بارہ لاکھ مربع میل پر پھیلی مملکت ِاسلامیہ کے مالک و مختار، شہنشاہِ دوجہاں کا تختِ شاہی مسجدِ نبوی ؐ میں منبر ِرسول ؐ کے پاس بچھی کھجور کے پتّوں سے بنی ایک چٹائی اور ایک عام ٹوپی یا کپڑے کا صاف عمامہ سرِاقدس پر کہ یہی ہے تاجِ بادشاہی اور یہی ہے شہنشاہی میں گدائی کہ جس میں نہ زیب و زینت ہے، نہ کرّوفر، نہ امیرانہ عیش و عشرت نہ شاہانہ ٹھاٹ باٹ، نہ نوکر چاکر اور نہ ہی باندی و غلام، سب آزاد و خودمختار، نہ کوئی چھوٹا نہ بڑا۔ ہاں، تقویٰ ہے نبیؐ کے دربار میں پیمانۂ معیار۔
یہ ہے سرورِ عالم، رحمۃللعالمینؐ کی سادہ سی زندگی، بناوٹ سے دُور، طمطراق سے پاک، ہر وقت، ہر لمحہ یادِالٰہی میں مشغول، خدمتِ انسانی میں مصروف، مالِ غنیمت میں آئے ہزاروں، لاکھوں دینار شام تک غرباء میں تقسیم، لیکن گھر میں فقر و فاقہ یا چند کھجوریں اور پانی پر صبر و شکر، پھر سخاوت و فیّاضی، بخشش و عطا کا یہ عالم کہ سائل کا دراز ہاتھ درِ مصطفیٰ ؐ سے کبھی خالی نہ گیا۔ گھر میں کچھ ہوا، توا ُس کا، ورنہ فرما دیا، جاؤ فلاں شخص سے میرے نام پر اُدھار لے لینا۔ عاجزی و انکساری ایسی کہ کبھی کسی کام کو حقیر نہ جانا۔
بکریاں چَرائیں کہ یہ نبیوں کی سنّت ہے۔ تجارت اس ایمان داری سے کی کہ کفار قریش سمیت یہود و نصاریٰ بھی اش اش کر اُٹھے۔ مسجدِ نبوی ؐ کی تعمیر میں پتھر ڈھوئے، جنگِ خندق میں خندق کھودی۔ ایک صحابیؓ نے اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹایا، ایک پتّھر بندھا ہوا تھا۔ میرے آقاؐ نے جب کپڑا ہٹایا تو دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔ صحابہ کرامؓ میں سے کوئی توشہ بھیجتا، تو پہلا حق اہل ِصفہ کا ہوتا۔ نہ کبھی کپڑے دھونے کو عار سمجھا، نہ کپڑوں کو پیوند لگانے کو۔
جو تے خود گانٹھ لیتے، بازار سے نہ صرف اپنا سودا سلف لاتے بلکہ اہلِ محلّہ کا بھی لے آتے… بکری کا دودھ دوہ لیتے، ازواجِ مطہراتؓ کے ساتھ گھر کے کام کاج میں بھی ہاتھ بٹاتے، یہاں تک کہ بعض اوقات آٹا بھی گوندھ لیا کرتے۔ اپنی ازواجِ مطہراتؓ سے بے انتہا محبّت فرماتے۔ اُن کے حقوق کا خیال رکھتے، ہر ایک سے برابری کا سلوک فرماتے۔ اُن کی آپس کی شکایات بھی صبر و تحمّل سے تبسّم فرماتے ہوئے سنتے، پھر اُن کے ازالے کی کوشش فرماتے۔ اُن کے آرام و ضروریات کا خیال رکھتے۔ انہیں نازک آبگینوں سے تشبیہ دیتے۔
اُن کے احساسات کی پاس داری فرماتے۔ انسان، حیوان، چرند، پرند ہرکسی کی تکلیف پر تڑپ اُٹھتے۔ اپنے تو اپنے، غیروں کو بھی گلے لگالیتے۔ دشمنوں کو بھی معاف فرمادیتے۔ منافقوں کو بھی دُعائیں دیتے۔ فقیروں کے ملجا، ضعیفوں کے ماوا، یتیموں کے والی، غلاموں کے مولیٰ۔ گھاس کا تکیہ، ٹاٹ کا بستر، سر تاجِ انبیاء ؑ ، سپہ سالارِ اعظم، شہنشاہِ کون و مکاں، رحمتِ دوجہاں، سیّد عرب و عجم، سرکارِ دوعالم، سیّد المرسلین، خاتم النبیینؐ، جزیرۃ العرب کے بادشاہ، مگر جب دنیا سے رخصت ہوئے تو جیب بھی خالی، گھر میں بھی تھا فاقہ۔ سلام اُس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی، سلام اُس پر کہ جس نے زخم کھاکر پھول برسائے، سلام اُس پر کہ جس نے گالیاں سُن کر دُعائیں دیں۔ سلام اُس پر کہ جس نے فضل کے موتی بکھیرے ہیں، سلام اُس پر کہ بُروں کو جس نے فرمایا کہ میرے ہیں۔
