کراچی (اسٹاف رپورٹر) میر رضا کا لہو انصاف مانگ رہا ہے ، پولیس نے ثبوت جلائے، بیوروکریسی نے بورڈ بدلا۔ جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے سیکریٹری ہیلتھ اور ڈی جی ہیلتھ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر مداخلت کر کے میر رضا قتل کیس میں تشکیل دیا ،میڈیکل بورڈ میں تبدیلیاں کیں جبکہ پہلی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو نے 6 دن میں کیس کا بیڑہ غرق کیا، 52 کیمروں میں سے ایک فوٹیج لی، کرائم سین کی جھاڑیاں جلا دیں۔ ماں کی فریاد پر کان نہ دھرے، غریب کا بچہ ہوتا تو کیا کرتے؟ پہلی تفتیشی ٹیم نے شواہد ضائع کئے، ماتحتوں پر ملبہ ڈال دیا۔تفصیلات کے مطابق جمعرات کو جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں ہوئی۔ فوکل پرسن نے کہا کہ کمیشن کی مدت میں توسیع سے متعلق درخواست موصول ہوچکی ہے۔ درخواست کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ ہم بھی چاہتے ہیں کہ کمیشن جلد کارروائی مکمل کرلے۔ جسٹس عمر سیال نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن پیر تک امید ہے کارروائی مکمل کرلے گا۔ اس کے بعد رپورٹ لکھنے کا کام شروع کیا جائے گا۔ کمیشن نے سیکریٹری صحت طاہر حسین سانگی کو طلب کیا۔ جسٹس عمر سیال نے پوچھا کہ آپ کا نام دو گواہوں نے لیا تھا۔ آپ نے کب عہدہ سنبھالا؟ طاہر حسین سانگی نے کہا کہ فروری 2026 کو عہدہ سنبھالا تھا۔ 2005 سے مختلف عہدوں پر تعینات رہا ہوں۔ 5 اضلاع میں ڈپٹی کمشنر بھی رہا ہوں۔ 2005 میں کمیشن پاس کیا تھا۔ کمیشن نے پوچھا کہ ڈاکٹر اسامہ آپ کے ماتحت آتا ہے۔ طاہر حسین نے کہا کہ ڈاکٹر اسامہ شیخ صحت کے ادارے کے اندر آتا ہے۔ جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیئے کہ ڈاکٹر اسامہ نہ صرف کمیشن کو متنازع بنا رہے ہیں بلکہ ان کے اقدامات محکمہ صحت کو بھی متنازع بنا رہے ہیں۔