کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) اغوا برائے تاوان کے ملزمان کی گرفتاری کے موقع پر ڈسٹرکٹ سینٹرل اور ایس آئی یو پولیس کا ناظم آباد میں تصادم، ایک دوسرے کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا ،ڈی ایس پی سمیت 3 اہلکاروں کو اغوا کر کے ایس آئی یو صدر منتقل کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، مذاکرات کے بعد رہا ،پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران ناظم آباد تھانے میں موجود سینئر صحافی پر بھی تشدد کیا گیا ، تیموریہ پولیس اغوا برائے تاوان کے مقدمہ میں ملزم کے ساتھیوں کی گرفتاری کیلئے ناظم آباد پہنچی تھی ،تفصیلات کے مطابق اغوا برائے تاوان کے ملزمان کی گرفتاری کے موقع پر انویسٹی گیشن یونٹ کے اہلکاروں نے ہاتھا پانی کے دوران ڈی ایس پی تیموریہ کا سرپھاڑ دیا جبکہ ڈسٹرکٹ سینٹرل کے متعدد اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا ،پولیس کے مطابق تیموریہ تھانے کی پولیس نے مقامی تاجر اور بچے کے اغوا برائے تاوان کے مقدمہ میں ایک ملزم کو چند روز قبل حراست میں لیا تھا ، ملزم نے دوران تفتیش اپنے دیگر 3 ساتھیوں کے نام بھی بتا ئے ،منگل اور بدھ کی درمیانی شب تیموریہ پولیس نے گرفتار ملزم کی نشاندہی پر ناظم آباد میں ایک رہائشی عمارت کا محاصرہ کر کے ریکی شروع کر دی تو اس دوران اچانک اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کی پولیس موبائلیں موقع پر پہنچیں اور کارروائی کرتے ہوئے تینوں ملزمان کو حراست میں لے کر اپنی موبائل میں بٹھا لیا جس پر تیموریہ تھانے کی پولیس نے ایس آئی یو پولیس کو ملزمان کو لے جانے سے روک دیا اور ڈی ایس پی منہاج نے تینوں ملزمان کو موبائل میں منتقل کر کے تیموریہ تھانے کے لیے روانہ کر دیا ، ملزمان کو اپنے ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر ایس آئی یو اہلکار ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس سے گتھم گتھا ہوگئے ، آئی جی سندھ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ایس آئی یو کی مزاکرتی ٹیم کو چھوڑنے کا حکم دیا ،ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے واقعے کی تفصیلی انکوائری رپورٹ طلب کرلی ہے۔