کراچی( اسٹاف رپورٹر)قائمہ کمیٹی سینیٹ وائس چانسلر اردو یونیورسٹی کو ہٹانے کی تجویز پر متفق، اسلام آباد میں قائمہ کمیٹی کا اجلاس، وائس چانسلر پر نامکمل کورم سے سنڈیکیٹ بلانے، تنخواہ روکنے اور اساتذہ کو ہراساں کرنے کے الزامات، سینیٹرز کا خواتین اساتذہ کی ہراسانی، پنشن عدم ادائیگی، 20 فیصد ہاؤس سیلنگ کٹوتی اور اقدام قتل کی ایف آئی آر پر شدید اظہار تشویش ، سینیٹر جان محمد بلیدی کی وائس چانسلر کو عہدے سے ہٹانے کی تجویز، کمیٹی کا سفارشات چانسلر و صدر مملکت کو بھجوانے کا متفقہ فیصلہ ۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی اردو یونیورسٹی کے انتظامی و مالیاتی بحران اور اساتذہ کو درپیش مسائل کا جائزہ لینے کے لئے سینیٹ آف پاکستان کی قائمہ کمیٹی برائے اعلیٰ تعلیم کا اجلاس 22 اکتوبر کو کنوینر بشریٰ انجم بٹ کی زیر صدارت قومی اسمبلی بلڈنگ، اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹرز مسرور احسن، جان محمد بلیدی، خالدہ عتیب اور فلک ناز سمیت چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد، ڈائریکٹر فنانس ایچ ای سی، وزارتِ وفاقی تعلیم کے خصوصی نمائندے اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری بھی اجلاس میں موجود تھے۔کمیٹی کی خصوصی دعوت پر وفاقی اردو یونیورسٹی کے اساتذہ کے نامزد کردہ اراکین ڈاکٹر سید اقبال حسین نقوی اور ڈاکٹر روشن علی سومرو، شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی ڈاکٹر رضوانہ جبین، انجمن اساتذہ گلشن اقبال کیمپس کی پروفیسر سعدیہ خلیق اور شعبہ ابلاغِ عامہ کے انچارج ڈاکٹر عرفان عزیز اور اسسٹنٹ ریاض میمن نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں وائس چانسلر کی جانب سے کمیٹی کی واضح تحریری ہدایت کے باوجود یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کا اجلاس نامکمل کورم کے ساتھ طلب کرنے، اس میں اساتذہ اور دیگر ملازمین کو مبینہ طور پر خلافِ ضابطہ ملازمتوں سے جبری رخصت کرنے، ملازمین کی تنخواہوں کو روکنے، ہاؤس سیلنگ الاؤنس میں 20 فیصد کٹوتی اور اساتذہ کو اقدام قتل کے مقدمے میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ FIR درج کروانے کی کوشش اور دیگر اہم انتظامی فیصلوں پر سخت سوالات اٹھائے گئے۔