کراچی(نیوز ڈیسک)…جیو نیوز کی جانب سے نشر کی گئی documentary ”سفر عشق“ میں ایک مختصرعلامتی اور بغیرچہرے کی بصری عکاسی دکھائی گئی۔ جو نہ صرف ہماری ادارتی پالیسی بلکہ ہمارے ایمان ، عقیدے اور دینی جذبات کے بھی سراسر خلاف تھی۔اس غلطی پر ادارے کی جانب سے فوراً معذرت کی گئی اور اسے مستقل نشر کیا گیا اور ذمہ داروں کے خلاف فوراً ایکشن لیا گیا۔اس معاملے پر پاکستان کے جید علمائے کرام نے اپنی رائے کا اظہار کیاہے۔چیئرمین قرآن و سنہ موومنٹ پاکستان علامہ ابتسام الہٰی ظہیرنے کہا ہے کہ کسی بھی نشریاتی ادارے ، اینکر یا پوڈ کاسٹر کی جانب سے کسی پروگرام میں نبی اکرم ﷺیا دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کے خاکے یا چہرے اور بغیر چہرے کے تصویر پیش کرناخواہ نیت توہین کی نہ ہوناقابل قبول اور ناجائز ہے۔انتہائی قابل مذمت اورمسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والا عمل ہے۔ تاہم اگر متعلقہ نشریاتی ادارہ ، اینکر یاپوڈکاسٹر واضح طور پر اس امر کی وضاحت کرے کہ یہ واقعہ نادانستہ اورغیر ارادی طور پرپیش آیااس پر غیر مشروط معذرت کرے۔ ذمہ دار افراد کے خلاف موثر تادیبی کارروائی کرے اور یہ یقین دہانی کرائے کہ آئندہ اس نوعیت کی کوتاہی نہیں ہوگی تو اصلاح ، احتیاط اور آئندہ کے عملی اقدامات کی بنیاد پراسے ایک موقع دیا جاسکتا ہے۔البتہ اس کے بعد بھی متعلقہ ادارے، اینکر اور پوڈ کاسٹر پرلازم ہوگا کہ وہ اپنی ادارتی نگرانی ، جانچ کے نظام اور ذمہ داری کے معیارکو مزید موثر بنائے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کاکوئی واقعہ دوبارہ پیش نہ آئے۔معروف اور مقتدر عالم دین مہتمم مرکز علوم القرآن کلفٹن کراچی مفتی محمد نوید عباسی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ دیگر انبیائے کرام علیہم السلام، صحابہ اکرام ، امہات المومنین اور اہل بیت اطہاررضوان اللہ علیہم اجمعین کی کسی بھی نوعیت کی تصویری یا بصری عکاسی خواہ اس کا مقصد تعظیم، عقیدت یا حسن نیت ہی کیوں نہ ہوشرعاً جائز نہیں ۔ اس سے مکمل اجتناب ضروری ہے کیوں کہ یہ دینی حساسیت، تقدیس مقدسات کے اصول کے منافی ہے ۔ جیو نیوز پر نشر ہونے والے ایک دستاویزی پروگرام میں ایسے مناظرشامل کئے گئے جن میں خاتم النبین حضرت محمد مصطفی ﷺاور آپ ﷺکے نواسوں حضرات حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنھما کی علامتی بصری عکاسی کی گئی ۔ جو جمہور اہل علم اوراکابر علماکے نزدیک شرعاً اور دینی اعتبار سے ہر گز جائزنہ تھی۔البتہ یہ حقیقت بھی سامنے ہے کہ ادارے نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ مواد کوتمام پلیٹ فارم سے ہٹا دیااپنی غلطی کا اعتراف کیامعذرت کی ذمہ دار افرادکے خلاف کارروائی اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے اصلاحی اقدامات کااعلان کیا۔اسلامی تعلیمات کے مطابق اگر کسی فرد یا ادارے سے لغزش سرزد ہوجائے پھر وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرے اس کی اصلاح اور تلافی کے لئے عملی اقدامات کرے تو اس کی معذرت کو قبول کرنا بھی اسلامی اخلاق کا تقاضہ ہے۔ ساتھ ہی یہ حقیقت ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہئے کہ تحفظ ناموس رسالت ﷺتعظیم انبیائے کرام علیہم السلام، احترام صحابہ کرام،امہات المومنین اور اہل بیت اطہاررضوان اللہ علیہم اجمعین ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی تقاضہ ہے۔ان مقدس معاملات میں کامل احتیاط اور انتہائی احترام کوہر حال میں مقدم رکھا جانا چاہئے۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے حساس معاملات کو سیاسی مفادات،ادارہ جاتی رقابتوں یاگروہی کشمکش کا ذریعہ نہ بنایا جائے بلکہ عدل، حکمت،دیانت اور اسلامی اخلاق کی روشنی میں اصلاح،احتساب اور انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ رکھا جائے ۔ جیو کے مالکان اور انتظامیہ کا اپنی کوتاہی پر معذرت اور توبہ کرناقابل تحسین عمل ہے ۔ اللہ کو توبہ کرنے والے پسند ہیں ہماری دعا ہے کہ اللہ انہیں توبہ پر استقامت عطا فرمائے اور آئندہ ہر قسم کی لغزش اور خطا سے محفوظ رکھے۔ ممتاز عالم دین مفتی محمد حنیف قریشی نے اپنے بیان میں کہاکہ جیونیوز پر نشرہونے والے ایک دستاویزی پروگرام میں ایسے مناظر شامل کئے گئے جن میں نبی پاک ﷺاور آپ ﷺکے نواسوں حضرات حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی علامتی، بصری عکاسی کی گئی جو جمہور اہل علم اور اکابر علما کے نزدیک شرعاً اوردینی اعتبار سے ہرگز جائز نہ تھی۔ تاہم یہ حقیقت بھی سامنے ہے کہ ادارے نے بلا تاخیراس معاملے کا نوٹس لیامتعلقہ مواد کو تمام پلیٹ فارم سے ہٹا دیااپنی غلطی کا اعتراف کیا،معذرت کی ،ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے اصلاحی اقدامات کااعلان کیا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ آج ایک مرتبہ پھرباقاعدہ بذریعہ اشتہارات جیو کے مالکان کی طرف سے انتظامی کمزوری کا اعتراف کیاگیا اور اللہ کے حضور توبہ اور استغفار کی گئی ہے ۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق اگرکسی فرد یا ادارے ایسی غلطی سرزدہوجائے جو قابل معافی ہو پھر وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرے اس کی اصلاح اور تلافی کے لئے عملی اقدامات بھی کرے اور اپنی ندامت کے ساتھ توبہ اور استغفارکرے تو اس کی معذر ت کو قبول کرنا بھی اسلامی تعلیمات کے مطابق لازم ہے۔ ساتھ ہی یہ حقیقت ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہئے کہ تحفظ ناموس رسالت ﷺ،تعظیم انبیائے کرام علیہم السلام ، احترام صحابہ کرام ،امہات المومنین اور اہل بیت اطہاررضوان اللہ علیہم اجمعین ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی تقاضہ ہے ۔ ان مقدس معاملات میں کامل احتیاط اور انتہائی احترام ہر حال میں مقدم رکھا جانا چاہئے ۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے حساس معاملات کو سیاسی مفادات، ادارہ جاتی رقابتوں یا گروہی کشمکش کا ذریعہ نہ بنایا جائے ۔بلکہ عدل، حکمت ، دیانت اور اسلامی اخلاق کی روشنی میں اصلاح ، احتساب اور انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ رکھا جائے۔ جیو کے مالکان اور انتظامیہ کااپنی کوتاہی پر معذرت اورتوبہ کرنا قابل تحسین عمل ہے ہم اس کی تحسین کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ کریم ان کی معذرت اور توبہ کو قبول فرمائے۔