کراچی (اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان سے پیر کے روز ادارہ نور حق میں کلفٹن کے مکینوں کے ایک وفد نے ملاقات کی اور نہر خیام پر پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت اور کے ایم سی کی جانب سے تعمیرات کر کے نہر کی اصل حالت کو تبدیل کرنے اور اسے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے نام پر تجارتی مقاصد کے استعمال کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کے خلاف آواز اٹھانے اور اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ منعم ظفر خان نے وفد کو جماعت اسلامی کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ جماعت اسلامی پہلے ہی اس کے خلاف میدان میں موجود ہے اور نہر خیام کو کسی بھی صورت میں تباہ اور خراب نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ نہر خیام کو اس کی اصل حالت میں ہی بحال کیا جائے، سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 2014ء کی دفعہ 17(1) کے تحت مطلوبہ ماحولیاتی جائزے اور سیپا کی منظوری کو عوام کے سامنے لائے بغیر تعمیراتی کام معطل کیا جائے، بحالی کے منصوبے کا منظور شدہ ڈیزائن، اراضی کی حدود، معاہدوں، ٹھیکے داروں اور اخراجات کی تفصیلات منظرعام پر لائی جائیں۔ بغیر ٹریٹمنٹ سیوریج کا پانی نہر میں چھوڑنے کا سلسلہ بند کیا جائے اور بوٹ بیسن اور سمندر تک پہنچنے سے پہلے گندے پانی کو صاف کرنے کا انتظام کیا جائے۔نہر کی اصل ومکمل چوڑائی اور کناروں کو کھلی سرکاری اراضی کے طور پر محفوظ رکھا جائے اور وہاں دکانوں، فوڈ اسٹریٹ یا دیگر تجارتی سرگرمیوں کی اجازت نہ دی جائے، اوبھایو، چائنا کریک اور گزری کے آبی نظام میں بارش کے پانی کی نکاسی اور سمندری مدوجزر کے بہاؤکی صلاحیت کا درست جائزہ لیا جائے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ کمشنر کراچی نے بھی ایک اجلاس میں نہر کے کمرشل مقاصد کا عندیہ دیا، نہر خیام کی تعمیراتی اسکیم میں environmental assessment report شامل نہیں جبکہ مذکورہ نالہ بلدیہ عظمی کراچی کے ماتحت ہے جہاں صوبائی حکومت کا ایک محکمہ سٹی کونسل سے قرارداد (Council Resolution) کی منظوری کے بغیر ہی تعمیراتی کام انجام دے رہا ہے۔