کراچی (سید محمد عسکری) سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ملک میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام اور ایکریڈیٹیشن کے لیے وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تیار کردہ ’’ڈرافٹ ریگولیٹری فریم ورک 2026‘‘ کے ان حصوں کو مسترد کردیا ہے جن کے ذریعے جامعات کی لائسنسنگ، معائنہ، مانیٹرنگ، ایکریڈیٹیشن اور تادیبی کارروائیوں کے اختیارات وفاقی ایچ ای سی کو منتقل کیے گئے ہیں۔سندھ ایچ ای سی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم طارق رفیع نے ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق کو 7 ستمبر کو ارسال کردہ خط اور 48 نکات پر مشتمل تفصیلی جواب میں مطالبہ کیا ہے کہ سندھ کا مؤقف ڈرافٹ فریم ورک کے ساتھ وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ کابینہ کو فیصلے سے قبل صوبے کے قانونی اور آئینی اعتراضات سے آگاہ کیا جاسکے۔ سندھ ایچ ای سی نے واضح کیا ہے کہ وفاق کو اعلیٰ تعلیم کے قومی معیارات مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم صوبوں میں جامعات کے قیام، این او سی، معائنہ، نگرانی اور قوانین پر عمل درآمد کی ذمہ داری متعلقہ صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشنز کی ہے۔ مجوزہ فریم ورک مشترکہ مفادات کونسل کے متفقہ فیصلوں اور سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن ایکٹ 2013 سے متصادم ہے۔ سندھ ایچ ای سی نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن ایکٹ 2013 کی دفعہ 22 کے تحت وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن آرڈیننس 2002 کا سندھ تک اطلاق ختم ہوچکا ہے۔ یہ قانونی حیثیت ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران کسی عدالت یا فورم پر چیلنج بھی نہیں کی گئی۔ وفاقی ایچ ای سی وضاحت کرے کہ وہ کس قانونی شق کے تحت ایسا ریگولیٹری نظام سندھ تک وسیع کرنا چاہتا ہے جس کی مکمل آئینی بنیاد 2002 کے اس آرڈیننس پر رکھی گئی ہے جو سندھ میں منسوخ ہوچکا ہے۔ خط میں سوال کیا گیا کہ اگر وفاقی اور صوبائی اداروں کے فیصلے مختلف ہوں تو دونوں نظام کس طرح کام کریں گے۔ سندھ ایچ ای سی نے کہا کہ خالصتاً وفاقی نظام کوئی نیا یا غیر آزمودہ تصور نہیں۔ یہ نظام سندھ میں 2002 سے 2013 تک موجود رہا، جب نہ صوبائی کمیشن تھا اور نہ صوبائی معائنہ کرنے والا ادارہ۔ خود ڈرافٹ فریم ورک میں اس دور کو اعلیٰ تعلیمی شعبے کی تیز رفتار اور بڑی حد تک غیر منظم توسیع کا دور قرار دیا گیا ہے۔ سندھ ایچ ای سی نے کالجوں کے لیے کسی واضح ریگولیٹر کی عدم موجودگی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ سندھ ایچ ای سی نے ڈرافٹ تیار کرنے والی ٹاسک فورس کی تشکیل پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس میں وفاقی اداروں، جامعات اور بین الاقوامی ماہرین کو شامل کیا گیا مگر کسی صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن، حکومت سندھ یا سندھ میں قائم کسی ادارے کو نمائندگی نہیں دی گئی۔ ڈرافٹ مکمل ہونے کے بعد رائے طلب کرنا تیاری کے مرحلے میں بامعنی شمولیت کا متبادل نہیں ہوسکتا۔