انصار عباسی
اسلام آباد:…ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے وفاقی اور صوبائی حکومت کے محکموں کی جانب سے معلومات تک رسائی کے قوانین پر کمزور عمل درآمد کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ معلومات کی فراہمی کی شرح بلوچستان میں صرف 28؍ فیصد سے لے کر پنجاب میں 59؍ فیصد تک ہے۔ 28؍ ستمبر کو منائے جانے والے معلومات تک رسائی کے عالمی دن سے قبل جاری کردہ اس جائزہ رپورٹ میں 98؍ اہم وزارتوں اور سرکاری محکموں کی ویب سائٹس کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ وفاقی قانونِ حقِ رسائیِ معلومات 2017ء اور متعلقہ صوبائی قوانین کے تحت معلومات کی فراہمی سے متعلق تقاضوں پر عمل درآمد کا تعین کیا جاسکے۔ رپورٹ کے مطابق، مجموعی طور پر سب سے زیادہ عمل درآمد پنجاب میں ریکارڈ کیا گیا، جہاں 18؍ محکموں میں یہ شرح 59؍ فیصد رہی، جس کے بعد وفاقی حکومت کی 14؍ وزارتوں میں 47؍ فیصد شرح رہی۔ خیبر پختونخوا کے 22؍ محکموں میں یہ شرح 41؍ فیصد، سندھ کے 25؍ محکموں میں 31؍ فیصد، جبکہ بلوچستان کے 19 ؍محکموں میں سب سے کم 28؍ فیصد رہی۔ جائزے میں بجٹ اور اخراجات سے متعلق معلومات کی فراہمی کو کمزور ترین شعبوں میں سے ایک قرار دیا گیا، جس سے سرکاری ویب سائٹس پر بنیادی مالی معلومات کی دستیابی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ کئی کیسز میں پبلک انفارمیشن افسران (پی آئی اوز) سے متعلق معلومات کی دستیابی بھی ناقص پائی گئی۔ یہ معلومات خاص طور پر اہم ہیں کیونکہ جب معلومات فراہم نہ کی گئی ہوں تو پی آئی اوز وہ ادارہ جاتی چینل فراہم کرتے ہیں جس کے ذریعے شہری معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ جائزے کے مطابق، پی آئی اوز کے رابطے کی تفصیلات شائع کرنے کی شرح بلوچستان میں صرف 12؍ فیصد، سندھ میں 14؍ فیصد، وفاقی سطح پر 36؍ فیصد اور خیبر پختونخوا میں 45؍ فیصد رہی۔ اس زمرے میں پنجاب کی کارکردگی نسبتاً بہتر رہی، جہاں یہ شرح 72؍ فیصد ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ انفارمیشن کمیشنز ازخود معلومات کی فراہمی کیلئے یکساں فارمیٹس متعارف کرائیں، جبکہ سرکاری محکموں کو پبلک انفارمیشن افسران کی تربیت بہتر کرنے اور بجٹ و اخراجات کی تفصیلات کی اشاعت کو مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ پی آئی اوز کے رابطے کی تفصیلات کی اشاعت لازمی قرار دی جائے، فیصلہ سازی کے طریقۂ کار اور عوامی مشاورت کے مواقع سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں، جبکہ ویب سائٹس کیلئے کم از کم معیارات متعارف کرائے جائیں، جن میں ہر سرکاری محکمے کی ویب سائٹ پر معلومات تک رسائی کے حق (آر ٹی آئی) کیلئے ایک علیحدہ سیکشن شامل ہو۔