• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کسٹمز ایڈوائزری کونسل کا گروپ لیس اسیسمنٹ ماڈل کے غیر جانبدار جائزے کا مطالبہ

کراچی ( اسٹاف رپورٹر)ایف پی سی کی آئی کسٹمز ایڈوائزری کونسل نے کہا ہے کہ پاکستان کسٹمز کے گروپ لیس ایسیسمنٹ ماڈل کے نفاذ اور سیکٹر پر مبنی خصوصی اسیسمنٹ گروپس کے خاتمے غیر جانبدارانہ، شواہد پر مبنی اور آزادانہ جائزہ لینا ضروری ہو چکا ہے۔ تاکہ یہ جانچنا جائے کہ آیا موجودہ نظام سے کسٹمز اسیسمنٹ اور کارگو کلیئرنس کا وقت بڑھا ہے یا کم ہوا ہے ،کسٹمز کے خلاف مقدمات میں کمی آئی ہے یا ان کی تعداد بڑھ گئی ہے ، فیڈریشن پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایف پی سی سی آئی) کی ایڈوائزری کونسل برائے کسٹمز کے چیئرمین اور سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی خرم اعجاز نے کہا کہ فیس لیس ایسسمنٹ پر اعتراض نہیں،اصل مقصد اصلاحات نہیں بلکہ نتائج ہیں خرم اعجاز نے فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ (ایف سی اے) کے نفاذ کے بعد متعارف کرائے گئے گروپ لیس اسیسمنٹ ماڈل کے آزادانہ کارکردگی جائزے (آئی پی ای) کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ اتنی بڑی اصلاحات کو صرف دعوؤں کے بجائے شواہد، قابلِ پیمائش نتائج اور عالمی معیار کی روشنی میں جانچا جانا چاہیے۔ ان کی تجویز کا مقصد فیس لیس اسیسمنٹ پر تنقید کرنا نہیں کیونکہ یہ شفافیت، دیانتداری اور یکساں کسٹمز اسیسمنٹ کے فروغ کے لیے ایک اہم اصلاح ہے تاہم فیس لیس اسیسمنٹ کے ساتھ سیکٹر پر مبنی خصوصی اسیسمنٹ گروپس کا خاتمہ ایک بڑی ساختی تبدیلی ہے جس کے اثرات کا اب غیر جانبدارانہ، شواہد پر مبنی اور آزادانہ جائزہ لینا ضروری ہو چکا ہے۔

ملک بھر سے سے مزید