آیت اللہ علی خامنہ ای شہید کومشہد میں سپردخاک کردیاگیا جبکہ جمعرات کی شب بھی بوشہر‘ کنارک اورچغادک سمیت جنوبی ایران میں دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات موصول ہو ئی ہیںتاہم امریکی سینٹرل کمانڈنے ایران میں نئے حملوں کی تردید کی ہے ‘خلیج میں امریکا ایران حالیہ کشیدگی کے بعد آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکرز کی آمد و رفت تقریباً تھم گئی ہےجبکہ عبوری جنگ بندی معاہدہ مزیددباؤکا شکار ہوگیا ہے ‘ ایران کے خلاف دو دنوں سے جاری امریکی حملوں میں 14افراد جاں بحق اور 78زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب تہران نے بھی بحرین ‘کویت ‘عراق ‘ قطر اور اردن میں امریکی اڈوں کومیزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے ‘ تہران نے امریکی حملوں کے خلاف سلامتی کونسل اور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو خط بھیج دیا‘ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کواپنے سعودی ‘عمانی اور ترک ہم منصبوں کے ساتھ الگ الگ ٹیلی فونک گفتگو کی اور خطے بالخصوص آبنائے ہرمز کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیاجبکہ چیف آف آرمی اسٹاف وچیف آف ڈیفنس فورسزفیلڈمارشل عاصم منیر کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران عباس عراقچی نے امریکی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں اقوام متحدہ کے منشوراوراسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیا اور واشنگٹن کو خبردار کیاکہ تہران اپنے دفاع کے لیے تیار ہے‘ایرانی وزارت خارجہ نے سویلین انفرا اسٹرکچر پر امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جنگی جرم قرار دیا ہےجبکہ ایران کے مرکزی مذاکرات کارباقر قالیباف نے امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آپ حملہ کریں گے تو جواب بھی ملے گا۔ پاسداران انقلاب نے خبردارکیاہے کہ غیر ملکی طاقتوں کا اس سرزمین یا آبنائے ہرمز پر کوئی حق نہیں۔ کسی بھی قسم کی مداخلت کا منہ توڑاور سخت جواب دیا جائے گا۔