اسلام آباد (قاسم عباسی) وفاقی دارالحکومت میں متعارف کرایا گیا ڈیجیٹل ای اسٹیمپ (الیکٹرانک مہریں لگانے کا) نظام نظامی خامیوں، سکیورٹی خطرات اور بار بار پیدا ہونے والی تکنیکی خرابیوں کے باعث ممکنہ فراڈ اور شہریوں کو مشکلات میں ڈالنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔تاہم اآئی سی ٹی حکام کا کہنا ہے کہ منفرد کوڈز ای-اسٹیمپ کا دوبارہ استعمال کو روکتے ہیں، عدالتوں کو استعمال شدہ نمبرز منسوخ کرنے کانظام دیا جارہا ہے۔حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل منتقلی کو شفاف اور ناقابلِ جعل سازی قرار دیا جاتا ہے، تاہم نظام میں موجود بعض خامیاں بڑی مالیت کے لین دین، عدالتی مقدمات اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے متعلق جائیدادوں کی خرید و فروخت میں ممکنہ غلط استعمال کا راستہ کھول سکتی ہیں۔نظام میں سامنے آنے والی ایک بڑی کمزوری ایک ہی ای-اسٹیمپ پیپر کے متعدد فزیکل پرنٹس حاصل کرنے کی سہولت ہے۔ ایسی متعدد نقول کو مختلف ادائیگیوں کے دعوے یا ایک ہی جائیداد سے متعلق متضاد معاہدے سامنے لانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ای-اسٹیمپ کے ایک رجسٹرار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دی نیوز کو بتایا کہ ایک ہی جائیداد کی خرید و فروخت کے لیے مختلف مالی مالیت ظاہر کرنے والی متعدد نقول قانونی کارروائی، ٹیکس وصولی اور زمین کی رجسٹریشن کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ای-اسٹیمپ نظام میں شناخت کی تصدیق کا طریقہ کار بھی سوالات اٹھا رہا ہے۔ ایک شخص کسی دوسرے فرد کے شناختی کارڈ نمبر (CNIC)، نام اور والد کے نام کو استعمال کرتے ہوئے ای-اسٹیمپ حاصل کرسکتا ہے، اگر درخواست کو کسی غیر متعلقہ موبائل نمبر کے ساتھ ای میل کے ذریعے منسلک کردیا جائے۔