• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بجلی کمپنیوں کی مجوزہ نجکاری کیخلاف واپڈا ہائیڈروالیکٹرک ورکرزیونین کا مظاہرہ

ملتان (سٹاف رپورٹر)بجلی کمپنیوں کو مجوزہ نجکاری اور روزمرہ استعمال کی گھریلو اشیاء،پٹرولیم مصنوعات کی مہنگائی کےخلاف آل پاکستان واپڈا ہائیڈروالیکٹرک ورکرزیونین کے زیراہتمام پورے پاکستان کی طرح میپکو ریجن میں یوم احتجاج منایا گیا.میپکو ہیڈ کوارٹرز خانیوال روڈ ملتان کے سامنے سینکڑوں محنت کشوں نے ریجنل چیئرمین چوہدری غلام رسول گجر کی قیادت میں احتجاج کیا،مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ریجنل چیئرمین غلام رسول گجر نے وزیراعظم پاکستان اور وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس لغاری سے مطالبہ کیا کہ آئی ایم ایف کے مطالبہ کو ماننے کی بجائے عوامی اور قومی مفاد میں میپکو جیسی منافع بخش کمپنی کی نجکاری کو روکیں،اْنہوں نے کہا کہ ماضی میں راولپنڈی الیکٹریسٹی کمپنی کی نجکاری کا تجربہ ناکام ہوا تھا ۔ریجنل سیکرٹری رانا محمد انور نے کہا کہ میپکو میں 10 سال سے بھرتی پر پابندی کا خاتمہ کریں ۔ریجنل چیئرمین ریونیو شکیل بلوچ نے کہا کہ بجلی کی تمام کمپنیوں کی کارکردگی مزید بڑھانے اور کارکنوں کے دوران ڈیوٹی بڑھتے ہوئے جان لیواء حادثات کو روکنے کیلئے حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد و آلات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ریجنل ڈپٹی چیئرمین سجاد بلوچ،ریجنل وائس چیئرمین چوہدری محمد خالد نے کہا کہ لائن سٹاف کی بھرتی کرکے موجودہ سٹاف پر کام کا بوجھ کم کریں۔زونل چیئرمین سرکل ملتان رانا مظہر لطیف و زونل سیکرٹری انصر عباس نے شرکاء سے کہا حکومت کی ذمہ داری ہے کہ آئی پی پیزکے مالکان سے معاہدوں کی ازسر نو منصفانہ تشکیل، اصلاحات اور سخت ریگولیٹری فریم ورک قائم کیا جائے،احتجاج میں یونین کے نمائندگان الیاس جٹ،عثمان لیاقت، چوہدری نعیم خالد،راشد یامین‘ رانا خضر حیات‘ چوھدری زاہد‘ رانا طیب‘ بابر ملک‘ الطاف مہار‘ رانا شہزاد انجم،سعید سیال‘ اورنگزیب گرا،فیاض راں،ارشاد سنگھیڑا،شھزاد علی‘ ملک یوسف‘ رانا محمد عمران‘ اکرام آرائیں‘ چوہدری اظہر‘ میاں علیم مسعود علوی‘ عبدالواحد ہاشمی‘ عامر جمیل‘ انوار گجر‘ چوہدری سلیم‘ احسن نانڈلا، عمران کاظمی،شمعون گجر،آصف سجاد،اکرم غوری‘ قاضی آفتاب،عمران بشیر، عشرت علوی‘ حافظ شاہد‘ حفیظ اللہ سعیدی،محمد یوسف،علی جوئیہ،شیخ شہباز علی،چوہدری شفاقت، منصور الحسن،محمد ثاقب،سلمان وہاب،مظہر عباس و دیگر بھی موجود تھے۔
ملتان سے مزید