اسلام آباد (عاصم جاوید) اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 27ستمبر کے احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست کی سماعت آج تک ملتوی کرتے ہوئے تمام صوبوں کے آئی جیز، چیف سیکریٹریز اور دیگر متعلقہ افسران کو دوبارہ طلب کر لیا،سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے سوال اٹھایا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو حملہ کیوں تصور کیا جا رہا ہے؟ یہ لانگ مارچ عدلیہ کے حق میں ہے،اس پر چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیئے کہ عدلیہ اتنی کمزور نہیں کہ کسی سیاسی جماعت کی حمایت کی ضرورت ہو، عدالتی فیصلوں کی پہلے بھی خلاف ورزی ہوئی، شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونے دینگے،دوران سماعت اسلام آباد میں احتجاج سے متعلق 2024 کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک صوبے کا وزیراعلیٰ بیانات دے رہا ہے، ان بیانات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے،عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کو ماضی میں عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کی گئی کارروائی کا ریکارڈ بھی پیش کرنے کی ہدایت کردی۔ جمعرات کو چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں جسٹس اعظم خان اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل تین رکنی لارجر بنچ نے تاجر وقاص احمد کی درخواست کی سماعت کی۔ اس موقع پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک، آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی، موٹروے پولیس، خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان پولیس کے نمائندگان، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن سمیت دیگر افسران عدالت میں موجود تھے۔ درخواست گزار کے وکیل اختر چھینہ نے گزشتہ سماعت کا عدالتی حکم پڑھ کر سنایا، جس کے بعد اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل کا آغاز کیا اور کہا کہ مئی 2022 میں سپریم کورٹ کو واضح یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن اس کے باوجود عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی گئی۔