• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بجلی کی خریداری، حکومتی کردار ختم، 400 میگاواٹ سے پہلی صنعتی نیلامی کا آغاز، بجلی مارکیٹ مسابقت کے لیے کھول دی گئی

اسلام آباد (اسرار خان،ساجد چوہدری) بجلی کی خریداری میں حکومتی کردار ختم،400میگاواٹ سے پہلی صنعتی نیلامی کا آغاز، بجلی مارکیٹ مسابقت کیلئے کھول دی گئی، وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت بجلی تقسیم کی مرکزیت ختم کردیگی، حکومت آج سے عملی طور پر خریداری کے عمل سے باہر ہورہی ہے جو ایک سنگ میل ہے، بجلی پیدا کرنے والے اور صارفین حکومت کے مرکزی نظام کے بجائے مارکیٹ فریم ورک کے تحت براہ راست خریدوفروخت کے معاہدے کرسکیں گے، نیا نظام شفافیت اور مسابقت کو فروغ دیگا، صنعتوں کو توانائی کے اخراجات کم کرنے، عالمی منڈیوں میں اپنی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے اور برآمدات میں اضافے میں مدد دے سکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں بجلی کی پہلی وہیلنگ نیلامی کا آغاز: 400 میگاواٹ بجلی پیش؛ پاور ڈویژن کی جانب سے مسابقتی تجارت کے تحت تجاویز طلب، ابتدائی 400میگاواٹ نیلام کیے جائیں گے۔ پاکستان نے پہلی بار بجلی کی وہیلنگ کی نیلامی کا آغاز کر دیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں 400 میگاواٹ بجلی پیش کی جا رہی ہے۔ حکومت نے یہ اقدام بجلی کی مرکزی سطح پر خریداری کے موجودہ نظام سے بتدریج نکل کر بجلی پیدا کرنے والوں اور بڑے صارفین کے درمیان مسابقتی بنیادوں پر براہِ راست تجارت کی جانب منتقلی کے لیے شروع کیا ہے۔ پاور ڈویژن نے مسابقتی دوطرفہ معاہدہ مارکیٹ کے فریم ورک کے تحت تجاویز طلب کر لی ہیں۔ آئندہ پانچ سال کے دوران مجموعی طور پر 800 میگاواٹ بجلی نیلام کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ ابتدائی مرحلے میں 400 میگاواٹ بجلی مسابقتی بنیادوں پر خریداری کے لیے پیش کی جائے گی۔ وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے اس اقدام کو توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بجلی کے مرکزی خریدار کے طور پر اپنے روایتی کردار سے بتدریج دستبردار ہونا شروع کر رہی ہے۔ ’’حکومت آج سے عملی طور پر بجلی کی خریداری کے عمل سے باہر نکل رہی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے تحت بجلی پیدا کرنے والے اور صارفین مارکیٹ کے طے شدہ فریم ورک کے تحت براہ راست بجلی کی خرید و فروخت کے معاہدے کر سکیں گے، جس سے انہیں صرف حکومت کے مرکزی بجلی خریداری کے نظام پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا، ’’حکومت کو نہ تو بجلی فروخت کرنے کا حق حاصل ہوگا اور نہ ہی وہ روایتی طریقہ کار کے تحت بجلی پیدا کرنے والوں سے بجلی خریدے گی۔‘‘ پہلے مرحلے میں صنعتی اور بڑے صارفین کو ترجیح دی جائے گی، بالخصوص وہ صارفین جو ایک میگاواٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں۔ حکومت کا منصوبہ ہے کہ بتدریج مسابقتی بنیادوں پر بجلی کی خرید و فروخت کا دائرہ کار صارفین کے ایک وسیع طبقے تک بڑھایا جائے۔ وزیر نے کہا، ’’بجلی پیدا کرنے والے اور اسے استعمال کرنے والے براہِ راست بجلی کی خرید و فروخت کر سکیں گے۔‘‘ انہوں نے زور دیا کہ نیا نظام شفافیت اور مسابقت کو فروغ دیگا۔

اہم خبریں سے مزید