سراپا اقدس
رسول اللہﷺ اپنے جدِّامجد حضرت ابراہیم علیہ السلام سے مشابہ تھے۔ حضرت علیؓ ابن ِابی طالب فرماتے ہیں کہ’’ آپؐ کا سراپا مبارک میانہ تھا، نہ زیادہ لمبا، نہ پست، قامت مائل بہ درازی تھی۔ مجمعے میں ہوتے، تو دوسروں سے نمایاں نظر آتے۔ آپﷺ کے جملہ اعضائے مبارکہ میں ایسا حَسین تناسب پایا جاتا تھا کہ دیکھنے والا یہ گمان بھی نہ کر سکتا تھا کہ فلاں عضو دُوسرے کے مقابلے میں فربہ یا نحیف ہے۔
آپﷺ کے جسمِ اطہر کی ساخت اِتنی متناسب اور کمال موزونیت کی مظہر تھی کہ اُس پر فربہی یا کم زوری کا حُکم نہیں لگایا جاسکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبﷺ کو بے مثل اور تمام عیوب و نقائص سے مبّرا تخلیق کیا تھا۔ آپﷺ کا سراپا، کمال درجہ حَسین و متناسب اور دِل کشی و رعنائی کا حامل اور حُسن و خُوبی کا خزینہ تھا۔
اَعضائے مبارکہ کی ساخت اِس قدر مثالی اور حُسنِ مناسبت کی آئینہ دار تھی کہ دیکھ کر ایک حُسنِ مجسّم، پیکرِ اِنسانی میں ڈھلتا دکھائی دیتا تھا۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم کی بیان کردہ روایات کے مطابق، آپﷺ کے جسدِ اطہر کی خُوب صُورتی اور رعنائی و زیبائی اپنی مثال آپ تھی۔ آپﷺ کا سینۂ اقدس اور شکم مبارک دونوں ہم وار تھے۔
تاہم، سینہ نہایت حُسنِ اعتدال کے ساتھ بطنِ مبارک کی نسبت ذرا آگے کی طرف اُبھرا ہوا تھا۔ کلائیاں لمبی چوڑی، ہتھیلیاں فراخ اور ریشم کی طرح نرم و ملائم، انگلیاں موزوں حد تک دراز، نازک اور نہایت حسین، تلوے نیچے سے قدرے خالی کہ پانی نہ ٹھہرے، پاؤں کی ایڑیاں نازک، ہلکی اور نرم تھیں۔ (جامع ترمذی، حدیث 1572)۔ آپؐ کے دستِ مبارک کستوری سے زیادہ خوشبودار تھے۔ (صحیح بخاری، 3553)۔
بدنِ اطہر پر دونوں مونڈھوں کے درمیان ولادت باسعادت کے وقت ہی سے مُہرِنبوّت تھی۔ (صحیح بخاری، 3541) ۔حضرت جابر بن سمرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکے دونوں شانوں کے درمیان مُہرِنبوّت ایک سرخ غدود کی شکل میں تھی، جیسے کبوتری کا انڈا ہوتا ہے۔ (جامع ترمذی،، 1578)۔
صورتِ زیبا
حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ’’مَیں نے رسول اللہﷺ سے زیادہ کسی کو خُوب صُورت نہیں دیکھا، گویا کہ آپؐ کے رُخسار مبارک میں سورج تیر رہا ہے۔ جب آپ ؐ مُسکراتے، تو دیواروں پر اُس کی چمک پڑتی تھی۔‘‘ کسی نے حضرت براءؓ سے پوچھا کہ ’’کیا رسول اللہﷺ کا چہرئہ اقدس، تلوار کی طرح یعنی لمبا پتلا تھا۔‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’نہیں، آپؐ کا چہرئہ مبارک چاند کی طرح خُوب صُورت تھا۔ رسول اللہﷺ تمام انسانوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ خُوب رُو اور روشن چہرے والے تھے۔‘‘ (صحیح بخاری،، 3552)
