ملتان ( سٹاف رپورٹر) ہائی کورٹ ملتان بینچ کے جج جسٹس چوہدری محمد اقبال نے بھائی اور بہنوں کو جائیداد سے محروم کرنے کے ایک مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ہم سب نے اس عارضی دنیا میں نہیں رہنا سب کے حصے بمطابق شریعت و قانون دے کر اپنی آخرت سنوارنی چاہیے اس طرح 57 سال کے بعد بہنوں اور ایک بھائی کو اپنا حق مل گیا۔ نصیرالدین کے بیٹوں خالد یوسفی ، قدیر یوسفی اور دختران حنا کرن اور سمیعہ کرن نے فاضل عدالت کو آگاہ کیا کہ شیخ کریم الدین کے بیٹوں عبد اللطیف باور محمد حنیف نے 22 ستمبر 1969 کو دعویٰ استقرار حق کے ذریعے ایک ہی دن میں ڈگری کرالی جبکہ اس کا باپ عدالت میں پیش ہی نہیں ہوا انہوں نے نصیرالدین اور اس کی تین بہنوں نذیراں بی بی،جمیلہ بی بیاور حنیفاں بی بی کو حق وراثت سے محروم کر دیا۔پٹیشنرزنے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 12(2) کے تحت ڈگری کےاخراج کیلئے درخواست دی جو ایڈیشنل سیشن جج لیہ نے منظور کرلی۔اس کے خلاف عبد اللطیف وغیرہ نے رٹ دائر کی جو جسٹس چوہدری محمد اقبال نے خارج کردی۔