ناگویا ( نصر اقبال، نمائندہ خصوصی) ایشین گیمز جیولن تھرو میں اولمپکس چیمپئن ارشد ندیم کی کارکردگی پر سوالات اٹھ گئے، ان کا وزن بہت زیادہ بڑھا ہوا تھا ، شائقین اور ماہرین ان کی فٹنس پر حیران تھے، ارشد ندیم نے بارش سے متاثرہ میدان میں گرنے کے خوف سے چھوٹے قدموں کے ساتھ جیولین پھینکی، وہ اپنی کار کردگی پر خاصے افسردہ تھے ۔ اس سے قبل کامن ویلتھ گیمز 2026 میں نویں جبکہ ورلڈ ایتھلیٹکس الٹی میٹ چیمپئن شپ میں 81.49 میٹر کی سیزن بیسٹ تھرو کے ساتھ پانچویں پوزیشن حاصل کی تھی۔ پاکستان ایتھلیکٹس فیڈریشن کا کہنا ہے کہ پچھلے دس سالوں کے دوران ان کی ٹریننگ کا جو پلان بنایا اس کا نتیجہ پیرس اولمپکس میں سامنے آیا، مگر گولڈ میڈل جیتنے کے بعد انہیں ہائی جیک کرلیا گیا۔ فیڈریشن کے ایک عہدے دار نے ان کے کوچ کو’’ یوٹیوبر کوچ‘‘ قرار دیا۔ ایتھلیکٹس فیڈریشن کے سابق صدر میجر جنرل (ر) اکرم ساہی نے کہا کہ ارشدندیم کی تباہی کا ذمے دار پاکستان اسپورٹس بورڈ بھی ہے، سابق ڈی جی نے انہیں براہ راست ٹریننگ کیلئے بھاری فنڈ دیا۔ وہ فیڈریشن سے الگ ہوگئے۔ ان کی پر فارمنس پر سوشل میڈیا پر بھی تشویش ظاہر کی جارہی ہے ۔ ایک صارف نے لکھا کہ ارشد ندیم اپنے زوال کے خود ذمے دار ہیں۔ ہمارے ہاں ہر کھیل میں یہ مسئلہ ہے۔ جیسے ہی پیسہ اور شہرت ملتی ہے یہ راستہ بھٹک جاتے ہیں۔ بعض نے ارشد ندیم کا دفاع بھی کیا ۔ دریں اثنا ایک بھارتی چینل کو انٹرویو دینے سے انکار پر بھارتی میڈیا ارشد ندیم سے سخت ناراض ہوگیا۔