• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایچ ای سی افسران کا سینیارٹی تنازع، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے حتمی فیصلہ نہیں کیا

کراچی (سید محمد عسکری) اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ہائر ایجوکیشن کمیشن میں افسروں کی باہمی سینیارٹی سے متعلق طویل عرصے سے جاری تنازع کا حتمی فیصلہ کرنے کے بجائے معاملہ متعلقہ قوانین کے تحت ازسرنو جائزے کے لئے دوبارہ ایچ ای سی کو بھجوا دیا ہے، جبکہ لین، ایم پی اسکیل پر نئی تقرری، ترقی مؤخر کرنے اور ماضی سے مؤثر سینیارٹی دینے کی قانونی حیثیت سے متعلق اہم سوالات تاحال حل طلب ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 9 جولائی 2026 کو جاری کئے گئے آفس میمورنڈم میں قرار دیا ہے کہ سول سرونٹس (سینیارٹی) رولز 1993 کے عمومی اصول کے تحت قانونی طور پر لین پر موجود سرکاری ملازم اپنے اصل کیڈر میں بنیادی حیثیت اور سینیارٹی برقرار رکھتا ہے، بشرطیکہ قانون کے تحت اس کا یہ حق ختم نہ ہو چکا ہو۔ اس اصول کی بنیاد پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ایچ ای سی کو مشورہ دیا کہ متعلقہ افسر کے بین السینیارٹی کے دعوے کا فیصلہ قابلِ اطلاق قوانین اور قواعد کے تحت کیا جائے۔ تاہم اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے اس امر کا تعین نہیں کیا کہ متعلقہ افسر کو دی گئی لین قانونی تھی یا نہیں، ایم پی اسکیل پر اس کی تقرری کی نوعیت کیا تھی، اور اس کی ترقی مؤخر کرنے کا فیصلہ قواعد کے مطابق تھا یا نہیں۔ ڈویژن کی رائے صرف ان سوالات تک محدود رہی جو ایچ ای سی نے اس کے سامنے رکھے تھے، جبکہ مشاورتی رائے اس مفروضے پر دی گئی کہ لین اور ترقی کا مؤخر کیا جانا قانون کے مطابق تھا۔ تنازع میں شامل اپیل کنندگان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ معاملہ محض سینیارٹی کے تعین تک محدود نہیں بلکہ ان بنیادی انتظامی اور قانونی اقدامات کی حیثیت سے متعلق ہے جن کی بنیاد پر سینیارٹی کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک متعلقہ افسر کی لین، ایم پی اسکیل تقرری، ترقی مؤخر کرنے اور بعد میں دی گئی ترقی کی قانونی حیثیت کا آزادانہ اور جامع تعین نہیں کیا جاتا، اسے تحفظ یافتہ یا ماضی سے مؤثر سینیارٹی دینے کا کوئی قانونی جواز پیدا نہیں ہوتا۔اپیل کنندگان کا مؤقف ہے کہ اصل تنازع صرف سینیارٹی کا نہیں بلکہ لین، ایم پی اسکیل پر تقرری اور ترقی مؤخر کئے جانے کی قانونی حیثیت کا ہے۔ ان کے مطابق HEC Employees (Recruitment) Rules, 2009 کے تحت پہلے ان بنیادی قانونی نکات کا فیصلہ ہونا چاہیے، اس کے بعد ہی حتمی سینیارٹی لسٹ جاری کی جا سکتی ہے۔ اپیل کنندگان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ طارق اقبال کو 2025 میں ڈائریکٹر جنرل (BPS-20) کے عہدے پر ترقی ملنے کے باوجود انہیں 2021 سے ماضی سے مؤثر سینیارٹی دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے 2021 کے سلیکشن بورڈ کے بیچ-II کے ذریعے باقاعدہ ترقی پانے والے افسران محمد فیصل بٹ، ڈاکٹر امجد حسین اور چوہدری غلام نبی سے سینئر قرار دیے جانے کا امکان ہے۔ اپیل کنندگان نے دعویٰ کیا ہے کہ 2025 کا وہ سلیکشن بورڈ، جس کے ذریعے طارق اقبال کو ترقی دی گئی، بعد میں اس وقت کے چیئرمین ایچ ای سی کی جانب سے کالعدم قرار دے دیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود ان کی ترقی بدستور برقرار ہے انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایچ ای سی پہلے لین، ایم پی اسکیل تقرری اور ترقی کے قانونی جواز کا مکمل جائزہ لے اور پھر قواعد کے مطابق سینیارٹی کا حتمی فیصلہ کرے۔

اہم خبریں سے مزید