اسلام آباد (قاسم عباسی)خواجہ سرا طلبہ کیلئے پاکستان کا پہلا سرکاری تعلیمی منصوبہ زوال کے دہانے پر، خواجہ سرا افراد کیلئے انقلابی تعلیمی اقدام بیوروکریسی، بے اعتنائی اور فنڈز کی بندش کا شکار۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان نے پانچ سال قبل خواجہ سرا افراد کیلئے اپنے پہلے سرکاری تعلیمی ادارے قائم کرکے بین الاقوامی توجہ حاصل کی تھی، لیکن یہ انقلابی منصوبہ ’’ٹرانس ایجوکیشن‘‘ اب زوال کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ ایک وقت میں اس منصوبے کو ملک کی سب سے زیادہ پسماندہ برادریوں میں سے ایک، خواجہ سرا کمیونٹی، کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی جانب ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا گیا تھا۔ تاہم اب یہ حکومتی بے توجہی، انتظامی تبدیلیوں اور فنڈز کی اچانک بندش کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہو کر زوال کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جنوبی پنجاب کے اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے پانچ سال قبل ملتان میں ملک کا پہلا خصوصی اسکول قائم کیا، جو خواجہ سرا افراد کے لیے مختص تھا۔ اس ادارے کا مقصد تیز رفتار رسمی تعلیم کے ساتھ ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی)، پکوان سازی، میک اپ اور سلائی جیسے عملی و پیشہ ورانہ ہنر سکھانا تھا، تاکہ خواجہ سرا افراد مالی طور پر خودمختار بن سکیں اور کاروباری مواقع سے بھی فائدہ اٹھا سکیں۔ ابتدائی کامیابی کے بعد اس منصوبے کو بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان تک توسیع دی گئی، جہاں اسے عالمی اداروں، جن میں یونیسکو، کوئیکا اور یو این ایڈز شامل ہیں، کی جانب سے بھرپور تحسین اور عملی تعاون بھی حاصل ہوا۔ بعد ازاں لاہور میں اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے اعلان کیا کہ اس اقدام کو پنجاب کے دیگر ڈویژنوں تک بھی وسعت دی جائے گی، تاہم یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا اور زیادہ تر اعلانات کاغذی کارروائی تک ہی محدود رہے۔