کراچی(مطلوب حسین) وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کرائم سرکل حیدرآباد نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی مستحق خواتین کی امدادی رقوم میں مبینہ غیرقانونی کٹوتیوں کے معاملے پر دو الگ کارروائیوں میں مجموعی طور پر 20 افراد کے خلاف مقدمات درج کر لیے۔ ملزمان میں بی آئی ایس پی کے افسران، ملازمین، ریٹیلرز، فرنچائز ہولڈرز، آپریٹرز اور دیگر سہولت کار شامل ہیں۔ایف آئی اے کے مطابق پہلی کارروائی میں ایف آئی آر نمبر 15/2026 انکوائری نمبر 33/2026 (ACC) کی بنیاد پر درج کی گئی، جبکہ دوسری کارروائی میں ایف آئی آر نمبر FIR-CC-HYD (ACC)-16/2026 پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 409، 419، 420، 109، 34 اور انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) کے تحت درج کی گئی۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق پہلی انکوائری جمشید احمد کی شکایت پر شروع کی گئی تھی، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ مستحق خواتین کی امدادی رقوم میں ریٹیلرز، ایجنٹس اور فرنچائز آپریٹرز کی ملی بھگت سے غیرقانونی کٹوتیاں کی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں لطیف آباد کے سٹی ویو پلازہ نمبر 7 میں قائم بی آئی ایس پی ٹرانچ سینٹر پر چھاپہ مارا گیا، جہاں متعدد خواتین نے بتایا کہ ہر قسط سے 1,500 سے 2,000 روپے غیرقانونی طور پر کاٹے جا رہے تھے۔