اسلام آباد (قاسم عباسی)سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا جیل نظام اپنی مقررہ گنجائش کے مقابلے میں تقریباً 150؍ فیصد بوجھ برداشت کر رہا ہے، جو ملک بھر میں قیدیوں کیلئے جگہ کی زبردست قلت کی عکاسی کرتا ہے۔ 2024ء میں ملک بھر کی جیلوں میں مجموعی طور پر ایک لاکھ دو ہزار 26؍ قیدی موجود تھے۔ پاکستان فریڈم رپورٹ 2026ء میں شائع ہونے والی تازہ ترین پرزن ڈیٹا رپورٹ کے مطابق پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی بڑی جیلوں میں 99695؍ قیدی رکھے گئے، جبکہ ان جیلوں کی مجموعی سرکاری گنجائش صرف 66718؍ قیدیوں کی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جیلیں اپنی محفوظ آپریشنل گنجائش سے کہیں زیادہ بوجھ برداشت کر رہی تھیں۔