تہران /انقرہ (اے ایف پی /نیوزڈیسک ) ایران جنگ سے متعلق امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کے متضادبیانات کا سلسلہ جاری ہے ‘بدھ کی صبح ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں انہوں نے عبوری جنگ بندی معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ تہران کے ساتھ معاملات کرنا وقت کا ضیاع ہے‘ہم مزیدحملے کریں گے ‘ایرانی بندرگاہوں کی دوبارہ ناکہ بندی زیرغورہے تاہم شام کو ٹرمپ کا کہناتھاکہ حالیہ کشیدگی جلد ختم ہونے کی توقع ہے‘مکمل جنگ چھڑنے کا امکان نہیں‘ ادھر واشنگٹن نے بدھ کی شب جنوبی ایران میں سریک اور بندرعباس پرمسلسل دوسرے روز بمباری کی ہے جبکہ کنارک اور چابہار کے قریب بھی دھماکوں کی اطلاعات ہیں ‘ ایرانی میڈیا کے مطابق منگل کی فضائی کارروائی کے دوران بندر عباس اور بوشہرمیں 8ایرانی فوجی شہیدہوگئے ہیں ‘دوسری جانب تہران نے جوابی کارروائیوں میں کویت اوربحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایاہے ‘خطے میں کشیدگی کے بعد عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں گراوٹ دیکھنےمیں آئی جبکہ تیل کی قیمت ایک بار پھر 80ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے‘ ادھر سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای کے سینئرمشیر علی اکبر ولایتی نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں امریکی مہم جوئی کا فوری جواب دیا جائے گاجبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق یکطرفہ اقدامات اور حملوں کے ذریعے امریکا نے مفاہمتی یادداشت کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے ‘ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کاکہنا ہے کہ حالیہ امریکی اقدامات کے نتیجے میں جنگ خاتمے سے متعلق مفاہمت کے اہم اور بنیادی نکات غیر مؤثر ہو گئے ہیں۔ تہران اپنی سالمیت‘ خود مختاری اور قومی سلامتی کے دفاع سے گریز نہیں کرے گا ۔بدزبانی کا جواب عمل سے دیتے ہیں ‘صدر مسعود پزشکیان نےواضح کیا ہے کہ ایران کسی دباؤ یا غیر منصفانہ اقدامات کو قبول نہیں کرے گا۔ایران کی فوج نے خبردار کیا ہے کہ ملک پر حملہ کرنے کے لیے امریکہ کو سہولت فراہم کرنے والی کسی بھی جگہ کو جائز ہدف سمجھا جائے گا۔ایران کے نائب وزیرخارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ تہران کو ٹرمپ کو انہی کی زبان میں جواب دینا چاہیےکیوں کہ وہ طاقت کی زبان زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔ ایرانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق کسی بھی نئے حملے کی صورت میں تہران آبنائے ہرمز کو بند کر دے گا‘ایران دشمن کے اہداف پر ایک کے مقابلے میں دو کے تناسب سے جوابی وار کرے گا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے آبنائے ہرمز کو بلاک کرنے کی کوشش کی تو اسے فوجی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ادھراقوام متحدہ ‘ چین ‘فرانس ‘قطر اور ترکیہ سمیت اہم عالمی رہنماؤں نے واشنگٹن اور تہران پر زور دیاہے کہ وہ مذاکرات جاری رکھیں اور کشیدگی سے گریز کریں ۔