کراچی (نیوز ڈیسک) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ احمد اقبال رضوی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیاں بری طرح ناکام ہوچکی ہیں، عوام کو مزید قرضوں، مہنگائی اور بدانتظامی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا، حکومت اور اس کے اتحادیوں، بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی، کو عوام کے سامنے اپنی معاشی کارکردگی کا جواب دینا ہوگا۔ مارچ 2024سے اگست 2026 کے دوران وفاقی حکومت کے قرضوں میں 18 ہزار 143ارب روپے کا اضافہ ناکام معاشی حکمت عملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے مقامی اور بیرونی قرضوں میں اضافہ تشویش ناک ہے۔سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر قرضے لینے کے باوجود عوام کو مہنگائی، بے روزگاری، بجلی و گیس کی بھاری قیمتوں، پانی کی قلت اور بنیادی سہولتوں کے فقدان سے نجات کیوں نہیں مل سکی؟علامہ احمد اقبال رضوی نے کہا کہ بجلی کے بھاری بلوں نے متوسط اور غریب طبقے کی زندگی اجیرن کردی ہے، گیس کی قیمتیں اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کے اخراجات عوام کی قوتِ خرید سے باہر ہوچکے ہیں، جبکہ نوجوان روزگار کے مواقع کے لیے پریشان ہیں۔ محض معاشی استحکام کے دعوے کرنے سے عوام کے خالی پیٹ نہیں بھر سکتے اور نہ ہی بجلی، گیس، پانی اور علاج معالجے کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