ہند بن ابی ہالہؓ سے روایت ہے کہ دیکھنے والوں کی نظر میں آپؐ کا چہرئہ انور، عظیم ، برگزیدہ اور دبدبے والا تھا۔ رُخ انور ایسا چمکتا تھا، گویا آفتاب چمک رہا ہے، آپؐ کا چہرئہ مبارک بالکل گول نہ تھا، بلکہ ہلکی گولائی لیے ہوئے، یعنی بیضوی جیسے چودھویں کا روشن چاند۔ آپؐ کی پیشانی کشادہ، ابرو خم دار، باریک، گنجان اور دونوں ایک دوسرے سے جُدا جُدا، ابرؤوں کے درمیان ایک رگ کا ابھار تھا، جو غصّہ آنے پر نمایاں ہوجاتا تھا۔ آنکھیں قدرتی طور پر سُرمگیں اور سیاہ تھیں۔
سفید حصّے میں سُرخ ڈورے ، جب کہ آنکھوں کا خانہ لمبا اور خُوب صُورت تھا۔ نظریں نیچی رہتیں، گوشۂ چشم سے دیکھنے کا حیا دارانہ انداز تھا، پلکیں دراز تھیں۔ ناک ستواں، بلندی مائل اور خُوب صُورت، جس پر نورانی چمک، رخسار شفّاف و ہم وار، خورشید جیسے، نیچے سے گوشت ذرا سا ڈھلکا ہوا، دہنِ مبارک کشادہ و حسین، دندان شریف نہایت سفید، باریک جیسے خورشید کے ذرّے، جو شفّاف موتیوں کی طرح شبِ تاریک میں ستاروں سے زیادہ چمکتے، سامنے کے دانتوں میں خوش نُما ریخیں، تکلّم فرماتے تو دانتوں سے چمک سی نکلتی، گردن پتلی لمبی اور حسین تھی۔ سر مبارک بڑا لیکن اعتدال اور مناسبت کے ساتھ۔
رنگت چاندنی جیسی اُجلی اور خوش نُما، نہ سفید نہ سانولا، بلکہ سرخی مائل سفید، مگر ملاحت دار اورچمک دار ایسا کہ گویا چاندی سے ڈھلا ہوا جسمِ اقدس ہو۔حضرت کعب بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کسی بات پر مسرور ہوتے تو چہرئہ انور چمک اٹھتا۔ ایسا معلوم ہوتا کہ جیسے چاند کا ٹکڑا ہو اور آپﷺ کی خوشی کو ہم اس سے پہچان جاتے تھے۔‘‘ (صحیح بخاری،3556)۔
حضرت عبداللہ ؓ بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے زیادہ تبسّم کرنے والا نہیں دیکھا۔‘‘ ایک اور جگہ فرماتے ہیں۔ ’’رسول اللہﷺ کی مسکراہٹ ہی آپﷺ کی ہنسی تھی۔‘‘ حضرت جابر بن سمرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ہنستے نہیں تھے، بلکہ مُسکراتے تھے اور آپﷺ کا یہ تبسّم ہی آپﷺ کی ہنسی تھی۔(جامع ترمذی، 1579,1576, 1535)
شانِ مبارک
رسول اللہﷺ تمام کائنات میں سب سے اعلیٰ وافضل اور اطہر واطیب تھے۔ آپﷺ سارے جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجے گئے۔ رسول اللہ ﷺجو بھی لباس زیب ِتن فرمایا کرتے، وہ نہ میلا ہوتا، نہ اُس میں جُوں پڑتی۔ نہ کبھی مکھی بیٹھتی، نہ مچّھر۔ آپﷺ کے جسم ِاطہر کا سایہ بھی نہ تھا۔ حضورﷺ کا نصف اعلیٰ یعنی سر، چہرئہ انور اور سینۂ مبارک حضرت امام حسنؓ سے اور نصف اسفل یعنی سینے سے نیچے تک حضرت امام حسینؓ سے مشابہ تھا۔ الغرض، دونوں شہزادے رسول اللہﷺ کی پوری تصویر تھے۔(جامع ترمذی،1714)۔
اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ ’’رسول اللہﷺ اس طرح ٹھہرٹھہر کر گفتگو فرمایا کرتے تھے کہ آپﷺ کی باتوں کو شمار کرنے والا آرام سے شمار کرسکتا تھا۔‘‘ (صحیح بخاری، 3568,3567)۔ حضرت حسن بن علی مرتضیٰؓ فرماتے ہیں کہ ’’رسول اللہﷺ جب چلتے تو ایسا معلوم ہوتا کہ جیسے بلندی سے نیچے اُتر رہے ہیں۔ چلتے ہوئے نگاہ نیچی رکھتے۔ بلندی پر چڑھتے تو تکبیر اور نیچے اُترتے تو تسبیح کہتے۔‘‘
حضرت ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ ’’رسول اللہﷺ اس دوشیزہ سے بھی زیادہ شرمیلے تھے، جو پردے میں رہتی ہو۔‘‘ (صحیح بخاری،3562) رسول اللہﷺ افصح العرب تھے، چناں چہ کلام کا ادبی معیار بہت بلند تھا، لیکن الفاظ عام فہم اور سادہ ہوتے۔ ثقیل اور مشکل الفاظ نہ استعمال فرماتے اور نہ پسند کرتے۔
سخت مزاجی کو پسند نہیں فرماتے تھے، گفتگو کے دوران دوسرے کی بات نہایت صبروتحمّل سے سُنتے اور خوش مزاجی کے ساتھ زیرِلب تبسّم فرماتے رہتے۔ آپﷺ کی گفتگو ایسی ہوتی، جیسے موتیوں کی لڑی پروئی ہو اور سننے والا گفتگو کے سحر میں کھوجاتا۔ رسول اللہﷺ کسی کی بات کو برا سمجھتے تو چہرئہ اقدس پر اس کا اثر ظاہر ہوجاتا تھا۔(صحیح بخاری،3563)۔
خوشبو سے محبت
رسول اللہﷺ خوشبو کو بہت پسند فرمایا کرتے تھے۔ خود کثرت سے استعمال کرتے اور احباب کو بھی ترغیب دیا کرتے تھے۔ ریحان، مشک اور حود بہت پسند تھی۔ منہدی کے پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو مرغوب تھی۔ رسول اللہﷺ کا جسم ِاطہر طبعی طور پر مسحور کن خوشبوؤں سے ہمیشہ مہکتا ررہتا تھا اگرچہ کہ خوشبو استعمال نہ بھی کی ہو آپﷺ کے پسینے کی مہک مشک وعنبر سے زیادہ معطّر تھی۔ جس سے مصافحہ فرمالیتے، سارا دن اس کے ہاتھوں سے خوشبو آتی رہتی۔
حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ’’ مَیں نے رسول اللہﷺ کی خوشبو سے زیادہ بہتر اور پاکیزہ کوئی خوشبو یا عطر نہیں پایا اور نہ ہی سونگھا۔‘‘(صحیح بخاری،3561)۔ حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ خوشبو کا ہدیہ واپس نہیں فرمایا کرتے تھے۔ صحابۂ کرامؓ بھی اس سنّت کی پیروی کرتے ہوئے خوشبو کا ہدیہ رد نہیں کیا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری، حدیث 5929) ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، مردانہ خوشبو وہ ہے، جس کی مہک پھیلتی ہو اور رنگ غیر محسوس ہو، جیسے گلاب، کیوڑا۔ اور زنانہ خوشبو وہ ہے، جس کا رنگ ہو اور خوشبو مغلوب ہو، جیسے حنا اور زعفران۔‘‘ حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ’’ رسول اللہﷺ کے پاس ایک عطردان تھا، جس میں سے خوشبو استعمال فرماتے تھے۔‘‘(سنن ابو داؤد 4162)۔
ذوقِ نفاست
حضرت علیؓ روایت کرتے ہیں کہ ’’رسول اللہﷺ کے سر کے بال نہ بالکل پیچیدہ تھے اور نہ بالکل سیدھے، بلکہ کچھ گھنگھریا لاپن لیے ہوئے تھے۔‘‘ (جامع ترمذی، 1572) آپﷺ سر میں کثرت سے تیل لگاتے اور کنگھا کرتے، کسی کو پراگندہ اور بکھرے بالوں میں دیکھتے تو کراہت فرماتے۔ ہر چیز میں اعتدال، میانہ روی اور نفاست پسند تھی۔ شروع میں سر کے بالوں میں مانگ نہیں نکالتے تھے، لیکن بعد میں نکالنے لگے تھے۔ (صحیح بخاری،3558)۔
