اسلام آباد (اے پی پی)سپریم کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ حکومت مفادعامہ میں مالک کی مرضی کے بغیر بھی جائیداد زبردستی لے سکتی ہے، عدالت نے واضح کیا کہ جائیداد کے مالک کو سونے کے بدلے سونا دیا جائے ناکہ تانبا تھما دیں، سرکاری ریٹ نہیں مارکیٹ ویلیو سامنے رکھی جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اراضی کی قیمت کا تعین صرف سرکاری ریٹ کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا بلکہ مارکیٹ ویلیو، زمین کے ممکنہ استعمال اور مستقبل میں اس کی ترقی کے امکانات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق سپریم کورٹ کے جج جسٹس محمد علی مظہر نے صوابی میں نہری منصوبے کے لئے حاصل کی گئی اراضی کے معاوضے سے متعلق کیس میں 20 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں خیبرپختونخوا حکومت کی تمام سول اپیلیں مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ اور ریفرنس کورٹ کے فیصلوں کو برقرار رکھا گیا۔