لاہور (آصف محمود بٹ) ممتاز پاکستانی نژاد امریکی مورخ، دانشور اور مصنفہ ڈاکٹر عائشہ جلال نے کہا ہے کہ برصغیر میں روشن خیال مسلم فکر کی ازسرنو احیا وقت کی اہم ضرورت ہے، نوآبادیاتی اور بعد از نوآبادیاتی ادوار کے فکری اثرات سے نکلنے کے لیے تعلیمی اصلاحات، تنقیدی شعور، ذہنی کشادگی اور علمی تجسس کو فروغ دینا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ علم کو مشرق اور مغرب کی مصنوعی تقسیم میں نہیں باندھا جا سکتا، یہ پوری انسانی تہذیب کی مشترکہ میراث ہے۔ برطانوی استعمار نے برصغیر کا صرف معاشی استحصال نہیں کیا بلکہ اس کی علمی، ادبی اور تہذیبی روایت کو بھی شدید نقصان پہنچایا، فارسی کو سرکاری زبان کے درجے سے ہٹانا مقامی علمی روایت کے زوال کا ایک اہم سبب بنا۔ ڈاکٹر عائشہ جلال نے ان خیالات کا اظہار نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی (این آئی پی پی ) کے زیر اہتمام اپنی نئی کتاب Muslim Enlightened Thought in South Asia کے حوالے سے منعقدہ ’’بک اینڈ پالیسی ڈائیلاگ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