رسول اللہ ﷺ کی ریشِ مبارکہ نہایت خُوب صُورت، گھنی، گنجان اور بھرپور تھی، جو سینہ مبارک کو بھردیتی تھی۔ داڑھی شریف کے بال کثرت سے سیاہ اورچمک دار تھے۔ حضرت ابنِ عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا۔ ’’مشرکوں کی مخالفت کرو، داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں ترشواؤ۔‘‘ آپﷺ کی داڑھی میں زیرِلب چند سفید بال تھے۔‘‘ (بخاری، 3545)۔ حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’جب آپﷺ کی وفات ہوئی تو آپﷺ کے سر اور داڑھی کے20بال بھی سفید نہیں تھے۔‘‘(بخاری، 3548)
حضرت انس بن مالکؓ سے دریافت کیا گیا کہ کیا رسول اللہﷺ خضاب لگایا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ’’ آپﷺ کے بالوں میں سفیدی کی آمیزش بہت کم تھی، یعنی بال اتنے سفید نہ ہونے پائے تھے کہ خضاب کی ضرورت ہوتی۔ (صحیح بخاری،3550) رسول اللہﷺ نے خضاب استعمال فرمایا یا نہیں اس سلسلے میں مختلف روایات ہیں، لیکن آپﷺ نے منہدی اور نیل کے خضاب کو پسند فرمایا۔ حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے آپﷺ نےفرمایا۔ ’’سب سے افضل چیز، جس سے تم بڑھاپے کوبدلو، وہ منہدی اور نیم کے پتّے ہیں۔ (جامع ترمذی،1807)۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ ’’یہود ونصاریٰ خضاب نہیں کرتے، تم لوگ ان کی مخالفت کرو اپنے بالوں کو رنگ لیا کرو،یعنی خضاب کیا کرو۔‘‘(صحیح بخاری،3462)۔ حضرت جابرؓ بن عبداللہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے سیاہ خضاب سے منع فرمایا۔(تفہیم المسلم، جِلد3، حدیث984) لباس انسان کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ حضرت ابن ِعمرؓ سے مروی ہے کہ ’’رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ’’ مومن کی تمام خوبیوں میں لباس کا صاف ستھراہونا اللہ کو بہت پسند ہے۔‘‘ اُمّ المومنین، حضرت اُمّ سلمہؓ فرماتی ہیں کہ ’’رسول اللہﷺ کا محبوب ترین لباس کُرتا تھا۔‘‘( ترمذی،، الحدیث1820)
رسول اللہﷺ عموماً سفید رنگ کالباس زیب تن فرمایا کرتے تھے اور نصیحت کرتے تھے کہ حسین ترین لباس سفید کپڑوں کا ہے، تم سفید لباس خُود بھی پہنا کرو اور اپنے مُردوں کو بھی سفید کفن دیا کرو، کیوں کہ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ پاکیزہ اور پسندیدہ ہے۔‘‘(ترمذی،، حدیث 714)۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ’’ رسول اللہﷺ نے کبھی کسی کھانے کو معیوب نہیں سمجھا، اگر آپﷺ کا دل چاہتا، تو تناول فرماتے، ورنہ خاموشی سے چھوڑ دیتے ۔‘‘(صحیح بخاری، 2938)۔ رسول اللہﷺ ٹیک لگا کر کھانا تناول نہیں فرماتے تھے۔ کھانے سے پہلے ہاتھ دھوتے پھر سیدھے ہاتھ سے اپنے سامنے سے بسم اللہ پڑھ کر کھانے کی ابتدا فرماتے۔
اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو اسوئہ حسنہ اور سنّتِ رسول اللہﷺ کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے، (آمین)۔ (تمام شُد)