• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ترقیوں میں تعطل پر سندھ کے کالج اساتذہ سراپا احتجاج

کراچی (سید محمد عسکری) سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن (سپلا) نے محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ میں ترقیوں کے عمل میں مسلسل تاخیر، سینکڑوں خالی آسامیوں پر تقرری و پروموشن نہ ہونے اور اساتذہ کے دیرینہ مسائل حل نہ کیے جانے پر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے 11 اگست کو وزیراعلیٰ ہاؤس یا سندھ سیکریٹریٹ کے سامنے صوبہ گیر دھرنا دینے کی تنبیہ دے دی ہے۔ یہ فیصلہ سپلا کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت مرکزی صدر پروفیسر منور عباس نے کی۔ اجلاس میں کراچی، حیدرآباد اور سکھر رینجز کے صدور، جنرل سیکریٹریز اور دیگر عہدیداروں نے شرکت کی، جن میں غلام مصطفیٰ کاکا، محمد عدیل خواجہ، آصف منیر، نہال اختر، عبدالحلیم درس، ڈاکٹر ملہار سندھی، غفران اللہ بلوچ، شبانہ افضل، زکیہ تالپور، پروفیسر افشین پیرزادہ، ڈاکٹر وکرم کمار، حسن میر بحر، پروفیسر شوکت علی سموں اور عبدالرشید ٹالانی سمیت دیگر شامل تھے۔ اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ میں گریڈ 18، 19 اور 20 کی سینکڑوں اسامیاں عرصہ دراز سے خالی پڑی ہیں، لیکن اس کے باوجود ترقیوں کا عمل غیر ضروری تاخیر کا شکار ہے۔ سپلا کے مطابق لیکچررز کو 14 برس گزرنے کے باوجود اگلے گریڈ میں ترقی نہیں دی گئی، جبکہ 14 جولائی کو ہونے والی ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی (DPC) کے فیصلوں پر بھی عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔ اجلاس میں الزام عائد کیا گیا کہ اسسٹنٹ پروفیسرز کی گریڈ 19 میں ترقی سینیارٹی لسٹوں کی تیاری کا جواز پیش کرکے روکی جا رہی ہے، جبکہ گریڈ 20 کی تقریباً 80 فیصد اسامیاں خالی ہونے کے باوجود بورڈ ون کا اجلاس وزیراعلیٰ سندھ کی مصروفیات کا حوالہ دے کر بار بار ملتوی کیا جا رہا ہے، جس کے باعث اساتذہ میں شدید بے چینی اور مایوسی پائی جاتی ہے۔ سپلا نے حکومت کو ایک آخری موقع دیتے ہوئے اعلان کیا کہ تنظیم کا اعلیٰ سطحی وفد مرکزی صدر کی قیادت میں سیکریٹری کالجز اور دیگر متعلقہ حکام سے ملاقات کرکے ترقیوں کا عمل فوری بحال کرانے کی کوشش کرے گا۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو کالجوں کے کھلتے ہی مرحلہ وار احتجاج شروع کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں 3 اگست کو کراچی، 5 اگست کو حیدرآباد اور 6 اگست کو سکھر ریجن میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے، جبکہ اس دوران اساتذہ سیاہ پٹیاں باندھ کر تدریسی فرائض انجام دیں گے۔ سپلا نے مزید اعلان کیا کہ اگر تمام مذاکرات اور احتجاجی مراحل کے باوجود حکومت نے مطالبات منظور نہ کیے تو 11 اگست کو سندھ بھر کے کالج اساتذہ وزیراعلیٰ ہاؤس یا سندھ سیکریٹریٹ کے سامنے دھرنا دیں گے، جس میں سول سوسائٹی اور دیگر سرکاری ملازمین کی تنظیموں کو بھی شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ اجلاس میں تنظیمی معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ سپلا کے آئین کے مطابق اگست سے نئی رکنیت سازی اور یونٹ انتخابات کا آغاز کیا جائے گا، جبکہ انتخابی کمیٹیوں اور دیگر تنظیمی امور کا جائزہ لینے کے لیے مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کا آئندہ اجلاس 15 اگست کو سکھر یا کراچی میں منعقد ہوگا۔

اہم خبریں سے مزید