کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان میں کاٹن کی پیداوار ایک کروڑ 40 لاکھ گانٹھوں سے کم ہوکر مالی سال 2025-26 میں 68 لاکھ 50 ہزار گانٹھوں تک محدود ہو گئی، ہائبرڈ بیجوں کے استعمال سے مکئی کی فی ایکڑ پیداوار میں تین گنا اضافہ ہوا، کولڈ چین انفرااسٹرکچر کی کمی کے باعث تقریباً 20 فیصد دودھ ضائع ہو جاتا ہے،یہ انکشافات اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کی "سیڈز آف گروتھ کے عنوان سے اپنی تازہ رپورٹ میں کیا ہے ،رپورٹ میں خبردار کیا گیاہے کہ پاکستان میں روئی کی پیداوار اپنے عروج کے مقابلے میں نصف سے بھی کم رہ گئی ہے، جس کے باعث اضافی درآمدات اور برآمدی آمدنی میں کمی کی صورت میں ملک کو سالانہ 2 سے 3 ارب ڈالر کے معاشی نقصان کا سامنا ہے۔او آئی سی سی آئی کی زرعی شعبے سے وابستہ رکن کمپنیوں کی آراء اور مشاہدات پر مبنی رپورٹ کے مطابق زرعی شعبہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً 23 فیصد حصہ ڈالتا ہے اور 37 فیصد افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتا ہے۔