کراچی(رفیق مانگٹ)بھارت کے متنازع شہر آیودھیا میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت بابری مسجد کے متبادل مسلمانوں کو دی گئی پانچ ایکڑ زمین پر مجوزہ مسجد“مسجدِ محمد بن عبداللہ”کا منصوبہ شدید مالی بحران کے باعث نمایاں حد تک محدود کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ اب اپنی اصل وسعت کھو کر ایک چھوٹے پیمانے تک سمٹ گیا ہے۔عدالتی فیصلے کے باوجود آیودھیا کی مسجد کو عوامی پذیرائی کیوں نہ ملی؟،پانچ ایکڑ زمین پر مجوزہ مسجد، فنڈز کی کمی سے بڑے کمپلیکس کا خواب ختم،متبادل مسجد سے جذباتی وابستگی نہ بن سکی، مسلمانوں کی سرد مہری نمایاں، 2019 میں بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے مقام کو ہندوؤں کے حوالے کرتے ہوئے مسلمانوں کو متبادل زمین دینے کا حکم دیا تھا۔ اتر پردیش حکومت نے 2020ء میں ایودھیا سے تقریباً 25 کلومیٹر دور دھنی پور گاؤں میں مسجد کی تعمیر کے لیے پانچ ایکڑ زمین مختص کی تھی۔