے حلقوں میں یہ خدشہ پیدا ہوا کہ نئی حد سے کم مالیت والے متعدد انکوائریاں، تحقیقات اور ریفرنسز دائرۂ اختیار نہ ہونے کی بنیاد پر بند یا واپس لینا پڑ سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نئی تجویز کا مقصد کسی نئی قانون سازی کے بجائے اسی قانونی شق کی تشریح کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالنا ہے۔ تاہم، ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ اگر اس تجویز کو چیلنج کیا گیا تو اس کا عدالتی جائزہ لیا جا سکتا ہے، کیونکہ بالآخر عدالتیں ہی یہ طے کریں گی کہ آیا مہنگائی کے فارمولے کا اطلاق صرف نیب کی مالیاتی حد پر کیا جا سکتا ہے یا بدعنوانی کے مقدمات میں مبینہ مالی نقصان کی مالیت پر بھی اس کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور تجویز نیب کی اعلیٰ قیادت کے زیر غور ہے۔

اہم خبریں سے مزید